دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bachay Zid Kiyon Kartay Hain? | بچے ضد کیوں کرتے ہیں؟

book_icon
بچے ضد کیوں کرتے ہیں؟

جواب:میرے پاس بھی ایک ایسا پیغام آیا ہے جس میں نہ تاریخ ڈالی ہے نہ اِنْ شَآءَ اللّٰہ  ، مَاشَآءَ اللہ یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ جیسے کلمات لکھے ہیں ، اس کو پڑھ کر واقعی پتا نہیں چل رہا کہ یہ کس نے لکھا ہے؟اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ “ فیضانِ مدینہ میں اتنی اتنی تعداد میں اسلامی بھائی آرہے ہیں “ لیکن یہ نہیں لکھا کہ کب اور کس تاریخ  کو آرہے ہیں؟ اس میں بہتر یہی تھا کہ تاریخ لکھی جاتی مثلاً آج کی اسلامی تاریخ لکھ دیتے ۹ ربیع الآخر  ۱۴۴۱ھ اور ساتھ میں انگریزی تاریخ  06-12-2019 بھی ہوتی کہ لوگ انگریزی تاریخ جلدی سمجھ جاتے ہیں۔ پھر آج کی اس تاریخ  کی خوبی یہ بھی تھی کہ اس تاریخ کے تینوں عدد  پیارے پیارے  اور میٹھے میٹھے ہیں : 6 کا عدد خواجہ غریب نواز     رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ     کی چھٹی سے  نسبت رکھتا ہے اور 12 کا عدد تو پھر 12 ہے ہم تو ہیں ہی بارہویں والے آقا   صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   کے غلام اور 19 کا عدد بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم کے 19حروف  سے نسبت رکھتا ہے۔ اگر یہ تاریخ اور ساتھ میں  فیضانِ مدینہ عالَمی مَدَنی مَرکز کراچی  لکھ دیا جاتا تو یہ ایک یادگار پیغام بن جاتا۔

بہرحال تاریخ ڈالنا بہت ضَروری ہے نہ صرف تاریخ بلکہ مہینا اور سال کی وضاحت بھی ضَروری ہے ، خصوصاً جب آپ موبائل وغیرہ پر نیٹ کے ذَریعے کوئی پیغام بھیجیں کیونکہ اس پر لکھے ہوئے پیغام کی Life(یعنی میعاد)بہت زیادہ ہوتی ہے ہو سکتا ہے  آپ دُنیا سے چلے جائیں مگر آپ کا جاری کردہ پیغام  بہت عرصے تک باقی رہے۔

فیضانِ مدینہ کراچی آنے والے اسلامی بھائیوں کے لیے مفید مشورے

سُوال:فیضانِ مدینہ کراچی میں سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے تین دِن کے لیے اسلامی بھائی تشریف لائے ہوئے ہیں ان کے لیے کچھ مفید مشورے اِرشاد فرما دیجیے۔

جواب:جو اسلامی بھائی فیضانِ مدینہ کراچی تشریف لائے ہیں ان کو تین دِن مسجد میں ہی گزارنے ہیں ، اپنے گھر میں کہہ کر آئے ہوں گے کہ ہم فیضانِ مدینہ کراچی جا رہے ہیں لہٰذا  اِدھر اُدھر گھومنے کے لیے نکلنے کے بجائے فیضانِ مدینہ میں ہی ٹھہرے رہیں ، کوئی کتنا ہی کہتا رہے کہ اندرونِ سندھ سمندر نہیں ہے سمندر دیکھنے چلتے ہیں ، اسے  منع کر دیجیے اور ہرگز مسجد سے باہر نہ نکلیں۔ اِسی طرح بازاروں میں بھی تفریح کرنے کے لیے نہیں جانا بلکہ اپنا سارا وقت مسجد میں اِعتکاف کی نیت کر کے گزارنا ہے ۔ یہاں جو سکھایا جا رہا ہے وہ زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرنی ہے۔ اگر ایسے ہی گھومتے پھرتے رہیں گے تو کورے کے کورے واپس لوٹیں گے۔ ہاں!جب آپ کو فارغ وقت ملے جس میں سیکھنے سکھانے کا کوئی حلقہ نہ ہو تو فیضانِ مدینہ کی دکان یا اس کی گلی میں جانے کی اِجازت ہے ، اِس دوران اگر کوئی کتاب وغیرہ خریدنی ہوتو وہ خرید لیجیے لیکن گلی سے  پار نہ جائیں ، ورنہ دِن بھر گھومنے کی وجہ سے تھک جائیں گے اور رات کو سونے کے لیے کونا تلاش کریں گے تو  یوں مَدَنی مذاکرے کے فوائد سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ رات بھر مَدَنی مذاکرے میں شرکت کریں اور دِن میں آرام کریں اس طرح گھومنے پھرنے کا موقع ہی نہیں ملےگا۔ چونکہ آپ نے  اپنا سارا وقت مسجد ہی میں گزارنا ہوتا ہے تو اس حوالے سے مسجد کے آداب مُلاحَظہ فرما لیجیے :

’’مسجد اَدب کی جگہ ہے‘‘کے چودہ حُروف کی نسبت سے

مسجِد میں کی جانے والی غَلَطیوں کے متعلِّق 14 مَدَنی پُھول

مکتبۃُ المدینہ کی  کتاب “ فیضانِ نماز “ کے صفحہ نمبر 243 پر ہے : نماز و اِعتکاف ، تلاوتِ قراٰن ، دَرس و بیان اور اِجتماعِ ذِکر و نعت وغیرہ عبادتوں کے ذَریعے مسجدیں آباد رکھنا بےشک بڑے ثواب کا کام ہے۔ جس کام میں جتنا زیادہ ثواب ہوتا ہے اُس میں شیطان اُتنی ہی زیادہ خَرابیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، لہٰذا  مسجد وں میں کی جانے والی بے اِحتیاطیوں ، بے اَدَبیوں اور گناہوں بھری حرکتوں سے خبردار کرنے کے مُتعلق 14 مَدَنی پھول پیش کئے جاتے ہیں : (1)فرمانِ مصطفےٰ  صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم   : مسجد میں ہنسنا قبر میں اندھیرا (لاتا) ہے۔ ([1])ہاں! ضرورتاً مسکرانے میں حرج نہیں۔ ہنسنا اس کو بولتے ہیں جس میں اتنی آواز نکلے کہ خود اپنے کانوں تک پہنچ جائے۔ (2) مسکرانے میں صرف ہونٹ پھیلتے اور دانت ظاہر ہوتے ہیں(3) اور زور سے ہا ہا کرنا قہقہہ کہلاتا ہے۔ (4)یہ سُنَّت سے ثابت نہیں ہے اس سے نہ صرف مسجد میں بچنا ہے بلکہ مسجد کے باہر بھی قہقہہ نہیں لگانا تاکہ قہقہہ نہ لگانے والی سُنَّت پر عمل ہو جائے۔ (2)اعلیٰ حضرت     رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ     نقل فرماتے ہیں : جو مسجد میں دُنیا کی بات کرے ، اللہ پاک اُس کے چالیس برس کے نیک اَعمال اَ کارَت ( یعنی برباد) فرما دے۔ ([2]) (3)منہ میں بَدبو ہونے کی حالت میں (گھر میں پڑھی جانے والی) نماز بھی مکروہ ہے اور ایسی حالت میں (یعنی منہ یا کپڑوں یابدن سے پسینے یا کسی بھی طر ح کی بَدبو آنے کی حالت میں) مسجدمیں جانا حرام ہے۔ (2)دانتوں کو خوب صاف کرنا ہے ، مسجد میں ہونے کی وجہ سے اچھی طرح دانت صاف نہیں کرپاتے اور منہ میں بَدبو ہوجاتی ہے پھر گناہ گار ہوتے ہیں۔ (4) مسجد میں رِیح (Break wind) خارِج کرنامنع ہے۔ (3) (5) مسجد میں ایسے بچوں کو (پیمپر باندھ کر بھی) لانا گناہ ہے جن کے بارے میں غالب گمان ہو کہ پیشاب وغیرہ کر دیں گے یا شور مچائیں گے۔ (4) (6) مسجد میں پاگلوں کو یا اُن آسیب زدوں کو جو اُچھل کود وغیرہ کرتے ہوں اور ایسے مَریضوں کوجن کی وجہ سے لوگوں کو گِھن آتی ہو لانا گناہ ہے اور اُن سمجھداربچوں کو لانا بھی گناہ ہے جو و ہاں بھاگم بھاگ کرتے ، شور مچاتے اور نمازیوں کی پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ (5)یہاں فیضانِ مدینہ کراچی میں بھی دِیگر شہروں والے ، بچوں کو اپنے ساتھ لے



[1]    جامع  صغیر ،  حرف الضاد  ،  ص۳۲۲ ،  حدیث  :  ۵۲۳۱۔  2    التعریفات للجرجانی ، باب الضاد ،  ص۹۸۔

3    التعریفات للجرجانی ، باب التاء ،  ص۳۸ ۔  4    التعریفات للجرجانی ، باب القاف ،  ص۳۸۔

[2]    فتاویٰ رضویہ ، ۱۶ / ۳۱۱۔  2    فتاویٰ رضویہ ، ۷ / ۳۸۴۔

3    در مختار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،  ۲ / ۵۱۸ ماخوذاً۔

4    در مختار ، کتاب الصلاة ، باب مایفسد الصلاة وما یکرہ فیھا ،  ۲ / ۵۱۸ ماخوذاً۔

5    فتاویٰ رضویہ ، ۸ / ۷۸ ماخوذاً۔ وقف کے شرعی مسائل ، ص ۶۷-۶۸ ملخصاً۔

6    ابن ماجه ،  کتاب المساجد ،  باب تطھیر المساجد و تطییبھا ، ۱ / ۴۱۹ ،  حدیث :  ۷۵۷۔  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن