30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلہٖ وَسَلَّم) ! کیا تم اِس بات پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی اُمَّتی تم پر ایک بار دُرُود بھیجےتو میں اُس پر دَس رَحمتیں نازِل فرماؤں اور آپ کا کوئی اُمَّتی آپ پرایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اُس پر دَس سلام بھیجوں ۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بچوں کی تربیت کب اور کیسے کی جائے؟
سُوال: بچوں کی تربیت کب اور کیسے کی جائے؟
جواب: بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ بعض لوگ یہ کہہ کر ”ابھی بچہ ہے، بڑا ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گا“بچوں کو شرارتوں اور غَلَط عادتوں سے نہیں روکتے، وہ لوگ دَرحقیقت بچوں کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں اور بڑے ہونے کے بعد بچوں کے بُرے اَخلاق اور گندی عادات پر روتے اور کڑھتے دِکھائی دیتے ہیں۔بچپن میں جو اَچھی بُری عادتیں بچوں میں پختہ ہو جاتی ہیں وہ عمر بھر نہیں چھوٹتیں اس لیے والدین پر لازِم ہے کہ وہ بچوں کو بچپن ہی میں اچھی عادتیں سکھائیں اور بُری عادتوں سے بچائیں۔جب بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ اَفزائی کریں،اگرکوئی بُرا کام کرے تو اس کی حوصلہ شکنی کریں اور مناسب اَنداز میں اس کی ڈانٹ ڈپٹ کریں تاکہ وہ آئندہ اس کام سے باز رہے مثلاً بچّے نے کسی کو مارا ، گالی دی یا اسکول میں دوسرے بچے کی کوئی چیز چُرا لی تو والدین کو چاہیے کہ وہ سختی سے اس کا نوٹس لیں تاکہ بچہ آئندہ کبھی بھی ایسی حرکت نہ کر سکے۔اگر ابھی بچے پرسختی نہ کی تو ہو سکتا ہے پھر یہ رَفتہ رَفتہ مزید چوریاں کرتا چلا جائے اور بالآخر ایک دن معاشرے کا بدنام ڈاکو بن کر اُبھرے۔بچپن ہی سے اپنی اولاد کی صحیح تربیت نہ کرنے کی ایک عبرتناک داستان سنئے اور عبرت کا سامان کیجیے:
اولاد کی صحیح تربیت نہ کرنے کی عبرتناک داستان
ایک خطرناک ڈاکو گرفتار کر لیا گیا،مقدمّہ چلا،اُس پر ڈکیتیوں اور قتل و غارت گریوں کی مختلف وارداتیں ثابت ہوگئیں جن کے سبب اُسے پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ جب پھانسی کا وَقت قریب آیا تو اُس سے اُس کی آخِری آرزو پوچھی گئی، اُس نے اپنی ماں سے مُلاقات کی خواہِش ظاہر کی چُنانچِہ اُس کی ماں کو بُلا یا گیا،
[1] نسائی ، کتاب السھو، باب الفضل فی الصلاة عَلَى النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ص۲۲۲، حدیث: ۱۲۹۲ دار الکتب العلمیة بیروت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع