30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرماىا: واجب ہوگئى۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے عرض کی: حضور کىا واجب ہوگئى؟ ارشاد فرماىا: جس میّت کى تم نے تعرىف کى اس کے لئے جنّت واجب ہوگئى اور جس کى تم نے بُرائى کى اس پر دوزخ واجب ہوگئى۔ تم لوگ زمىن مىں اللہ کے گواہ ہو۔‘‘([1]) ایک اور روایت میں ہے کہ ’’مؤمن زمىن مىں اللہ کے گواہ ہىں۔‘‘([2])
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے
سُوال: ان اَشعار کی وضاحت فرمادیجئے۔ (نگرانِ شوریٰ حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری کا سُوال)
واسطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے
یوں نہ فرمائیں ترے شاہد کہ وہ فاجر گیا
عرش پر دُھومیں مچیں وہ مؤمن صالح ملا
فرش سے ماتم اُٹھے وہ طیب و طاہر گیا (حدائقِ بخشش)
جواب: ان اَشعار کی وضاحت یہ ہے کہ ’’ىا اللہ! تجھے تىرے پىارے حبىب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کا واسطہ! ہم پر اىسا کرم ہوجائے کہ جب ہم دنىا سے جائىں تو تىرے گواہ ىہ نہ کہىں کہ نافرمان دنىا سے گىا، بلکہ فرشتے خوشى منائىں کہ اىک نىک بندہ ہمارے پاس آىا اور دنىا والے افسوس کرىں کہ اىک نىک بندہ ہم سے بچھڑ گىا۔‘‘ یہاں شاہد سے ىا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی ذات بابَرَکت مُراد ہے، کیونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمکا نام شاہد بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن ِ کرىم کی ایک آیتِ مُبارکہ میں آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے تین اَلقابات’’ شَاہِد،مُبَشِّر، اور نَذِیْر‘‘ذکر کئے گئے ہىں۔([3]) یا شاہد سے مُراد مومنىن ہیں۔ یعنی جب میں مروں تو مسلمان یہ نہ کہىں کہ وہ فاجِر گىا۔ میرا زیادہ رُجحان بھی اسی طرف ہے کہ یہاںمسلمان مُراد ہیں، کىونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمتو رحمت فرمانے والے اور اپنے غلاموں کے عُىوب چُھپانے والے ہىں۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کو تو اللہ کی عطا سے اس بات کا بھی علم ہے کہ کون فاجر ہے! اور کون متّقى ہے!
کیا پکتا ہوا کھانا نکالنا بے بَرَکتی کا سبب ہے؟
سُوال: کیاپکتا ہوا کھانا نکالنے سے بے بَرَکتی ہوجاتی ہے؟ (SMS کے ذریعے سُوال)
جواب: گرم کھانا کھانے سے بے بَرَکتى ہوتى ہے،([4]) اب چاہےوہ پکتا ہواہو، پک چکا ہو یا بعد مىں ٹھنڈے کھانے کو گرم کىا گىا ہو۔ گرما گرم چائے نہ پی جائے، بلکہ کچھ دیر رکھ دی جائے، تاکہ وہ کنکنى (یعنی نیم گرم)ہوجائے۔
کیا اپنے دوست سے مدد مانگنا بھی سُوال ہے؟
سُوال: اگر کوئی شخص اپنے بھائی سے کسی کام کے لئے مدد مانگتاہے تو کیا یہ سُوال کرناکہلائے گا؟
جواب: اگر قرضہ مانگ رہا ہے تو قرضہ مانگنے کو سُوال کرنا نہىں کہاجاتا۔ سُوال صرف پیسوں کا نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے کہاکہ مىرى ىہ چىز وہاں پہنچادو تو ىہ بھى سُوال ہے۔ البتہ اىسا سُوال جس مىں ذلّت ہوتى ہو اس کى مَذمّت آئی ہے،([5]) جىسے بعض لوگ بھىک مانگ رہے ہوتے ہىں، ان کی کوئی عزت نہىں ہوتى اور لوگ ان سےگِھن کھاتے ہىں، نیز عقلِ سلىم بھی اِس کام کو ناپسند کرتى ہے۔ اپنے بھائی یا کسی ایسے دوست سے قرضہ مانگا تو اس کو سوال نہیں کہا جاتا۔ ایک دوست دوسرے دوست سے قرضہ لیتا دیتا ہے، لہٰذا اس طرح کے لین دین میں شرعاًکوئى حرج نہىں ہے۔
شاعر کےکلام میں تبدیلی کرنا کیسا؟
سُوال: کچھ شُعَرا ایسے ہوتے ہىں جو اپنے کلام کے آخر مىں اپنے نام کے ساتھ عاجزى کےلئے کچھ الفاظ لکھتے ہىں جنہىں ہم ان کے لئے پسند نہىں کرتے، تو کىا ہم ان اَلفاظ کو تبدىل کرسکتے ہىں؟اور ایسا کرنے سے ہمىں گناہ تو نہىں ملے گا؟
جواب: بعض اوقات بزرگ اپنے لئے عاجزى کے ایسے الفاظ لاتے ہیں جنہیں ہم پڑھ نہیں سکتے، مثلاً اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا اىک شعر ہے: ’’کوئى کىوں پوچھے تىرى بات رضا!‘‘اس کے بعد اگلے شعر میں آپ نے اپنے لئے جو عاجزی کے الفاظ اِستِعمال فرمائے وہ میں اپنی ذات کے لئے کہتا ہوں کہ ’’کوئى کىوں پوچھے تىرى بات عطار! تجھ سے کُتّے ہزار پھرتے ہىں۔‘‘ اعلىٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ىہ لفظ اپنے لئے عاجزى کے طور پر اِستِعمال کىا ہے۔ اس مىں مىرى اپنى سوچ ىہ ہے کہ ىہ لفظ نہ کہا
[1] بخاری، کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت، ۱ / ۴۶۰، حدیث:۱۳۶۷۔
[2] بخاری، کتاب الجنائز، ۱ / ۴۶۰، حدیث:۱۳۶۷۔ مسلم، کتاب الجنائز، باب فیمن یثنی علیه خیراً ...الخ، ص۳۶۸، حدیث:۲۲۰۰۔
[3] )یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۴۵)( (پ۲۲، الاحزاب:۴۵) ترجمۂ کنز الایمان: اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظراور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا۔
[4] مستدرک، کتاب الاطعمة، ۵/۱۶۲، حدیث: ۷۲۰۷۔
[5] مراٰۃ المناجیح، ۳/۴۸ ماخوذاً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع