30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب:جب پہلی وحی نازِل ہوئی تو سب سے پہلے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃُ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کو بتایا۔ (3)
کس کس چیز پر اِیمان لانا ضَروری ہے؟
سُوال:محبت ، بھلائی ، سخاوت اور نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰة وغیرہ ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم جوکچھ لے کر آئے کیا ان سب پر اِیمان لانا ضَروری ہے؟
جواب:سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم جو بھی لائے اس پر اِیمان لانا ضَروری ہے۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم پر قرآنِ کریم نازل ہوا اس کے ہر ہر حرف پر اِیمان لانااور یہ یقین رکھنا بھی ضَروری ہے کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے جو فرمایا وہ حق ہی فرمایا آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی زبان پر جو بھی جاری ہوا وہ حق جاری ہوا۔ اِیمان یہ ہے کہ اللہ پاک اور اس کے سارے اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اور تمام ضَروریاتِ دِین کو صدقِ دِل سے تسلیم کیا جائے۔ ([1])
سُوال:ہماری دکان پر چیزوں کے فکس ریٹ ہیں لیکن اگر کوئی جان پہچان والا آتا ہے تو ہم اس کے لیے ریٹ کم کر دیتے ہیں ، کیا ہمارے لیے ایسا کرنا دُرُست ہے؟
جواب:آپ نے فکس پرائز رکھے ہیں لیکن اپنی مَرضی سے کم کرنا چاہیں تو آپ کو اِس کا اِختیار ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر کوئی سَیِّد صاحب یا کوئی فقیر یا کوئی غریب شخص آپ کی دکان پر آجائے تو اس کو فری بھی دے دیا کریں اللہ پاک مزید برکت دے گا۔ آپ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے بیٹوں سے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی آل سے محبت کریں گے ، ان کی خدمت کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ دونوں جہانوں میں بیڑا پار ہو جائے گا ، ان کے نانا جان آپ کو بہت نوازیں گے۔
بڑی عمر والوں کی اِصلاح کرنے کا اَنداز کیسا ہونا چاہیے؟
سُوال:بڑوں کی اِصلاح کرنے کا کیا اَنداز ہونا چاہیے اگر چھوٹوں کو بڑوں کی اِصلاح کرنی پڑجائے تو یہ کس طرح ان کی اِصلاح کریں؟
جواب:چھوٹے بڑوں کی اِصلاح کیسے کریں اس کی یہ صورت ہو سکتی ہے کہ عالِمِ دِین جوان ہے اور بڑی عمر والا کوئی شخص غَلَطی کر رہا ہے تو یہ اس کو اَدب و اِحترام سے سمجھائے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اس کی سمجھ میں آجائے گا۔ سامنے والا عمر میں بڑا ہو سکتا ہے لیکن مَرتبے میں عالِمِ دِین ہی بڑا ہوتا ہے۔ بہرحال کسی کو بھی سمجھانا ہو تو ہمیشہ اَدب و اِحترام سے سمجھانا چاہیے اور چھوٹا ہو تو شفقت کا مُظاہرہ کرنا چاہیے ، اگر ڈانٹ ڈپٹ کریں گے تو وہ خاموش ہو جائے گا مگر آپ کی بات پر عمل نہیں کرے گا۔ لہٰذا نرمی اور اَخلاقِ حسنہ کا مُظاہرہ کرتے ہوئے سمجھانا چاہیے چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے : (اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ) (پ۱۴ ، النحل : ۱۲۵)ترجمۂ کنز الایمان : “ اپنے رَب کی راہ کی طرف بلاؤپکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے۔ “ اکثر نوٹ کیا ہے کہ ہمارے یہاں سمجھانے کا اَنداز بہت رَف ہوتا ہے جس کی وجہ سے سامنے والا سمجھ نہیں پاتا بلکہ بعض اوقات بدک جاتا ہے۔ سمجھانا بھی ایک فن ہے ، اللہ کرے ہمیں یہ فن آجائے۔ اگر آپ مَدَنی قافلوں میں سفر کرتے رہیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ یہ فن بھی آجائے گا۔ دعوتِ اسلامی کا “ 12 مَدَنی کام کورس “ کر لیجیے یہ سات دِن کا کورس ہے اس سے آپ کو سمجھانے کا گُر آجائے گا۔ دعوتِ اسلامی کے ہر مبلغ اور ذِمَّہ دار کو یہ کورس کرنا چاہیے۔
کیا بڑی عمر میں حافظِ قرآن بن سکتے ہیں؟
سُوال: کیا بڑی عمر میں حافظِ قرآن بن سکتے ہیں؟ (فیس بک کے ذَریعے سُوال)
جواب:جی ہاں! بالکل بن سکتے ہیں۔ لیکن اِس میں دُشواری ضَرور ہوگی کیونکہ بچہ ٹینشن فری ہوتا ہےاس کو کمانے وغیرہ کی کوئی فکر نہیں ہوتی تو وہ جلدی حفظ کر لیتا ہے۔ بڑی عمر والے کو ہزار مَسائل جھیلنا پڑیں گے ، اگر بچوں والے ہیں تو اس کے الگ مَسائل ، بچوں کی اَمّی کے الگ مُعاملات ، پھر اپنے والدین حیات ہیں تو ان کی فکر ، روز گار کی مشکلات یہ سب چیزیں ہوں گی تو حفظ کرنا دُشوار ہو گا لیکن اگر جَذبہ ہوا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ حفظ کر لے گا اگر نہ بھی کر سکا تو کوشش کا ثواب تو ملے گا۔
ختمِ قرآن کی خبر دینے کے لیے کون سا جملہ بہتر ہے؟
سُوال: بعض لوگ کہتے ہیں قرآنِ پاک مکمل کر لیا ، بعض کہتے ہیں قرآنِ پاک ختم کر لیا ، ان دونوں میں سے کون سا جملہ بولنا دُرُست ہے؟ (SMS کے ذَریعے سُوال)
جواب:ختم کرنے کا لفظ زیادہ رائج ہے جیسے کہا جاتا ہے “ دُعائے ختم القرآن “ اور پھر یہ لفظ بھی عربی ہے ، اس کا مطلب ہے قرآن پاک پورا پڑھ لیا۔ “ قرآن پاک مکمل پڑھ لیا “ یہ کہنے میں بھی حرج نہیں ہے جبکہ پورا پڑھ لیا ہو۔
[1] اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کی بارگاہ میں سوال ہوا کہ “ ایمان کی تعریف کیا ہے؟ اور ایمان کامل کیسے ہوتا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے جواباً اِرشاد فرمایا : مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو ہر بات میں سچا جانے ، حضور کی حقانیت کوصدقِ دل سے ماننا ایمان ہے جو اس کا مُقِر(یعنی اِقرار کرنے والا ، تسلیم کرنے والا) ہو اسے مسلمان جانیں گے جب کہ اس کے کسی قول یا فعل یا حال میں اللہ و رسول کا انکار یا تکذیب(یعنی جھٹلانا) یا توہین نہ پائی جائے اور جس کے دل میں اللہ و رسول جَلَّ وَ عَلَا وَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا عَلاقہ(یعنی تعلق و و اسطہ) تمام علاقوں پر غالب ہو اللہو رسول کے محبوں سے محبت رکھے اگرچہ اپنے دشمن ہوں ، اور اللہ و رسول کے مخالفوں بدگویوں سے عداوت رکھے اگرچہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہوں ، جو کچھ دے اللہ کے لیے دے ، جو کچھ روکے اللہ کے لیے ، سو اُس کا ایمان کامل ہے ، رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرماتے ہیں : مَنْ اَحَبَّ لِلَّهِ وَاَبْغَضَ لِلَّهِ وَاَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْايمَانَجس نے اللہتعالیٰ کے لیے محبت کی اور اللہتعالیٰ کے لیے عداوت کی ، اور اللہتعالیٰ کے لیے دیا اور اللہتعالیٰ کے لیے روکا ، اس کا ایمان کامل ہے۔ (ابوداود ، کتاب السنَّة ، باب الدلیل علٰی زیادة الایمان ونقصانه ، ۴ / ۲۹۰ ، حدیث : ۴۶۸۱۔ فتاویٰ رضویہ ، ۲۹ / ۲۵۴)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع