30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
منحوس جانتے تھے اور کہتے تھے کہ اس مہینہ کا نکاح کامیاب نہیں ہوتا میاں بیوی کے دل نہیں ملتے۔ (مرقاۃالمفاتیح ، ۶ / ۳۰۲) اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کسی زمانے میں شوال کے مہینے میں طاعون واقع ہوا جس میں بہت سی دلہنیں ہلاک ہوگئیں ، اس کے سبب لوگ شوال میں شادی کو منحوس سمجھنے لگے جبکہ شریعت مطہرہ نے اس تصوُّر کو غَلَط قرار دیا ہے۔ ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں : سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیااور زِفاف بھی ، تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوب تھی !(مسلم ، کتاب النکاح ، ۷۳۹ ، حدیث : ۱۴۲۳) مراٰۃالمناجیح میں ہے : مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج مطہرات (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُن)میں حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) کو زیادہ محبوبہ تھی اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی مقبول کیوں ہوتی!علماء فرماتے ہیں کہ ماہ شوال میں نکاح مستحب ہے۔ (مراۃ المناجیح ۵ / ۳۲ ، ۳۳)
مخصوص تاریخوں میں شادی نہ کرنے کے بارے میں سُوال جواب
میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے سُوال ہوا : اکثر لوگ 3 ، 13یا 23 ، 8 ، 18 ، 28وغیرہ تواریخ اور پنجشنبہ و یکشنبہ و چہارشنبہ(یعنی جمعرات ، اتواراور بدھ) وغیرہ ایام کو شادی وغیرہ نہیں کرتے۔ اِعتقاد یہ ہے کہ سَخْت نقصان پہنچے گا ان کا کیا حکم (ہے)؟ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جوابدیا : یہ سب باطِل و بے اصل ہے۔ وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ / ۲۷۲)
(۵)ستاروں کے اچھے بُرے اثرات پر یقین رکھنا کیسا ؟
خود کو پڑھا لکھا سمجھنے والوں کی بہت بڑی تعداد ستاروں کے اثرات کی اس قدر قائل ہوتی ہے کہ شادی اور کاروبارجیسے اہم فیصلے بھی ستاروں کی نَقْل وحرکت کے مطابق کرتی ہے ، ایسے لوگ ستارہ شناسی کا دعویٰ کرنے والوں کا آسان شکار ہوتے ہیں جو ان کو بے وقوف بنا کر بڑی بڑی رقمیں بٹورتے رہتے ہیں ۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی کا رشتہ طے ہوچکا ہوتا ہے ، ضَروری چھان بین بھی ہوچکی ہوتی ہے لیکن ایک فریق یہ کہہ کررشتے سے انکار کردیتا ہے کہ ہم نے پتا کروایا ہے کہ لڑکے اور لڑکی کا ستارہ آپس میں نہیں ملتالہٰذا یہ شادی نہیں ہوسکتی ۔ میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا کہ کواکبِ فلکی (یعنی آسمانی ستاروں )کے اثراتِ سعد و نَحْس (یعنی اچھے اور منحوس اثرات)پر عقیدت(یعنی بھروسا) رکھنا کیساہے؟ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا : مسلمان مُطِیع (یعنی اطاعت گزار مسلمان)پر کوئی چیز نَحْس(یعنی منحوس) نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سَعد(یعنی اچھا)نہیں ، اور مسلمان عاصی(یعنی نافرمانی کرنے والے مسلمان) کے لئے اس کا اسلام سَعد (یعنی نیک بختی)ہے۔ طاعت(یعنی عبادت) بشرطِ قبول سعد(یعنی نیک بختی) ہے۔ مَعْصِیت (یعنی گناہ گاری)بجائے خود نَحْس(یعنی منحوس)ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نُحوست سے بچالیں بلکہ نُحوست کو سعادت کردیں ،
فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ- (پ۱۹ ، الفرقان : ۷۰)(ترجمۂ کنزالایمان : تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا ۔ )
بلکہ کبھی گناہ یوں سعادت ہوجاتا ہے کہ بندہ اس پر خائف وترساں وتائب وکوشاں رہتاہے ، وہ دُھل گیا اور بہت سی حَسَنات(یعنی نیکیاں ) مل گئیں ، باقی کواکب میں کوئی سعادت ونُحوست نہیں اگر ان کو خود مُؤَثِّر (یعنی اثر کرنے والا)جانے شِرْک ہے اور ان سے مدد مانگے تو حرام ہے ، ورنہ ان کی رعایت ضَرورخلافِ توکُّل ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۲۲۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنا زید بن خالد جُہنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُبیان کرتے ہیں : رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے ہمیں حُدیبیہ کے مقام پر بارش کے بعد صبح کی نماز پڑھائی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تولوگوں کی جانب رُخ انور کیا اور اِرشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ نے کیا فرمایا؟لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں ۔ اِرشادفرمایا : اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا ہے کہ میرے بندوں نے صبح کی تو کچھ مومن ہوئے اور کچھ کافر ، جس نے کہا :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع