30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائے، بلکہ یوں کہا جائے: تجھ سے کِتّے ہزار پھرتے ہىں،یا تجھ سے شىدا ہزار پھرتے ہىں، یا عاشق ہزار پھرتے ہىں۔ یااس طرح کا کوئى اىسا لفظ لایا جائے جو اس مقام پر موزوں ہو اور شعر کا وَزْن بھی نہ ٹوٹے۔ جب نعت خواں یہ شعر پڑھیں تو وضاحت کردىں کہ اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نےیہاں عاجزى کے طور پر اپنے لئے ىہ لفظ اِستِعمال کىا تھا، لىکن مىں نے اس کو تبدىل کىا ہے۔
آج کل کے نعت خوانوں کو اتنا بولنا آتا نہىں ہے ،البتہ اتنا بول لیتے ہیں کہ ’’دو دن سے تھکا ہوا ہوں، 12دن کا تھکا ہوا ہوں، روز محفلىں ہیں، چار چار بج جاتے ہىں‘‘ وغیرہ۔ جہاں وضاحت کرنی ہوتی ہے وہاں انہیں شاىد سُچکا بھی نہىں پڑتا (یعنی ذہن میں ہی نہیں آتا) کہ وضاحت کردیں۔ میں یہاں سب کى بات نہىں کررہا، بلکہ دل جلانے کے لئے ایک بات کررہا ہوں کہ جہاں وضاحت کرنی ہے وہاں نہىں کرتے۔ بعض اوقات نعت خواں اَشعار کا خُلاصہ کررہے ہوتے ہىں، اس کےلئے بھى علم ہونا چاہىے، خصوصا ًاعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہکے کلا م کی وضاحت میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ان کےکلام Difficult(یعنی مشکل) ہوتےہیں۔حدائقِ بخشش کی شروحات لکھى ہوئى ہیں۔اگر کوئی نعت خواں علما کى لکھى ہوئى شروحات سے وضاحت ىاد کرکے بیان کرتا ہے تو کوئى حرج نہىں ہے ۔
کیا اسلامی بہنیں نعت کے صیغوں کو بدل سکتی ہیں؟
سُوال: اىک کلام ہے: ’’مىں مدىنے چلا۔‘‘اگر اسلامى بہنىں اس کو ’’میں مدینے چلی‘‘پڑھىں گى تو کیا ىہ غلط ہوگا؟
جواب: کسی شاعر کا کلام پڑھنا ’’حکاىت کرنا‘‘ کہلاتا ہے۔ یعنی جىسا اس نے کہا ہم نے ویسا بیان کردیا۔اب اگر اسلامی بہنیں ’’مىں مدىنے چلا ‘‘پڑھىں گى تو عجىب لگے گا،اس لئے انہیں’’ مىں مدىنے چلى‘‘ پڑھنا چاہیے، لیکن اس کلام میں آگے بھی مردانہ الفاظ آرہے ہیں، یہ کہاں کہاں تبدیلی کرىں گی!! بہرحال! ’’ چلا‘‘ کو ’’چلى‘‘ کرنا ضروری ہوگا۔ کیونکہ مؤنّث کے لئے یہی اِستِعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ’’چلا‘‘ کہىں گی تو اسلامى بہنىں ہنسىں گى اور مذاق کرىں گى۔ اس کے علاوہ بہت سے کلام اىسے بھى ہىں جن مىں تبدىلى کى ضرورت نہىں پڑتى تو وہ پڑھ سکتی ہىں اور پڑھے بھی جارہے ہوتے ہىں۔ یاد رہے!کسى شاعر کے اشعار اپنے نام پر چڑھا لىناکہ ’’ىہ مىں نے لکھے ہىں‘‘جھوٹ اورخیانت ہے، یہ بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اوراسے دینی سرقہ یعنی علمی چوری کہتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوتا ہے کہ اىک ہى طرح کا مصرع دو شاعروں نے لکھا ہوتا ہے جسےادبى یعنی فنى زبان مىں ’’ تَوَارُد‘‘ بولتے ہىں۔
گھر میں لگے ہوئے درخت کاٹناکیسا؟
سُوال: میرے گھر میں پپیتے کا درخت لگا ہوا ہے جس پر بچے پتّھر مارتے ہیں، کیا میں اُس درخت کو کاٹ سکتا ہوں؟ (منصور عطاری)
جواب: بچّوں کا ایسا کرنا غلط ہے۔ انہیں اِس طرح پتّھر مارنے سے روکنا چاہىے۔ اگروہ نہیں رُک رہے تو درخت تو وىسے بھى کاٹنا چاہىں تو کوئى حرج نہىں۔ آپ کا گھر ہے۔ اگر درخت کی وجہ سے آپ کو تکلىف ہوتی ہے تو بے شک درخت کاٹ دىں۔
سُوال: کسى کے بىٹا ىا بىٹى پىدا ہوئى اور وہ عقىقہ کرنے کى گنجائش نہیں رکھتا تو اس کے لئےکىا حکم ہوگا؟ (کلیم عطاری۔ سوشل میڈیا کے ذریعے سُوال)
جواب: عقىقہ کرنامستحب ہے، فرض ىا واجب نہىں۔([1]) اگر کسى کے پاس پیسوں کی گنجائش ہو پھر بھى وہ عقیقہ نہىں کرتا تب بھى گناہ گار نہىں ہوگا۔ البتہ عقیقہ نہ کرنا محرومی ہے، جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے رسالے’’عقىقے کے بارے مىں سوال جواب‘‘([2])میں ہے: ’’سُوال4: کیا یہ دُرُست ہے کہ جو بچّہ بِغیر عقیقہ اِنتِقال کرگیا وہ اپنے والِدَین کی شَفاعت نہیں کرے گا؟ جواب: جی ہاں !مگر اس کی صورَتیں ہیں: جس بچّے نے عقیقے کا وقت پایا یعنی وہ بچّہ سات دن کا ہوگیا اور بِلاعُذر جبکہ استِطاعت (یعنی طاقت) بھی ہو اُس کا عقیقہ نہ کیا گیاتو وہ اپنے ماں باپ کی شَفاعت نہ کرے گا۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ ’’ لڑکا اپنے عقیقےمیں گِروی ہے۔‘‘([3]) اَشِعَّۃُ اللَّمْعاتمیں ہے: امام احمد رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: ’’بچّے کا جب تک عقیقہ نہ کیاجائے اُس کو والِدَین کے حق میں شَفاعت کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔‘‘([4]) صدرُ الشریعہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ مذکورہ حدیثِ پاک کے تَحْت فرماتے ہیں: ’’گِروی‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اُس سے پورانَفْع حاصِل نہ ہو گا جب تک عقیقہ نہ کیا جائے اور بعض (مُحَدِّثین) نے کہا: بچّے کی سلامَتی اور اُس کی نَشو ونُما(پھلنا پھولنا) اور اُس میں اچّھے اَوصاف (یعنی عمدہ خوبیاں) ہونا عقیقے کے ساتھ وابستہ ہیں۔‘‘([5]) ىعنى عقىقہ کرىں گے تو بچے کو سلامتى اور عافىت نصىب ہوگى، اس میں بڑھوترى
[1] بہار شریعت، ۳/۳۵۵، حصّہ:۱۵۔
[2] ”عقیقے کے بارے میں سوال جواب“ یہ رسالہ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ایک مدنی مذاکرے کا خلاصہ ہے جس کے 22 صفحات ہیں۔ اس رسالے میں بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ، بچے کا نام کس دن رکھا جائے اور عقیقے کے متعلق احکام بیان کیے گئے ہیں۔
[3] ترمذی، کتاب الاضاحی، باب من العقیقة، ۳ /۱۷۷، حدیث:۱۵۲۷۔
[4] اشعة اللمعات، كتاب الصيد والذبائح، باب العقيقة، ۳/۵۱۲۔
[5] بہار شریعت، ۳/۳۵۴، حصّہ:۱۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع