30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۳) حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں کہ نجاشی بادشاہ نے رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں کچھ زیورات بطورِ تحفہ بھیجے جن میں ایک حبشی نگینے والی انگوٹھی بھی تھی ۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس انگوٹھی کو چھڑی یا اَنگشتِ مبارکہ سے مَس کیا(یعنی چُھوا) اور اپنی نواسی اُمامہ کو بلایا جو شہزادیٔ رسول حضرتِ سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا کی بیٹی تھیں اور فرمایا : ’’اے چھوٹی بچی ! اسے تم پہن لو ۔ ‘‘
( ابو داوٗد ، کتاب الخاتم ، باب ماجاء فی ذھب للنساء ، ۴ / ۱۲۵ ، حدیث : ۴۲۳۵)
(۴) حضرتِ سیِّدُنا ابوقتا دہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس
تشریف لائے تو آپ (اپنی نواسی)امامہ بنت ابوالعاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاکو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنماز پڑھانے لگے تو رکوع میں جاتے وَقْت انہیں اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو انہیں اٹھا لیتے ۔ (بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمۃ الولد ، ۴ / ۱۰۰ ، حدیث : ۵۹۹۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۹)مکان میں نئے بچے کی ولادت کو منحوس جاننا
بعض لوگ رہنے کے پرانے مکان میں نئے بچے کی ولادت کومنحوس جانتے ہیں ، اسی طرح کا ایک سوال(فارسی زبان میں ) اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی خدمت میں کیا گیا کہ علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس رسم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ بنگال میں یہ رواج ہے کہ نومَولُود کی ولادت کے لئے اس کی ولادت سے قبل الگ کمرہ تعمیر کیا جاتاہے اور پہلے سے تعمیرشدہ مکان جہاں وہ رہائش پذیرہوتے ہیں اس میں نئے بچے کی ولادت منحوس خیال کی جاتی ہے۔ کیا ان کا یہ اقدام شَرْعاً جائز ہے یانہیں ؟ اور حضرتِ سیِّدُنا رسولُ اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایسے ہوتا تھا یا نہیں ؟ (ت) امامِ اہلسنّت ، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے جواب دیا : یہ قبیح (یعنی بُری)رسم اس پاک زمانے میں بالکل نہ تھی بلکہ اس کے بعد بھی عرصہ دراز تک بلکہ اب تک عام اسلامی ممالک میں اس کا نام ونشان تک نہیں پایا جاتا ، یہ ہندوانہ اور مشرکانہ رسوم کے مشابہ بلکہ ان سے بھی بَدتر ہے کیونکہ ہندو بھی ایسا نہیں کرتے اگر یہ عمل بَدفالی اور گمراہی کے خیال سے نہ ہو تب بھی بوجہِ اسراف مَعْیُوب ہے جبکہاللہ تعالٰی کا اِرشادہے :
وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ(۱۴۱) (پ۸ ، انعام : ۱۴۱)
(ترجمۂ کنزالایمان : اور بے جا نہ خرچو بے شک بے جا خرچنے والے اسے پسند نہیں۔ )
یہ اقدام متعدد وُجوہ کی بنا پر فائدے اور بھلائی سے خالی ہے اور تَبذِیر کے زُمرے میں آتاہے جبکہاللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ
اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۲۷)
(ترجمۂ کنزالایمان : بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ )
اس وہم کی بنیاد شیطانی ہے مزید یہ کہ اس میں بَدفالی وبَد شگونی والی گمراہی بھی شامل ہے۔ سیِّد عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا بُری فال نکالنا اور اس پر کار بندہونا مشرکین کا طریقہ اور دستور ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۲۶۴ تا۲۶۶ملخصًا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۰) گرہن سے جڑے ہوئے توہمات
سورج اور چاند گرہن کے بارے میں لوگ اِفراط و تفریط کاشکار نظر آتے ہیں۔ کہیں تو سورج گرہن کا (مخصوص شیشوں کے ذریعے)نظارہ کرنے کے لئے پارٹیاں منعقد کی جاتی ہیں اور کہیں گرہن کے بارے میں مختلف تصورات وتوہُّمات پائے جاتے ہیں ، مثلاً : ٭ گرہن اس وَقْت لگتا ہے جب سورج کو بلائیں اور خوفناک جانور نگل لیتے ہیں ، ایک ویب سائٹ سے لی گئی معلومات کے مطابق جب بھی چاند کوگرہن لگتا تو قدیم چین کے لوگ اکھٹے مل کے پوری قوت سے شور مچاتے ، ان کا عقیدہ تھا کہ چاند کو ایک بہت بڑا اژدھا کھا رہا ہے ، ہمارا یہ شور چاند کو بچانے کی کامیاب کوشش ہے۔ چاند گرہن اپنے وَقْت پر خَتْم ہوجاتا لیکن
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع