30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سمیت گھر کا ہر چھوٹا بڑا فرد ولیٔ کامل، شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے فیضان سے مُستَفِیض ہو رہا ہے اور سب کے سب عطّاری بن گئے ہیں۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ سے فراغت کے بعد تین سال سے منصبِ تَدرِیس پر علمِ دین کے گوہر لٹا رہا ہوں ، جو سیکھا ہے وہ سکھارہا ہوں اور ایک مسجد میں اِمامت و خطابت کے فرائض سَر اَنجام دے رہاہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے والدین کو اجرِ جزیل عطا فرمائے کہ جنہوں نے اپنی خدمت سے مُستَغنِی کر کے مجھے علم کی راہ پر چلایا اور وارثانِ انبیا کی صف میں لاکھڑا کیا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
واڑے والا (تحصیل جتوئی، ضلع مظفرگڑھ) کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مجھے قراٰنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت تو نصیب ہوئی مگر بد قسمتی سے اچھا ماحول نہ ملنے کے سبب میں عاداتِ بد کا شکار ہو گیا تھا۔ افسوس جو آنکھیں قراٰنِ مجید کے دِیدار سے منور ہوتی تھیں ان ہی سے فلمیں ڈرامے دیکھ کر بدنگاہی کے حرام کام کا اِرتکاب کیا کرتا تھا۔ بدنگاہی کی ایسی لَت پڑ چکی تھی کہ مَعَاذَ اللہ دورانِ تلاوت بھی اس جرم سے باز نہ آتا تھا۔ کرکٹ کا بھی بے حد شوقین تھا اور اپنا قیمتی وقت اکثر اس کھیل کے پیچھے گنوا دیا کرتا تھا۔جب بھی کسی ٹیم کا میچ ہوتا تو اس کے پیچھے مَعَاذَ اللہ اپنی نمازیں تک قضا کر دیتا تھا۔ میرے گناہوں کاسلسلہ جاری تھا کہ اسی دوران میرے قاری صاحب نے حفظِ قراٰن کی تکمیل کے بعد مجھے شیرشاہ بائی پاس مدینۃُ الاولیاء (ملتان شریف) کے صحرائے مدینہ میں قائم جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخل کروا دیا جہاں میرے علمِ دین کے حصول کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں جب دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدَنی ماحول میسّر آیا اور سنّتوں کے پیکر اساتذۂ کرام اور نیکی کی دعوت عام کرتے اسلامی بھائیوں کی صحبت نصیب ہوئی تو میرے کردار میں خود بخود تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ نیکیاں کرنے کا شوق بیدار ہو گیا اور گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کا بھی ذہن بننے لگا، پنج وقتہ نمازوں کی پابندی بھی نصیب ہو گئی اور یوں ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی پاکیزگی بھی میرا مقدّر بنتی چلی گئی۔ تادمِ تحریر اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ کے درجہ سادسہ (عالم کورس کے چھٹے سال) میں زیرِ تعلیم ہوں اور تعویذاتِ عطاریہ کا کورس بھی کر چکا ہوں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ضلع پاکپتن شریف ( پنجاب، پاکستان) کے علاقے نئی آبادی خیر آباد کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مدَنی ماحول میں آنے سے قبل مجھے قرآنِ مجید حفظ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی مگر افسوس عملی لحاظ سے میری حالت ابتر تھی۔ داڑھی شریف کٹوانا، فیشن کے طور پر ننگے سر گھومنا، کثرت سے فلمیں ڈرامے دیکھنا، والدین سے بَدسُلُوکی کرنا، کھیل کود میں اپنا قیمتی وقت برباد کرنا، نماز جیسی عظیم عبادت سے غفلت برتنے کے ساتھ ساتھ دیگر برے کاموں میں مگن رہنامیں نے اپنا وتِیرَہ بنا رکھا تھا۔ میرے والدین اور قاری صاحب مجھے بہت سمجھاتے مگر میرے کان پر جوں تک نہ رینگتی اور میں اپنی مستی میں مگن رہتا۔ انہی حالات میں اگر موت آ جاتی تو نجانے میرا کیا بنتا ؟مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہو گیاکہ دعوتِ اسلامی کے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخلہ لینا میرے سُدھرنے کا سبب بن گیا۔ اَساتذہ کی شفقت اور اسلامی بھائیوں کی محبت نے جہاں مجھے اس ماحول کا گروِیدہ بنایا وہیں قراٰن و حدیث کے نور نے میرے باطن کو پُرنور بنایا۔ یہ مدَنی ماحول میرے ظاہرو باطن کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع