دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bad shuguni | بد شگونی

book_icon
بد شگونی

اسے سختی سے منع فرما دیا ہے ، اِرشادہے :  وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِؕ- (پ۶ ، المائدۃ : ۳)تم پر حرام کیا گیا ہے پانسوں  سے قسمت کا حال معلوم کرنا۔  (نزھۃالقاری ، ۳ / ۱۰۵)

فال کھولنے کے بارے میں  اعلیٰ حضرت کا فتویٰ

           میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے ایسے شخص کے بارے میں  سُوال کیا گیا کہ جو شخص فال کھولتا ہو ، لوگوں  کو کہتاہو : تمہاراکام ہو جائے گا یا نہ ہوگا ، یہ کام تمہارے واسطے اچھا ہو گا یا بُراہو گا ، اس میں  نفع ہو گا یا نقصان ؟تواعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا : (۱) اگر یہ احکام قطع ویقین کے ساتھ لگاتا ہو جب تووہ مسلما ن ہی نہیں  ، اس کی تصدیق کرنے والے کو صحیح حدیث میں  فرمایا : فَقَدْ کَفَرَ بِمَانُزِّل عَلٰی مُحَمَّد یعنی اس نے اس چیز کے ساتھ کُفْر کیا جو محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پر اُتاری گئی ([1]) اور(۲) اگر یقین نہیں  کرتا جب بھی عام طور پر جو فال دیکھنا رائج ہے معصیت (یعنی گناہ)سے خالی نہیں۔  (فتاوی ٰرضویہ ، ۲۳ / ۱۰۰ملخصًا)

فال کی اُجرت لینے کا حکم

             مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان تفسیرِ نعیمی میں  لکھتے ہیں  : فال کھولنا یافال کھولنے پر اُجرت لینا یادینا سب حرام ہے۔  ( نور العرفان ، پ۷ ، المائدہ ۹۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِِستِخارہ سکھاتے تھے

          سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے لوگوں  کو فال کی جگہ اِستخارہ کی تعلیم دی ہے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداﷲ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہم کو تمام اُمور میں  استخارہ تعلیم فرماتے جیسے قرآن کی سُورت تعلیم فرماتے تھے۔  (بُخارِی ، کتاب التہجد ، باب ما جاء فی التطوع مثنی مثنی ، ۱ / ۳۹۳ ، حدیث۱۱۶۲)

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں  : اِستخارہ کے معنی ہیں  خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا ، چونکہ اس دُعا و نماز میں  بندہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ سے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں  کام کروں یا نہ کروں  اسی لئے اسے اِستخارہ کہتے ہیں۔

(مراٰۃ المناجیح ، ۲ / ۳۰۱ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِستخارہ کرنے والا نقصان میں  نہیں  رہے گا

            حضورِ پاک ، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :  مَا خَابَ مَنِ ا سْتَخَارَ ،  وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ،  وَلَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ یعنی جو اِستخارہ کرے وہ نقصان میں  نہ رہے گا ، جو مُشاورت سے کام کرے وہ پشیمان نہ ہوگا اور جس نے میانہ رَوِی اختیار کی وہ محتاج نہ ہوگا۔

(مجمع الزوائد ، کتاب الصلاۃ ، باب الاستخارۃ ،  ۲  /  ۵۶۶ ، حدیث : ۳۶۷۰)

استخارہ چھوڑنے کا نقصان

          سرکارِمدینۂ منوّرہ ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : مِنْ شَقَاوَۃِ بْنِ آدَمَ تَرْکُہُ اسْتِخَارَۃَ اللہِ یعنی بندے کی بَدبختی میں  سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اِستخارہ کرنا چھوڑ دے۔   (ترمذی ، کتاب القدر ،  باب ما جاء فی الرضا بالقضاء  ،  ۴ / ۶۰ ، حدیث  : ۲۱۵۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اِستخارہ کن کاموں  کے بارے میں  ہوگا ؟

            صِرْف ان کاموں  کے بارے میں  استخارہ ہوسکتا ہے جو ہر مسلمان کی رائے پر چھوڑے گئے ہیں  مثلاً تجارت یا ملازمت میں  سے کس کا انتخاب کیا جائے ؟



   [1] ترمذی ، کتاب الطہارۃ ، باب ما جاء فی کراہیۃ اتیان الحائض ، ۱ / ۱۸۵ ، حدیث : ۱۳۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن