30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں ان میں سے چند حقوق پیشِ خدمت ہیں: ٭زبان کھلتے ہی اللہ اللہ پھر پورا کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ بھرپورکلمۂ طیبہ سکھائے۔٭جب تمیزآئے اَدب سکھائے، کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اُٹھنے، بیٹھنے،چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ، استاذ اور دُختر (یعنی بیٹی) کوشوہرکے بھی اِطاعت کے طُرُق (یعنی طریقے) و آداب بتائے۔ ٭ قرآنِ مجید پڑھائے۔٭استاذ نیک، صالح، متقی، صحیح العقیدہ، سِنّ رسیدہ کے سپرد کردے اور دُختر کو نیک پارسا عورت سے پڑھوائے۔٭بعد ختمِ قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔٭ عقائدِ اسلام و سنَّت سکھائے کہ لوح سادہ فطرتِ اسلامی وقبولِ حق پرمخلوق ہے (یعنی چھوٹے بچے دینِ فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں یہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا) اس وقت کابتایا پتھر کی لکیر ہو گا۔٭حضورِ اقدس، رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی محبت وتعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصلِ ایمان وعینِ ایمان ہے۔٭حضورپُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے آل و اَصحاب و اولیاء و علما کی محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصلِ سنَّت و زیورِ ایمان بلکہ باعثِ بقائے ایمان ہے۔٭سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے۔٭علمِ دِین خُصوصاً وُضو،غسل، نماز و روزہ کے مَسائل توکل، قناعت، زُہد، اِخلاص، تواضع، اَمانت، صِدق، عدل، حیا، سلامتِ صُدُور و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل ،حرص وطمع ، حُبِّ دُنیا، حُبِّ جاہ، رِیا، عجب، تکبُّر، خِیانت، کِذب، ظُلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا بُرائیوں کے رَذائل پڑھائے۔٭ خاص پسر (یعنی بیٹے) کے حقوق سے یہ ہے کہ اسے لکھنا، پَیرنا (یعنی کسی فن میں ماہر ہونا) ، سپہ گری سکھائے۔ سورۂ مائدہ کی تعلیم دے۔ اِعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔٭ خاص دُختر (یعنی بیٹی) کے حقوق سے یہ ہے کہ اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ اِلٰہیہ جانے، اسے سینا،پرونا ،کاتنا ،کھانا پکانا سکھائے اورسورۂ نور کی تعلیم دے ([1]) ۔ ([2])
[1] فتاویٰ رضویہ، ۲۴ / ۴۵۴-۴۵۵ ملتقطاً
[2] والدین پر اولاد کے حقوق کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کے فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ451 تا 457 پر مشتمل رسالے ”مَشْعَلَۃُ الْاِرْشَادِ فِیْ حُقُوْقِ الْاَوْلَادِ اولاد کے حقوق کے بارے میں راہنمائی کی قندیل“ کا مطالعہ کیجیے ۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع