30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑھنادشوار ہوجائے تو وہ دُعا کے ذریعے اِستخارہ کر لے ۔ (رَدُّالْمُحتَار ، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ ، ۲ / ۵۷۰)
مشہور محدّث حضرت علامہ ملاعلی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری ’’ مِرقَاۃُ الْمَفَاتِیْح ‘‘ میں لکھتے ہیں : جسے کام میں جلدی ہو تو وہ صرف یہ کہہ لے : اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَاجْعَلْ لِیَ الْخِیَرَۃَ (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا کام بہتر کردے اورمیرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرماکر (اس میں )میرے لیے بہتری رکھ دے)یایہ کہے : اَللّٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتِرْلِیْ وَلَا تَکِلْنِیْ اِلٰی اِخْتِیَارِیْ (اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میرا کام بہتر کردے اور میرے لیے( دو کاموں میں سے بہترکو) اختیار فرما اور مجھے میری پسند کے حوالے نہ فرما) ( مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب التطوع ، ۳ / ۴۰۶)
بُزُرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین سے اِستخارہ کرنے کے اور بھی کئی طریقے اور وظائف منقول ہیں مثلاً تسبیح کے ذریعے اِستخارہ کرنا جوقلیل وَقْت میں مکمل ہوجاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اگر استخارے کے بعد بھی نقصان اٹھانا پڑے تو؟
بعض اوقات انسان اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استخارہ کرتا ہے کہ جس کام میں میرے لیے بہتری ہو وہ ہوجائے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لیے وہ کام عطا کرتا ہے جو اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے لیکن ظاہِری اعتبار سے وہ کام اس شخص کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کے جی میں آتا ہے کہ میں نے تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے یہ چاہا تھا کہ مجھے وہ کام ملے جو میرے لئے بہتر ہو لیکن جو کام ملا وہ تو مجھے اچھا نظر نہیں آرہا ہے ، اس میں میرے لیے تکلیف اور پریشانی ہے ، لیکن کچھ عرصے بعد جب اَنجام سامنے آتا ہے تب اس کو پتہ چلتا ہے کہ حقیقت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے جو فیصلہ کیا تھا وہی اس کے حق میں بہتر تھا ۔ حضرتِ سیِّدُنامکحول اَزدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو فرماتے سنا کہ آدمی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے استخارہ کرتا ہے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لیے کوئی کام پسند فرماتا ہے تو وہ آدمی اپنے رب سے ناراض ہوجاتا ہے لیکن جب وہ آدمی اس کے اَنجام میں نظر کرتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ یہی اس کے لیے بہتر ہے۔
(کتاب الزہد لابن مبارک ، مارواہ نعیم بن حمادالخ ، با ب فی الرضا بالقضا ، ص۳۲ ، حدیث : ۱۲۸)
اس کی مثال یوں سمجھیں بخار میں تپنے ولا بچہ ماں باپ کے سامنے مچل رہا ہے کہ فلاں چیز کھاؤں گا اور ماں باپ جانتے ہیں کہ اس وَقْت یہ چیز کھانا بچے کے لیے نقصان دہ اور مہلک ہے ، چنانچہ ماں باپ بچے کو وہ چیز نہیں دیتے بلکہ کڑوی دوائی کھلاتے ہیں ، اب بچہ اپنی نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھ پر ظُلْم کیا ، میں جو چیز مانگ رہا تھا وہ مجھے نہیں دی اور اس کے بدلے میں مجھے کڑوی کڑوی دوا کھلا رہے ہیں ، اب وہ بچہ اس دوا کو اپنے حق میں خیر نہیں سمجھ رہا ہے لیکن بڑا ہونے کے بعد جب اسے عَقْل وشعور کی نعمت ملے گی تو اس کو سمجھ آئے گی کہ میں تو اپنے لیے موت مانگ رہا تھا اور میرے ماں باپ میرے لیے زندگی اور صحت کا راستہ تلاش کررہے تھے ۔ ہمارا رب عَزَّوَجَلَّ تو اپنے بندوں پر ماں باپ سے کہیں زیادہ مہربان ہے ، اس لئےاللہ عَزَّوَجَلَّ ایک مسلمان کو وہی شے عطا فرماتا ہے جو اَنجام کے اعتبار سے اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے ۔ بعض اوقات اس کا بہتر ہونا دنیا میں پتہ چل جاتا ہے اور بعض کا آخِرت میں معلوم ہوگا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دریائے نیل ہرسال خشک ہوجایا کرتا تھا ، جس سے جہالت کی بنیاد پر لوگ یہ بَدشگونی لیتے کہ دریا کو جان کی طَلَب ہے چنانچہ وہ ایک کنواری لڑکی کو عمدہ لباس اور نفیس زیور سے سجاکر دریائے نیل میں ڈال دیتے جس کے بعد دریا جاری ہوجایا کرتا تھا ۔ جب مصرفتح ہوا تو ایک روز اہلِ مِصرنے حضر ت سیِّدُنا عَمْرو بن عاص
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع