30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبز گنبد کا عطارؔ منظر تو دیکھ
کس قدر کیف آور مدینے میں ہے ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
برائی کی نسبت اپنی طرف کرنی چاہئے
سورۃ النساء آیت 78میں اِرشادہوتا ہے :
مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ- (پ۵ ، النساء : ۷۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : کہ تو نے ایسے گناہوں کا اِرتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا۔ مسئلہ:یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مَجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی ۔ بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بَدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے ، خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اَسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامت ِنَفْس کے سبب سے سمجھے۔ (خزائن العرفان ، ص۱۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیلکھتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں مشرکین پرندوں پر اِعتماد کرتے تھے ، جب ان میں سے کوئی شخص کسی کام کے لیے نکلتا تو وہ پرندے کی طرف دیکھتا اگر وہ پرندہ دائیں طرف اُڑتا تو وہ اس سے نیک شگون لیتا اور اپنے کام پر روانہ ہوجاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں جانب اُڑتا تو وہ اس سے بَدشگونی لیتا اور لَوٹ آتا ، بعض اوقات وہ کسی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے خود پرندے کو اُڑاتے تھے ، پھر جس جانب وہ اُڑتا تھا اس پر اِعتماد کرکے اس کے مطابق مہم پر روانہ ہوتے یا رُک جاتے۔ جب شریعت آگئی تو ان کو اس طریقہ سے روک دیا۔
(فتح الباری ، کتاب الطب ، باب الطیرۃ ، ۱۱ / ۱۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِ سیِّدُنامعاویہ بن حَکَمْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں : میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم! ہم زمانہ جاہلیت میں کچھ کام کرتے تھے(آپ ہمیں ان کا حکم بتائیے؟)ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے ، سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : کاہنوں کے پاس مت جاؤ ، میں نے پوچھا : ہم (پرندوں وغیرہ سے) شگون بھی لیتے تھے؟ اِرشادفرمایا : یہ ایک چیز (یعنی خیال)ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتاہے لیکن یہ تمہیں (تمہاری حاجت وغیرہ سے)نہ روک دے۔
(مسلم ، کتاب السلام ، باب تحریم الکھانۃ و اتیان الکھان ص۱۲۲۳ ، الحدیث۵۳۷ مع مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الطب و الرقی ، الفصل الاول ، ۸ / ۳۵۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پرندے بھی تقدیر کے مطابق ہی اُڑتے ہیں
حضرتِ سیِّدُنااَ بُوْبُرْدَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بیان کرتے ہیں : میں حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے خودسُنی ہو؟اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُانے جواب دیا : رسولُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع