30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاثیرات بتائی جاتی ہیں کہ فلاں ستارہ طلوع کرے گا تو فلاں بات ہوگی ، یہ بھی خلافِ شَرع ہے۔ اس طرح نِچَھتَّروں کا حساب کہ فلاں نِچَھتَّر(یعنی ستاروں کی منزل) سے بارش ہوگی یہ بھی غَلَط ہے ، حدیث میں اس پر سختی سے انکار فرمایا۔ (بہار شریعت ، ۳ / ۶۵۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 590 صفحات پر مشتمل کتاب ’’حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز کی 425حکایات ‘‘کے صفحہ90 پر ہے : امیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللہِ الْعَزِیز کے غلام مُزاحِم کا بیان ہے : جب ہم مدینۂ طیِّبہ زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً وَّ تَکْرِیماً سے نکلے تو میں نے دیکھا کہ چاند ’’ دَبَران ‘‘ میں ہے ، میں نے ان سے یہ کہنا تو مناسب نہ سمجھا بلکہ یہ کہا : ذرا چاند کی طرف نظرفرمایئے ، کتنا خوبصورت نظر آتاہے! آپ رحمۃاللہ تعالٰی علیہ نے دیکھا تو چاند دَبَران([1]) میں تھا ، فرمایا : شاید تم مجھے یہ بتانا چاہتے ہو کہ چاند دَبَران میں ہے ، مُزاحِم!ہم چاند سورج کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ واحد وقہّار کے حُکم و مَشَیِّت کے ساتھ نکلتے ہیں۔ (سیرت ابن عبدالحکم ، ص۲۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۶) نُجومی کو ہاتھ دکھانا
بہت سے لوگ کاہنوں ، نُجومیوں ، پروفیسروں اور رَمل و جَفَر کے جھوٹے دعویداروں کے ہاں جا کر قسمت کاحال معلوم کرتے ہیں ، اپنا ہاتھ دکھاتے ہیں ، فالنامے نکلواتے ہیں ، پھر اس کے مطابق آیندہ زندگی کا لائحہ عمل بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل میں نقصان ہی نقصان ہے چنانچہ امامِ اہلسنّت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : کاہِنوں اور جَوتِشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اِعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے ، اسی کو حدیث میں فرمایا : فَقَدْ کَفَرَ بِمَانُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّد یعنی اس نے محمدصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم پر نازل ہونے والی شے کا انکار کیا ([2]) اور اگر بطورِ اِعتِقاد وتَیَقُّن (یعنی یقین رکھنے کے)نہ ہو مگر مَیل ورَغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے ، اسی کو حدیث میں فرمایا : لَمْ یَقْبَلِ اﷲُ لَہُ صَلٰوۃَ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًا ش تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا ، اور اگر بطور ہَزْل واِستہزاء (یعنی ہنسی مذاق کے طور پر)ہو توعَبَث(یعنی بے کار) ومکروہ وحماقت ہے ، ہاں ! اگر بقصدِتَعْجِیْز(یعنی اسے عاجز کرنے کے لئے )ہو تو حَرَج نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۱۵۵)
کاہنوں کی بعض باتیں دُ رُست ہونے کی وجہ
حضرتِ سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے کاہنوں (یعنی ان کی باتیں قابل اِعتماد ہونے یا نہ ہونے )کے بارے میں پوچھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ان کی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!جو خبر وہ دیتے ہیں بعض اوقات وہ سچ نکلتی ہیں ۔ اِرشاد فرمایا : وہ کلمہ جن سے سنا ہوا ہوتا ہے جسے جِنی اُچک لیتی ہے اور اپنے دوست( کاہن) کے کان میں اس طرح ڈال دیتی ہے جس طرح ایک مرغی دوسری مرغیوں کے کان میں آواز پہنچاتی ہے ، پھر کاہِن اس کلمہ میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں مِلا دیتے ہیں۔ (مسلم ، کتاب السلام ، باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان ، ص۱۲۲۴ ، حدیث : ۲۲۲۸)
نُجومی کے پاس جانے والوں کے لئے سبق آموز حکایت
علمِ نجوم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ ایک روز میرے پاس دو میاں بیوی آئے۔ دونوں میں جھگڑا چل رہا تھا۔ میں نے دونوں کا ہاتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع