30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(مدد)کرے ، اور بُرا دوست وہ ہے کہ اگر بندہ نیک کاموں سے غفلت کرے تو وہ اپنے دوست کو مُتَنَبَّہ نہ کرے اور نیک کاموں میں اس کی مدد نہ کرے ۔
حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کر تے ہیں کہ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے لہٰذا آدمی کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس کو اپنا دوست بنا رہا ہے ۔
(ابوداؤد ، کتاب الادب، باب من یومر ان یجالس، ۴/۳۴۱، حدیث:۴۸۳۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آدمی وہی راستہ اختیار کرتا ہے جو اس کے دوست کا ہوتا ہے ، جن لوگوں نے دنیا میں بدکرداروں کے ساتھ دوستی رکھی ہو گی اُنہیں آخرت میں شرمندگی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ وہاں اُن کی زبانوں سے بے اختیار نکلے گا ہائے افسوس!کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا ۔ اس لیے ہمیں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ سنّتوں پرعمل کرنے والے عاشقانِ رسول اسلامی بھائیوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماعات نیز مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لینا چاہئے ۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
{2}علم و حکمت بھرا مدنی مذاکرہ
واہ کینٹ (ضلع روالپنڈی، پاکستان) کے مقیم نوجوان اپنی زندگی کے احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ نمازیں قضا ء کرنا، فلموں کے فحش وبے ہودہ مناظر دیکھ کر شیطان کو خوش کرنا اور عشقیہ وفسقیہ گانے باجے سن کرمست رہنا میرا معمول بن چکا تھا ۔ سنّتوں پر عمل کرنے سے محروم تھا، الغرض میرے ہر طرف گناہوں کا گھٹا ٹوپ تھا، میری گناہوں سے تاریک دنیا میں نیکیوں کی شمع کچھ یوں فروزاں ہوئی، ایک مبلّغِ دعوتِ اسلامی سے ملاقات ہو گئی انہوں نے انفرادی کوشش کے ذریعے دس روزہ اجتماعی اعتکاف کا ذہن دیا، پرخلوص انداز میں دی گئی نیکی کی دعوت دل پر اثرکرگئی اور میں اجتماعی اعتکاف میں بیٹھ گیا، جہاں میرے شب وروز عبادت میں بسر ہونے لگے ، پرسوز بیانات اور رقت انگیز دعاؤں نے میرے دل کی دنیا ہی بدل دی، کرم بالائے کرم یہ کہ اجتماعی اعتکاف میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مدنی مذاکرہ سننے کی سعادت ملی، آپ کے پراثر ملفوظات سے میں اس قدر متأثر ہوا کہ میں نے فوراً اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور نمازوں کی پابندی کا عزم کرلیا ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ترغیب دلانے پر چاند رات کو گھر جانے کے بجائے راہِ خدا کا مسافر بن گیا جہاں علمِ دین کے سنہری موتیوں سے دامن بھرنے کا موقع ملا اورسنّتیں سیکھنے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل کرنے کا جذبہ دل میں موجزن ہوگیا ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
{3}سعادتوں کی معراج
سردار آباد(فیصل آباد، پنجاب) کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے تحریر کردہ بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں آنے سے قبل میں دُنیا کی فانی رونقوں ، آسائشوں ، راحتوں اور نفسانی خواہشوں کی تکمیل میں سرگرداں تھا، نہ نمازوں کی ادائیگی کا ہوش تھا اور نہ ہی مرنے کے بعد کے معاملات کی کوئی فکر تھی، شب و روز گناہوں سے نامۂ اعمال سیاہ کررہا تھا ۔ میری سعادتوں کی معراج یوں ہوئی، خوش قسمتی سے سبز سبز عمامے اور مدنی لباس والے ایک اسلامی بھائی سے ملاقات ہوگئی جنہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے 30 روزہ اجتماعی اعتکاف کی بھرپور ترغیب دلائی اور یوں میں اجتماعی اعتکاف کی بہاریں لوٹنے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ پہنچ گیا ۔ یہاں کے روح پرور مناظر دیکھ کر دل جھوم اُٹھا ۔ وقتاً فوقتاً ہونے والے پرسوز بیانات، سحروافطار کے پُرکیف مناظر اور رقت انگیز مناجات کی برکت سے مرجھائی ہوئی روح مسکرا اُٹھی ۔ رمضان المبارک کی پرنور راتوں میں شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ علم و حکمت کے مدنی پھول دل کے گلدستے میں سجانے کا موقع ملا، جن کی خوشبوؤں سے میرا ظاہر وباطن مہک اٹھا، گناہوں کا تَعَفُّن کافور ہوگیا، سچی توبہ کی توفیق ملی اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے کے جذبے کے تحت مدنی ماحول اختیار کرلیا، دورانِ اعتکاف ہی چہرے پر داڑھی شریف اور سر پر سبز سبز عمامہ شریف کا تاج سجا لیا اور سنّت کے مطابق مدنی لباس زیبِ تن کرنے کی نیّت کر لی ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
{4}ماڈرن نوجوان کی توبہ
منڈی بہاؤ الدین(صوبہ پنجاب، پاکستان)کے مقیم ایک اسلامی بھائی کے تحریر کردہ مکتوب کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کامدنی رنگ چڑھنے سے قبل فیشن کی ہلاکت خیز وادیوں میں بھٹک رہا تھا ۔ عجیب وغریب تراش خراش والے کپڑے پہنناہی مقصدِحیات سمجھ بیٹھا تھا ، ہمہ وقت دل دماغ پر فیشن کا بھوت سوار رہتا ۔ الغرض میں یادِ الہٰی سے یکسر غافل دنیا کی رنگینیوں میں شاغل زندگی کے قیمتی لمحات برباد کررہا تھا ۔ رمضان المبارک کی رحمتوں بھری ساعتوں میں مجھ پر کرم ہوگیا ۔ میری ملاقات ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہوگئی جنہوں نے روزوں کی حقیقی برکتیں لوٹنے کے لیے دس روزہ اجتماعی اعتکاف کی بھرپور ترغیب دلائی ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل وکرم سے اعتکاف کی سعادت مل گئی، جہاں پرسوز بیانات سحر و افطار کے روحانی مناظر بہت اچھے لگے ، کرم بالائے کرم یہ کہ امیرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے علمی’’ مدنی مذاکروں ‘‘ اور رقت انگیز دعاؤں نے دل سے گناہوں کا میل صاف کردیا ۔ میری
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع