30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے۔ شریعت میں حکم ہے : اِذَا تَطَیَّرْتُمْ فَامْضُوْایعنی جب کوئی شگونِ بَدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔ ([1]) وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ ’’ اَللّٰہُمّ لَاطَیْرَ اِلَّا طَیْرُکَ ، وَلَا خَیْرَ اِلَّا خَیْرُکَ ، وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ‘‘ ([2]) (اے اﷲ!نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں )پڑھ لے اور اپنے رب (عَزَّوَجَلَّ) پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے ، ہر گز نہ رُکے ، نہ واپس آئے۔ وَاﷲُ تعالٰی اَعْلَمُ
(فتاویٰ رضویہ ، ۲۹ / ۶۴۱ ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کسی شخص کو منحوس قرار دینے میں اس کی سَخْت دل آزاری ہے اور اس سے تُہمت دھرنے کا گناہ بھی ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں۔ مذکورہ گناہوں کی مذمّت پر مشتمل 2 روایات ملاحظہ کیجئے اور خوفِ خداوندی سے لرزئیے ، چنانچہ٭ شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جو کسی مسلمان کی بُرائی بیان کرے جو اُس میں نہیں پائی جاتی تو اس کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس وَقْت تک دوزخیوں کے کیچڑ ، پِیپ اور خون میں رکھے گا جب تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نہ نکل آئے۔ ( ابوداوٗد ، کتاب القضیہ ، باب فی الشھادات ، ۳ / ۴۲۷ ، حدیث : ۳۵۹۷ ) ٭ سلطانِ دو جہان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ.(یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذاء دی اُس نے مجھے اِیذاء دی اور جس نے مجھے اِیذاء دی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اِیذاء دی۔ ‘‘ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ، ۲ / ۳۸۷ ، الحدیث۳۶۰۷) اللہ ورسولعَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو اِیذاء دینے والوں کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزابکی آیت 57 میں اِرشادفرماتاہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۵۷)
(پ۲۲ ، الاحزاب : ۵۷)
ترجَمۂ کنزالایمان : بے شک جو ایذاء دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کوان پر اللہکی لعنت ہے دنیا وآخرت میں اور اللہ نے ان کیلئے ذلّت کا عذاب تیارکررکھا ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز ، شخص ، عمل ، آواز یا وَقْت کو اپنے حق میں اچھا یابُرا سمجھنا ۔ اس کی بنیادی طور پردو قسمیں ہیں : (۱) بُرا شگون لینا (۲) اچھا شگون لینا۔ علامہ محمد بن احمد اَنصاری قُرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیتفسیرِ قُرطبی میں نَقْل کرتے ہیں : اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا اِرادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کردلیل پکڑنا ، یہ اس وَقْت ہے جب کلام اچھا ہو ، اگر بُرا ہو تو بَد شگونی ہے۔ شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُراکلام سُنے تو اس کی طرف توجُّہ نہ کرے اورنہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔
(الجامع لاحکام القراٰن للقرطبی ، پ۲۶ ، الاحقاف ، تحت الاٰیۃ : ۴ ، ج۸ ، جزء۱۶ ، ص۱۳۲)
اچھے شگون کی مثال یہ ہے کہ ہم کسی کام کو جارہے ہوں ، کسی نے پکارا : ’’یارَشِید(یعنی اے ہدایت یافتہ)‘‘ ، ’’یا سَعِید(یعنی اے سعادت مند)‘‘ ، ’’اے نیک بَخت ‘‘ہم نے خیال کیا کہ اچھا نام سُنا ہے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ کامیابی ہوگی یا کسی بُزُرگ کی زِیارت ہوگئی اسے اپنے حق میں اچھا سمجھا کہ اب اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ملے گی جبکہ بَدشگونی کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص سفر کے اِرادے سے گھر سے نکلا لیکن راستے میں کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر گئی ، اب اس شخص نے یہ یقین کرلیا کہ اس کی نُحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں ضَرورکوئی نقصان اُٹھانا پڑے گا اور سفر کرنے سے رُک گیا تو سمجھ لیجئے کہ وہ شخص بَدشگونی میں مبتلا ہوگیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں ایک بَدشگونی بھی ہے جس کو بَدفالی بھی کہا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع