دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bad shuguni | بد شگونی

book_icon
بد شگونی

ہم پراللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا ہے اور ستاروں  کا انکار کرنے والا ہے اور جن لوگوں  نے کہا : ہم پرفلاں  فلاں  ستارے کے سبب بارش ہوئی ، کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَواکِب یعنی وہ میرے منکراور ستاروں  کے ماننے والے ہوئے۔

(بخاری ، کتاب الاذان ، باب یستقبل الامام الناس اذا سلم ۱ / ۲۹۵  ، حدیث : ۸۴۶)

          شارحِ بُخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیاس حدیث کے تحت لکھتے ہیں  : اگر یہ اِعتقاد ہو کہ ستارے ہی بارش برساتے ہیں  تو یہ اِعتقاد کُفْر ہے اور اگر یہ اِعتقاد ہو کہ بارش بِاِذنِ اِلٰہی (یعنی اللہ تعالیٰ کی اِجازت  سے)برستی ہے مختلف ستاروں  کا طلوع وغروب اس کی علامت ہے تو اس میں  کوئی حَرَج نہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ فلاں  نِچَھتَّرکی وجہ سے بارش ہوئی ممنوع ہے اور یہ کہنا کہ فلاں  نِچَھتَّر(ستاروں  کی منزل)میں  بارش ہوئی جائز ہے ۔ (کَافِرٌ بِیْ مُؤْمِنٌ بِالْکَواکِب  کی تشریح میں  مفتی صاحب لکھتے ہیں : )یہاں  کُفْر اور ایمان کے لُغوی معنی مراد ہیں  یعنی میرا مُنکِر (یعنی انکار کرنے والا)اور نِچَھتَّر(یعنی ستاروں  کی منزلوں ) کا ماننے والا ہے ۔ (نزھۃ القاری ، ۲ / ۴۹۵ ، ۴۹۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

جس ستارے کو جہاں چاہے پہنچا دے

          ایک دن مولانا محمد حسین میرٹھی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کے والد صاحب(جو علمِ نجوم میں  بڑی مہارت رکھتے تھے ) اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے پاس آئے توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اُن سے دریافت فرمایا : فرمائیے !بارش کا کیا اندازہ ہے کب تک ہوگی ؟ انہوں  نے ستاروں  کی وضع سے زائچہ بنایا اوربتایا : اِس مہینہ میں  پانی نہیں  ہے آئند ہ ماہ میں  ہوگا۔ یہ کہہ کر و ہ زائچہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی طرف بڑھا دیا۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے دیکھ کر فرمایا : اللہ تعالیٰ کو سب قدر ت ہے چاہے تو آج بارش ہو ۔ اُنہوں  نے کہا : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟آپ ستاروں  کی وَضع کو نہیں  دیکھتے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : میں  سب دیکھ رہا ہوں  اور اس کے ساتھ ساتھ ستاروں  کے واضع (بنانے والے )اور اُس کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس مشکل مسئلے کو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے آسان طریقے پر سمجھا دیا۔ وہ اس طرح کہ سامنے گھڑی لگی ہوئی تھی ، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُن سے پوچھا : وَقْت کیاہواہے ؟ بولے : سواگیارہ بجے ہیں۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : بارہ بجنے میں  کتنی دیر ہے؟ شاہ صاحب بولے : ’’ٹھیک پون گھنٹہ(یعنی 45منٹ)۔ ‘‘ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُٹھے اور بڑی سوئی کو گھما دیا فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ اب اعلیٰ حضرت نے فرمایا : آپ نے تو کہا تھا ٹھیک پون گھنٹہ ہے بارہ بجنے میں  ۔ شاہ صاحب بولے : آپ نے اسکی سوئی کھسکا دی ورنہ اپنی رفتا ر سے پون گھنٹے ہی کے بعد بارہ بجتے ۔ اعلیٰ حضرت  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا : اِسی طرح اللہ ربُّ العزت قادر ِ مُطْلَق ہے کہ جس ستارے کو جس وَقْت جہاں  چاہے پہنچا دے ، وہ چاہے تو ایک مہینہ کیا ، ایک ہفتہ کیا ، ایک دن کیا ، ابھی بارش ہونے لگے۔ اتنا زبان مبارک سے نکلنا تھا کہ چاروں  طرف سے گھنگھور (گہری)گھٹا آگئی اور پانی برسنے لگا ۔   (تجلیات ِ امام احمد رضا ، ص۱۱۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

نُجومیوں  کے ڈھکوسلے

        صَدرُ الشَّریعہ  ،  بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیاِرشادفرماتے ہیں : قمردَرعَقْرَب یعنی چاند جب بُرجِ عقرب  ([1]) میں  ہوتا ہے تو سفر کرنے کو بُراجانتے ہیں  اور نُجومی اسے منحوس بتاتے ہیں  اور جب برجِ اسد میں  ہوتا ہے تو کپڑے قَطع کرانے(یعنی کٹوانے) اور سلوانے کو بُراجانتے ہیں۔ ایسی باتوں  کو ہرگز نہ مانا جائے ، یہ باتیں  خلافِ شرع اور نُجومیوں  کے ڈھکوسلے ہیں۔ نجوم کی اس قسم کی باتیں  جن میں  ستاروں  کی



   [1] صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادی تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا ۱۹ ، الفرقان ، آیت : ۶۱) ترجمہ کنزالایمان : بڑی بَرَکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے۔ )کے تحت تفسیر خزائن العرفان صفحہ 678 پر لکھتے ہیں : حضرت ابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمانے فرمایا کہ بروج سے کواکبِ سبعہ سیّارہ کے منازل مراد ہیں جن کی تعداد بارہ ہے (ا)حَمَل (۲)ثَور (۳)جَوزا (۴)سَرطان (۵)اَسَد (۶)سُنبُلہ (۷)مِیزان (۸)عَقْرَب (۹)قَوس (۰ا)جَدِی (۱۱)دَلْو (۱۲)حُوت ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن