30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھی۔ بہرحال میں اس کشتی پر سوار ہوگیا ، جب دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچا تو میں نے آواز لگائی : اے بوجھ اٹھانے والے مزدور! میرا سامان لے چلو ، اس وَقْت میرے پاس ایک پُرانا لحاف اور کچھ ضَروری سامان تھا۔ جس مزدُورنے مجھے جواب دیا وہ ایک آنکھ والا (یعنی کانا)تھا ، میں نے کہا : یہ چوتھی بَدفالی ہے۔ میرے جی میں آئی کہ یہاں سے واپس لوٹ جانے میں ہی عافیت ہے لیکن پھر اپنی حاجت کو یاد کرکے واپسی کا اِرادہ تَرْ ک کردیا۔ جب میں سرائے(مسافر خانے) پہنچا اور ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کروں کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا : کون؟تو جواب ملا کہ میں آپ سے ہی ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں ؟اس نے کہا : ہاں۔ میں نے دل میں کہا : ’’یا تو یہ دشمن ہے یا پھر بادشاہ کا قاصِد!‘‘ میں نے کچھ دیرسوچنے کے بعد دروازہ کھول دیا۔ اس شخص نے کہا : مجھے فلاں شخص نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اگرچہ میرے آپ سے اِختلافات ہیں لیکن اخلاقی حقوق کی ادائیگی ضَروری ہے ، میں نے آپ کے حالات سُنے ہیں اسلئے مجھ پر لازِم ہے کہ آپ کی ضروریات کی کفالت کروں۔ اگر آپ ایک یا دو ماہ تک ہمارے یہاں قیام کریں تو
آپ کی زندگی بھر کی کَفالت کی ترکیب ہوجائے گی اور اگر آپ یہاں سے جانا چاہتے ہیں تو یہ 30 دینار ہیں انہیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلیجئے اور تشریف لے جائیے ہم آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ اس شخص کا بیان ہے کہ اس سے پہلے میں کبھی 30 دینار کا مالک نہیں ہوا تھا نیز مجھ پر یہ بات بھی ظاہِر ہوگئی کہ بَدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ (روح البیان ، ۱ / ۳۰۴ملخصاً)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پارہ 7سورۂ مائدہ کی آیت 90میں اِرشادہوتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۹۰) (پ۷ ، المائدہ : ۹۰)
ترجمۂ : اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور تیروں سے فال نکالنا یہ سب ناپاکی ہیں ، شیطان کے کاموں سے ہیں ، ان سے بچو تاکہ فلاح پاؤ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پانسے ڈالنا(یعنی تیر پھینک کر فال نکالنا) گناہ کا کام ہے
پارہ 6 ، سورۂ مائدہ کی آیت 3میں اِرشادہوتا ہے :
وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِؕ-ذٰلِكُمْ فِسْقٌؕ- (پ۶ ، المائدۃ : ۳)
ترجمہ کنزالایمان : اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا یہ گناہ کا کام ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی لکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت کے لوگوں کو جب سفر یا جنگ یا تجارت یا نکاح وغیرہ کام دَرپیش ہوتے تو وہ تین تیروں سے پانسے ڈالتے اور جو نکلتا اس کے مطابق عمل کرتے اور اس کو حکمِ الٰہی جانتے ، ان سب کی ممانعت فرمائی گئی ۔ (خزائن العرفان ، ص۲۰۷) بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے : تین تیروں میں سے ایک پر لکھا ہوتا : ’’اَ مَرَنِی رَ بِّی (یعنی مجھے میرے رب نے حکم دیا)‘‘دوسرے پر : ’’ نَہَانِی رَبِّی(یعنی مجھے میرے رب نے روکا)‘‘ اور تیسرے تیر پر کچھ نہ لکھا ہوتا ، اگر پہلا تیر نکلتا تو وہ کام کرلیا کرتے ، اگر دوسرا نکلتا تو اس کام سے رُک جاتے اور اگر تیسرا نکلتا تو دوبارہ پانسے ڈالتے ۔ ان تیروں اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا استعمال جائز نہیں۔
(بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ ، باب الخامس والعشرون ، ۲ / ۳۸۵)
بعض لوگ قرآن مجید کا کوئی بھی صفحہ کھول کر سب سے پہلی آیت کے ترجمے سے اپنے کام کے بارے میں خودساختہ مفہوم اَخذکرکے فال نکالتے ہیں ، اس طرح فال نکالنا ناجائز ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے : قرآنی فال ، فالِ دانیال اور اس طرح کی دیگر فال جو فی زمانہ نکالیں جاتی ہیں نیک فالی میں نہیں آتیں بلکہ ان کا بھی وہی حکم ہے جو پانسوں کے تیر وں کا ہے لہٰذا یہ ناجائز ہیں۔ (حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ ، ۲ / ۲۶ملخصًا) جبکہ بریقہ محمودیہ میں ہے : قرآن پاک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع