30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیلکھتے ہیں : ماہ صفر کا آخر چہار شنبہ(بُدھ) ہندوستان میں بہت منایا جاتا ہے ، لوگ اپنے کاروبار بند کردیتے ہیں ، سیر و تفریح و شکار کو جاتے ہیں ، پُوریاں پکتی ہیں اور نہاتے دھوتے خوشیاں مناتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس روز غسلِ صحت فرمایا تھا اور بیرونِ مدینہ طیبہ سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں بلکہ ان دنوں میں حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مرض شدت کے ساتھ تھا ، وہ باتیں خلافِ واقع ہیں۔ اور بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس روز بلائیں آتی ہیں اور طرح طرح کی باتیں بیان کی جاتی ہیں سب بے ثبوت ہیں۔ (بہار شریعت ، ۳ / ۶۵۹)
صفر کے مہینے میں پیش آنے والے چندتاریخی واقعات
٭صفر المظفر پہلی ہجری میں حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورخاتونِ جنت حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاکی شادی خانہ آبادی ہوئی۔ (الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۱۲)٭صفر المظفر سات ہجری میں مسلمانوں کو فتحِ خیبر نصیب ہوئی۔ (البدایۃ والنہایۃ ، ۳ / ۳۹۲) ٭سیفُ اللہحضرتِ سیِّدُنا خالد بن ولید ، حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن عاص اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن طلحہ عبدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے صفر المظفرآٹھ ہجری میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکراسلام قبول کیا۔ (الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۱۰۹)٭ مدائن (جس میں کسرٰی کا محل تھا ) کی فتح صفر المظفر سولہ ہجری ہی کے مہینے میں ہوئی۔
(الکامل فی التاریخ ، ۲ / ۳۵۷)
کیا اب بھی آپ صفر کو منحوس جانیں گے؟یقیناً نہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۳) چھینک سے بَدشگونی لینا
بعض لوگ چھینک کو بَدشگونی سمجھتے ہیں اگر کسی کام کے لئے جاتے وَقْت خود کو یا کسی اور کو چھینک آگئی تو لوگ یہ بَدفالی لیتے ہیں کہ یہ کام نہیں ہوگا ، یہ بہت بڑی جہالت اور بے عقلی کی دلیل ہے۔ اعلیٰ حضرت ، مجدِّدِ دین وملت مولاناشاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا : چھینک اچھی چیز ہے ، اسے بَدشگونی جاننا مشرکینِ ہند کا ناپاک عقیدہ ہے۔ حدیث ([1]) میں تو یہ اِرشادفرمایا : لَعَطْسَۃٌ وَاحِدَۃٌ عِنْدَ حَدِیْثٍ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ شَاھِدٍ عَدْلٍبا ت کے وَقْت چھینک عادل گواہ ([2])ہے۔ ([3]) یعنی جو کچھ بیان کیا جاتا ہو جس کا صِدْق وکِذْب (یعنی سچا اور جھوٹا ہونا )معلوم نہیں اور اس وَقْت کسی کو چھینک آئے تو وہ اس بات کے صدق(یعنی سچا ہونے) پر دلیل ہے۔ ([4])؎ اور یہ بھی آیا ہے کہ دُعا کے وَقْت چھینک آنا دلیلِ قبول ہے۔ ([5]) غرض چھینک محبوب چیز ہے مگر وہ کہ نماز میں آئے حدیث میں اسے شیطان کی طرف سے شمار فرمایا ہے۔([6]) (ملفوظات ، ص۳۱۹ ، ۳۲۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۴) شوال میں شادی نہ کرنا
شریعت نے کسی مہینے یا موسم میں نکاح کرنے سے منع نہیں کیا لیکن کچھ نادان مخصوص مہینوں یا دنوں میں شادی کرنے کو منحوس سمجھتے ہیں ، ان کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ان دنوں میں جو شادیاں ہوتی ہیں ان سے میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں بنتے اور ان میں وہ اُلفت ومحبت پیدا نہیں ہوپاتی جو خوشگوار گھریلو زندگی کے لئے ضَروری ہے۔ بعض علاقوں میں شوال المکرم کو بھی انہی مہینوں میں سے شمار کیا جاتا ہے ۔ اہلِ عرب شوال کے مہینہ میں نکاح یا رُخصتی
[2] علامہ عبدالمصطَفٰے اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں : اب غور کرو کہ جب چھینک کورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ’’ شاہد عدل(یعنی عادل گواہ) ‘‘ کا لقب دیا تو پھر بھلا چھینک منحوس اور بَدشگونی کا سامان کیسے بن سکتی ہے؟ اس لئے لوگوں کو اس عقیدہ سے توبہ کرنی چاہئے کہ چھینک منحوس اور بَدفالی کی چیز ہے۔ خداوند کریم مسلمانوں کو اتباع سنت اور پابندی شریعت کی توفیق بخشے آمین۔ (جنتی زیور ، ۴۳۱)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع