30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طرح عرض کروں اور بغیر اجازتِ والدہ حجِ نفل کو جانا حرام ہے۔آخرکار اندر مکان میں گیا۔ دیکھا تو والدۂ ماجدہ چادر اوڑھے آرام فرما رہی ہیں، میں نے آنکھیں بند کر کے قدموں پر سر رکھ دیا وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھیں اور فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کی: حضور ! مجھے حج کی اِجازت دے دیجئے۔ پہلا لفظ جو فرمایا وہ یہ تھا: ”خُدا حافظ“میں اُلٹے پاؤں باہر آیا اور فوراً سُوار ہو کر اسٹیشن پہنچا۔ ([1])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !دیکھا آپ نے کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت نے کیسے حکمتِ عملی سے اپنی والدۂ ماجدہ سے اِجازت لی اور جیسے ہی اِجازت ملی فوراً اُلٹے پاؤں پلٹے اور سفرِ حج پر روانہ ہو گئے یوں ہی اگر آپ بھی حکمتِ عملی اور نرمی سے اپنے والدین پر اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے ان سے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی اِجازت لیں گے تو وہ آپ کو منع نہیں کریں گے۔
دعوتِ اسلامی کےمَعرضِ وجود میں آنے کامقصد
سُوال: دعوتِ اسلامی کیوں مَعرضِ وجود میں آئی ؟ نیز اس کا مقصد کیا ہے؟
جواب: تبلیغِ قرآن و سُنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت کو سنبھالنے اور اللّٰہ و رسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اُمتِ محبوب کا رِشتہ مضبوط کرنے کے لیے مَعرضِ وجود میں آئی ہے۔دعوتِ اسلامی یہی چاہتی ہے کہ مَساجد آباد ہوں،مسلمانوں کی ظاہری اور باطنی اِصلاح ہو اور مسلمان فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ حضور جانِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی مبارک اَداؤں کو اپنانے والے بن جائیں، اَلغرض دعوتِ اسلامی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ مسلمانوں میں اُجاگر کرنے کے لیے مَعرضِ وُجُود میں آئی ہے۔
دعوتِ اسلامی کا مدنی مقصد ”اپنی اور ساری دُنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنا ہے۔“ اپنی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی اِنعامات پر عمل اورساری دُنیاکے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے۔ کاش ! تمام عاشقانِ رسول بیکار کاموں میں اپنا وقت گنوانے کے بجائے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے اور ثوابِ آخرت کمانے کی نیت سے دعوتِ اسلامی کے اس مدنی مقصد میں شامل ہو کر مدنی کاموں کی دھوم مچانے والے بن جائیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع