30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جُوں ہی اُس نے اپنی ماں کو دیکھا،ایک دم اُس پر حملہ کر دیا اور نوچا ناچی اور مارا ماری شروع کر دی، ڈیوٹی پر موجود عملے نے جوں توں زخمی ماں کو بے رَحم بیٹے کے چُنگل سے چھڑایا۔ جب اُس ڈاکو سے اِس سفّاکانہ حَرَکت کا سبب پوچھا گیا تو بولا: مجھے پھانسی کے پھندے تک اِسی ماں نے پہنچایا ہے، دَراصل قصّہ یوں ہے کہ میں نے بچپن کے لاشُعُوری کے دور میں اسکول کے اندر ایک طالبِ علم کی پنسل چُرا لی اور گھر لا کر اپنی اِس ماں کو دکھائی،اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ مجھے اِس غَلَط کام سے نفرت دِلاتی مگر یہ صِرف مُسکرا کر چُپ ہو رہی،اُس وقت مجھ میں عقل ہی کتنی تھی ! میں سمجھا کہ میں نے کوئی بَہُت ہی اچّھا کارنامہ انجام دیا ہے، میرا حوصلہ بڑھا اورمیں مزید پنسلیں اور کاپیاں چُرانے لگا، جب بڑا ہوا تو چوری کی عادت کافی پکّی ہو چکی تھی اور دل خوب کُھل گیا تھا لہٰذا میں نےڈکیتیاں شُروع کر دیں،اِسی لوٹ مار کے دَوران مجھ سے بعض قتل کی وارداتیں بھی سر زد ہو گئیں اور میں بہُت ’’خطرناک ڈاکو‘‘بن گیا آخِر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو کر آج اپنی اِس ماں کی غَلَط تربیت کی بدولت چند ہی لمحوں کے بعد اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا پہننے والا ہوں۔ ([1])
سُوال: شریعت کے مطابق بچوں کی تربیت کرنے کی اَہمیت بیان فرما دیجیے ۔
جواب: شریعت کے مطابق بچوں کی تربیت کی اَہمیت بیان کرتے ہوئے حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: بچوں کی تربیت اَہَمّ اور تاکیدی اُمُورمیں سے ہے، بچہ والدین کے پا س امانت ہے، اس کا پاک دل ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جو ہر نقش و صورت سے خالی ہے لہٰذا وہ ہر نقش کو قبول کرنے والا اور جس طرف اسے مائل کیا جائے اس کی طرف مائل ہو جانے والا ہے۔ اگر اسےاچھی باتوں کی عادت ڈالی جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کی جائے تو اسی پر اس کی نَشْوو نَما ہوتی ہے،جس کے باعث وہ دُنیا و آخرت میں سعادت مند ہو جاتا ہےاور اس کے ثواب میں اس کے والدین، اَساتذہ اور تربیت کرنے والے سب شریک
[1] اپنی اولاد کی شریعت وسنَّت کے مطابق تربیت کرنے کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ187 صَفحات پر مشتمل کتاب”تربیتِ اولاد“ کا مطالعہ کیجیے ، اس کتاب میں بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی شادی تک کے تمام اُمور مثلاً نام رکھنا ، عقیقہ، ختنہ ، تحنیک اور مختلف آداب ِ زندگی وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع