30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بچے کے سامنے کسی سے کہیں گے تو سمجھ دار ہونے کی صورت میں بچے کی دل آزاری ہوگی اور اگر بچّہ سمجھ دار نہیں ہے تو عیب موجود ہونے کی صورت میں یہ غیبت ہوگی، جس طرح کسی کی موجودگی میں دوسرے شخص کو اشارے کرکے اس کی غیبت کی جارہی ہوتی ہے۔ اگر آپ بچے کے بارے میں کسی کو کہہ رہے ہیں کہ ’’یہ کم عقل ہے‘‘ تو واقعی کم عقل ہونے کی صورت میں یہ غیبت ہوگی، ورنہ کم عقل ہونے کا عیب نہ ہونے کی صورت میں یہ بہتان ہوگا اور یہ ہمارے ہاں بہت عام ہے۔
اگر ہم اپنے دوستوں اور بازاروں میں ہونے والی اپنی دن بھر کی گفتگو کا حساب لگائیں تو شاید کئی سو یا کئی ہزار غیبتیں سامنے آجائیں۔ دکان پر کوئی گاہک آئے گا تو دکان دار اپنے ساتھی سے کہے گا کہ ’’ىار چمڑا ہے، ہاتھی کا گوشت ہے، کہاں گلے گا! بڑى مشکل ہے، ىہ کہاں ٹپک پڑا! صبح ہى صبح اس کا مُنہ کہاں دىکھ لىا!‘‘یہ سب غیبتیں ہیں، کیونکہ یہ باتیں گاہک کی برائی بیان کرنے کےلئے کی گئی ہیں، نیز ان جملوں میں بدشگونی کی آفت بھی موجود ہے، کیونکہ اس کے آنے سے بونی خراب ہونے کا منحوس تصوّر لیا جارہا ہے۔ یہ سب دینی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض مذہبى نظر آنے والے لوگ بھى ایسا کررہے ہوتے ہیں۔ جسے اللہ پاک توفىق دے، عقلِ سلىم بخشے اور اسے اچھى صحبت مل جائے، نیز اسے دین کی باتیں سمجھ آتی ہوں وہ ان چىزوں سے ہوسکتا ہے کہ بچ جائے، ورنہ عموماً لوگوں کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ بھی غیبت ہے۔ عام طور پر گاہک کے چلے جانے کے بعد بھی دکان دار اس کى بُرائى کررہا ہوتا ہے کہ ’’ىار بہت کس کس کر نکالا، اس چمڑے نے تو دماغ خراب کردیا، جب آتا ہے چپک جاتا ہے،گوند ہے، گوند ڈال کر بىٹھ جاتا ہے، ہمارے لئے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گیا۔‘‘ حالانکہ اس کے آنے پر یہ کہا ہوتا ہے کہ ’’آئیے آئیے! مَاشَآءَ اللہ، بڑے دنوں بعد آپ کی زیارت ہوئی، سُبْحٰنَ اللّٰہ ، میری تو آج عید ہوگئی، بیڑا پار ہوگیا ‘‘ وغیرہ۔ یہ سب منافقت نہیں تو اور کیا ہے!! ہم لوگ بہت دور نکل گئے ہیں۔ ہماری زبان اور دل ایک نہیں ہیں۔
حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے بارے مىں ’’تذکرۃ الاولىاء‘‘ کے اندر کچھ اس طرح لکھا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ گوشہ نشىن ہوگئے تھے۔ حضرتِ سَیِّدُنا داؤد طائى رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ جو بہت بڑے ولى اللہ اور امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے شاگرد تھے انہوں نے عرض کی: ’’حضور! آپ سادات میں سے ہىں اور ہمارے سردار ہىں۔ آپ گوشہ نشین ہوگئے تو ہمارى قوم کى راہ نُمائى کون کرے گا!!‘‘ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ایک عربی شعر پڑھا جس کا خلاصہ کچھ یوں ہےکہ ’’میں لوگوں کے ساتھ مىل جول رکھ کر کیا کروں! آج لوگوں کی حالت اىسى ہے کہ بظاہر آپس مىں اچھے انداز سے ملتے ہىں، لىکن ان کے دلوں مىں بغض کے بچھو بھرے ہوئے ہوتے ہىں۔‘‘([1])اللہ پاک ہمارا اىمان سلامت رکھے۔ اىسے لوگوں سے دور ہى رہنا چاہىے۔ آدمی جتنا اپنے کام سے کام رکھے اچھا ہے۔ ایسوں کی کمپنى میں ٹائم پاس کرنے سے بچے۔ ٹائم پاس کرنا ہے تو تلاوت کرے، دُرُود شرىف پڑھے یا بھلے سوتا رہے، کیونکہ سونے کی حالت مىں انسان کم از کم ’’مَرْفُوْعُ الْقَلَمْ‘‘رہتا ہے ([2]) اور کوئی فرض وغیرہ نہ چھوٹنے کی صورت میں گناہ نہىں لکھے جارہے ہوتے۔ یہ میں نے ایک مثال دی ہے۔ ظاہر ہے کہ آدمى کتنا سوئے گا! زىادہ سونا بھى عقل کو خراب اور حافظہ کمزور کرتا ہے۔
سُوال: پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے کچھ خصائص بیان فرمادیجئے۔ ([3])
جواب: حضرتِ سَیِّدُنا عبدُالعزىز دباغ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہىں: ’’جنّت کى اصل نورِ محمدى صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہے، لہٰذا جنت اس نور کى اسى طرح مشتاق (ىعنى آرزو مند) ہے جس طرح بچّہ اپنے باپ کى طرف شوق رکھتا ہے۔ حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا ذکر جب جنت سنتى ہے تو خوش ہو کر آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کى طرف لپکتى (یعنی بڑھتی)ہے، کىونکہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم ہى سے سىراب ہوتى ہے۔ وہ فرشتے جو جنّت کے اطراف اور دروازوں پر مقرر ہىں وہ ہر وقت نبى پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کامبارک ذکر کرنے اور درود شرىف پڑھنے مىں مشغول رہتے ہىں،جس سے جنّت ان کى مشتاق ہو کر ان کى طرف جاتى ہے، کىونکہ فرشتے جنت کے اطراف مىں ہىں، اس لئے جنت چاروں سمت پھىل جاتى ہے۔ اگر اللہ پاک کا ارادہ نہ ہوتا اور اس نے جنت کو روکے نہ رکھا ہوتا تو جنت حضور پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کى مبارک ظاہرى زندگى مىں نکل کر آجاتى اور آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم جہاں تشرىف لے جاتے جنّت بھى وہاں جاتى، مگر اللہ پاک نے جنّت کو روک دىا، تاکہ اس پر اىمان بالغىب حاصل ہو۔‘‘([4]) اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کىا خوب لکھتے ہىں:
جنّت ہے ان کے جلوے سے جویائے رنگ و بو
اے گل ہمارے گل سے ہے گل کو سُوالِ گل (حدائقِ بخشش)
[1] تذکرة الاولیاء، ذکر ابن محمد جعفر صادق، ۲/۲۲۔
[2] بخاری، کتاب المحاربین ...الخ، باب لایرجم المجنون والمجنونة، ۴/۳۳۹۔
[3] یہ سُوال شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اَہلِ سنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے۔(شعبہ ملفوظاتِ امیرِ اہلِ سنت)
[4] الابریز، الباب الحادی عشر فی الجنة، وسألته لِمَ کانت الجنة...الخ،۲/۳۳۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع