30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ مجھے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخل کروا دیں۔ میری دن بدن بڑھتی شرارتوں کے پیشِ نظر والد صاحب نے ان کے مدَنی مشورے کا خیر مقدم کیا اور مجھے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ اِشَاعَتُ الْاِسْلاَم، خانیوال روڈ، مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں داخل کروا دیا۔ مجھے یہاں کا ماحول اچھا لگا، اسکول کی طرح یہاں بھی اساتذہ اور دوست ملے مگر اُن سے مختلف، کیونکہ اِن کا طرزِ زندگی مصطفٰے جانِ رحمت صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی سنّتوں کا آئینہ دار تھا۔ وہ محبت، اُخُوّت، ہمدردی اور رواداری جیسی عظیم اسلامی صفاتِ حَسَنہ سے مُتَّصِف تھے۔ چنانچہ یہی مدَنی ماحول میرے اندر تبدیلی کا عُنصُر بنا اور یوں میں اپنے قلب کو علمِ دین کے نور سے منوّر کرنے لگا اور اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے لگا۔ تادمِ تحریر اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ علمِ دین کے مدَنی پھول سمیٹتے ہوئے دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے نیز ذیلی حلقہ کی مشاورت میں مدَنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں میں ترقی و عروج کے لئے کوشاں ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا ہے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں اِستِقامت عطا فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
چَک نمبر s/p39 (پاکپتن شریف) کے مکین اسلامی بھائی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ 2004 ء کی بات ہے کہ جب مقامی مدرسے میں میرا حفظِ قرآن مکمل ہوا تو عطائے الٰہی سے میرے اندر عالمِ دین بننے کا شوق بیدار ہوا۔ گھر والوں کی بھی یہی خواہش تھی لہٰذا اس سلسلے میں مختلف علمی مراکزکی معلومات حاصل کرنے لگامجھے کسی ایسے ادارے کی تلاش تھی جہاں حصولِ علم دین کے ساتھ ساتھ تربیّت کا بھی مؤثر نظام ہو۔ گناہوں اور فضول کاموں سے بچنے کا ذہن دیا جاتا ہو، نیک بننے اور دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی صلاحیت پیدا کی جاتی ہو۔ میرے شب و روز اسی تجَسُّس میں گزر رہے تھے کہ اسی دوران میرے دل میں علمِ دین کا شوق پیدا فرمانے والے رب عَزَّوَجَلَّ نے میری یوں رہنمائی فرمائی کہ ایک دن جب میں اپنے مدرسے میں نمازِ عشا ادا کر رہا تھا تو اسی دوران دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدَنی ماحول میرے تصور کو مہکا گیا اور علمِ دین کے لیے میری سوچ مدَنی ماحول کی جانب مَبذُول کر گیا۔ بعدِ نماز جب میں نے دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدَنی ماحول کا جائزہ لیا تو دعوتِ اسلامی کی دینِ متین کی خدمات ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے آنے لگیں۔ سنّت کے مطابق ہر وقت سر پر عمامہ شریف، بدن پر سفید لباس ، ہر ایک کو نیکی کی دعوت دینا، علمِ دین پر خصوصی توجّہ دینا، دین کی نشرو اشاعت کے لیے سنّتوں بھرے اجتماعات کا اِنعِقاد نیز راہِ خدا کے مدنی قافلوں میں سفر کے ذریعے دور دراز جاکر خدمتِ دین کرنا واقعی لائقِ تحسین ہے۔ اس کے علاوہ میں نے اپنے ایک دوست سے بھی دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول میں عالم کورس کرنے کا خیال ظاہر کیا تو انھوں نے بھی میرے ارادے کو سراہا اور اُسے مزید تقویّت بخشی۔ بس میں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ اب درسِ نظامی (عالم کورس) دعوتِ اسلامی کے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں ہی کروں گا۔ لہٰذا حفظِ قراٰن کی سندِ فراغت لینے کے بعد میں نے جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں داخلہ لے لیا اور حصولِ علمِ دین میں مشغول ہو گیا۔ اَ لْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری سوچ سے کئی گنا اچھا اور پاکیزہ ثابت ہوا جہاں مجھے اپنا مقصودِ اصلی حاصل ہوا، جہاں میری فکری صلاحیتیں اُجاگر ہوئیں اور قراٰن و حدیث کے احکام سمجھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہونے لگی۔ اس سے قبل میری عاداتِ بد جن میں کرکٹ کا بے حد شوقین ہونا سرِ فہرست تھا۔ اس کے علاوہ شرارتیں کرنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بد نگاہی کرنا میرے روز کے معمولات کا حصہ تھا۔ جَامِعَۃُ الْمَدِیْنَہ میں ان کی تباہ کاریوں کا علم ہوا اور ان گناہوں سے بچنے کا مدَنی ذہن نصیب ہوا بلکہ اب اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو ندامت و شرمندگی کا احساس بیدار ہو جاتا ہے اور فوراً توبہ کی طرف ذہن مائل ہو جاتا ہے نیز
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع