30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ(عَزَّوَجَلَّ) اگر تیرے عِلْم میں یہ اَمْر (جس کا میں قصد واِرادہ رکھتا(رکھتی) ہوں ) میرے دین و ایمان اور میری زندگی اور میرے اَنجام کار میں دنیا و آخِرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر کردے اور میرے لیے آسان کردے پھر اس میں میرے واسطے بَرَکت کردے ۔ اے اللہ(عَزَّوَجَلَّ ) اگرتیرے عِلْم میں یہ کام میرے لیے بُرا ہے میرے دین وایمان میری زندگی اور میرے اَنجام کار دنیا وآخِرت میں تو اس کومجھ سے اور مجھ کو اس سے پھیر دے اور جہاں کہیں بہتری ہو میرے لیے مقدر کرپھر اس سے مجھے راضی کردے۔ ) (بُخارِی ، کتاب التہجد ، باب ما جاء فی التطوع مثنی مثنی ، ۱ / ۳۹۳ ، حدیث : ۱۱۶۲ ، رَدُّالْمُحتار ، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ ، ۲ / ۵۶۹)
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی فرماتے ہیں : حدیث میں وار ِد اس دعامیں ’’ھٰذَا الْاَمْرَ‘‘کی جگہ چاہے تو حاجت کا نام لے یا اُس کے بعد۔ (ردالمحتار ۲ / ۵۷۰)یعنی اگر عربی جانتا ہے تو اس جگہ اپنی حاجت کا تذکرہ کرے یعنیھٰذَا الْاَمْرَ کی جگہ اپنے کام کا نام لے ، مثلاً ھٰذَا السَّفْرَ یا ھٰذَا النِّکَاحَ یا ہٰذِہِ التِّجَارَۃَ یا ہٰذَا الْبَیْعَ کہے ، اور اگر عربی نہیں جانتا تو ’’ ھٰذَا الْاَمْرَ ‘‘ ہی کہہ کر دل میں اپنے اس کام کے بارے میں سوچے اور دھیان دے جس کے لیے استخارہ کررہا ہے۔
نمازِ اِستِخارہ میں کون سی سُورَتیں پڑھیں ؟
مُستحب یہ ہے کہ اس دُعا کے اوّل آخراَلْحَمْدُللہاور دُرود شریف پڑھے اور پہلی رَکعت میں قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَۙ(۱) اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) پڑھے اور بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ پہلی میں وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُؕ-مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۶۸) وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(۶۹) (پ۲۰ ، القصص : ۶۸ ، ۶۹)
اوردوسری میں وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) (پ۲۲ ، الاحزاب : ۳۶) پڑھے۔ (رَدُّالْمُحتَار ، ۲ / ۵۷۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بعض مشائخِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلامسے منقول ہے کہ دُعائے مذکور پڑھ کر باطہارت قبلہ رُو سو رہے اگر خواب میں سفیدی یا سبزی دیکھے تو وہ کام بہتر ہے اور سیاہی یا سُرخی دیکھے تو بُرا ہے اس سے بچے۔ (رَدُّالْمُحتَار ، ۲ / ۵۷۰) مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے بھی اس مسئلہ کی تفصیل اِرشادفرمائی ہے : بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگرسوتے وَقْت دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعاپڑھے پھر با وضو قبلہ رو ہو جائے تو اگر خواب میں سبزی یا سفید جاری پانی یا روشنی دیکھے تو کامیابی کی علامت ہے اور اگر سیاہی یا گدلا پانی یا اندھیرا دیکھے تو ناکامی اور نامُرادی کی علامت ہے سات روز یہ عمل کرے ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس دوران خواب میں اشارہ ہوجائے گا ۔ (مراٰۃُ المناجیح ، ۲ / ۳۰۲ )
سات مرتبہ ِاستخارہ کرنا بہتر ہے
بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کہ ایک حدیث میں ہے : ’’اے اَنس! جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے ربعَزَّوَجَلَّسے اس میں سات بار استخارہ کر پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گزرا کہ بیشک اُسی میں خیر ہے۔ ‘‘
(رَدُّالْمُحتَار ، کتاب الصلاۃ ، مطلب فی رکعتی الاستخارۃ ، ۲ / ۵۷۰وعمل الیوم واللیل لابن سنی باب کم مرۃ یستخیراللہ عزوجل۔ ص ۵۵۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
استخارہ کرنے کے بعداگر خواب میں کوئی اشارہ نہ ہو تو اپنے دل کی طرف دھیان کرنا چاہیے ، اگر دل میں کوئی پختہ اِرادہ جم جائے یا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں از خود رُجحان بدل جائے اسی کو استخارہ کا نتیجہ سمجھنا چاہیے اور طبیعت کے غالب رُجحان پر عمل کرنا چاہیے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
صِرْف دُعا کے ذریعے بھی استخارہ کیا جاسکتا ہے
علامہ ابن عابدین شامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامیفتاویٰ شامی میں لکھتے ہیں : وَلَوْ تَعَذَّرَتْ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ اِسْتَخَارَ بِالدُّعَاءِیعنی اوراگر کسی پر نماز ِاستخارہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع