30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(اس موقع پر نگرانِ شوریٰ نے فرمایا: ) آپ سخت نزلے مىں بھى تولىہ بچھا دىتے ہىں۔ آپ کی اس احتیاط سے شاید بہت سے لوگوں کو سوچ اور جذبہ نصىب ہوجائے،کیونکہ تىل کا اِستِعمال تو اس طرح نہیں کیاجاتا، لیکن نزلہ تو مسجد میں آنے والے بہت سے لوگوں کو ہوتا ہے، انہیں احتىاط کرنی چاہیے اور سجدے کى جگہ پر رومال ىا تولىہ رکھ لینا چاہیے، تاکہ مسجد کى درى یا فرش آلودہ نہ ہو۔
(امیر ِاہلِ سنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا: ) بعض لوگ مسجد کى درى پر سر رکھ کر سوجاتے ہىں جس سے سر رکھنے کی جگہ کالى ہوجاتى ہے، پھر جب اس پر لوگ سجدہ کرتے ہىں توانہیں کراہىت آتى ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے۔ مسجدیں، ریسٹورنٹ نہیں ہیں کہ جہاں کھایا پیا اور آرام کیا جائے۔ مسجد میں کھانے، پینے اور سونے کی اجازت صرف معتکفین کو ہوتی ہے اور وہ بھی اس صورت میں کہ وہ پہلے سے معتکف ہوں۔ صرف کھانے، پینے یا سونے کےلئے اعتکاف کرنے کی اجازت نہیں۔
حیاتِ مُبارکہ مکمل63 سال تھی یا کم زیادہ؟
سُوال: نبىٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کى حىاتِ مبارکہ Exact (یعنی مکمل)63 سال تھى؟یا کچھ کم زیادہ تھی؟ (اسلم عطاری ۔سیالکوٹ)
جواب: احادیث ِمُبارکہ میں نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کی حیاتِ مُبارکہ 63 سال لکھی ہے۔([1]) اس کے علاوہ کم یا زیادہ کے بارے میں کچھ تفصیل موجود نہیں ہے۔ ویسے بھی 12 رَبِیْعُ الْاَوَّلْ شرىف کو وِلادت ہوئى اور 12 رَبِیْعُ الْاَوَّلْ شرىف کو انتقال بھى ہوا ([2]) تو یوں پورے پورے 63 سال ہوگئے۔
گوشت تولنے کے بعد صاف کرکے بیچنا کیسا؟
سُوال: جب مرغى کا گوشت تولتے ہىں تو اس وقت پورا وَزْن ہوتا ہے، لیکن گوشت بنانے کےبعد 10،20 گِرام کم ہوجاتا ہے، کیااس طرح گوشت بیچنا دُرُست ہے؟ (عمران قریشی)
جواب: زِندہ مرغى بھى وَزْن سے دى جاتى ہے۔ جب اُسے کاٹتے ہىں تو اُس کی آلائشیں اور پَر وغىرہ نکالنے کی وجہ سے وَزْن مىں کمی آجاتی ہے۔ اسی طرح جب گوشت لیا جاتا ہےتو تولنے کے بعدوہ گوشت بنواتے ہیں تو اگرتول مىں کوئى ڈَنڈى نہ مارى اور گاہک کو گوشت دیا، لیکن گاہک چاہتا ہے کہ دکان دار ہی گوشت بنادے، ایسی صورت میں چھىچھڑے وغیرہ نکلنے سے وَزْن مىں کمى آئی تو شرعاً کوئی حَرَج نہىں ہے۔ البتہ ىہ نہ ہو کہ گوشت بناتے ہوئے بوٹى سَرکا کر سائىڈ پر ڈال لی ىا صفائى کرتے وقت چھیچھڑےکے ساتھ بوٹى بھی نکال دى۔ بڑے جانوروں مىں باقاعدہ میں نے دیکھا ہےکہ جان بوجھ کر چھیچھڑوں پر لمبا ہاتھ ماررہے ہوتے ہىں، پھربعد میں چھیچھڑوں سے بوٹىاں الگ کرکے بىچتے ہىں، ایسے لوگ حرام کھاتے ہىں اور آسرا بھی نہىں کرتے۔وہ چھیچھڑے جو نہىں کھائے جاتے اور لوگ پھىنک دیتے ہیں انہیں نکال دىنا چاہىے، لیکن اگر اىک ذرہ بھى زائد نکالا تو قىامت کے دن کىسے حساب دىں گے!! قرآنِ کریم میں ہے: ( فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) ) ([3]) (ترجمۂ کنزُالایمان: تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا،اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا )۔ اس آیتِ مُبارکہ میں ذرّے کا تذکرہ ہے جس کی مختلف تعریفات کی گئی ہیں۔’’قُوتُ القُلوب‘‘ میں اِس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ’’ہوا مىں جو ذرّات اُڑتے ہىں جو اتنے باریک ہوتے ہیں کہ بغىر روشنی کے نظر نہىں آتے۔‘‘([4]) اگر کسی نے ایک ذرّے کے بَرابَر بھى کوئى نىکى کى ہوگی تو قیامت کے دن اُس کا اَجر پائے گا۔ اوراگر ذرّہ بَرابَر بُرائى کى ہوگی تو اُسے بھى دىکھے گا۔ اللہ کرىم ہمارے حال پر رَحم وکرم فرمائے اورگناہوں سے بچنے کا ذہن عطا فرمائے۔
انتقال پر ’’اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ‘‘ پڑھنا کیسا؟
سُوال: کیا کسی کے فوت ہوجانے پر ’’اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ‘‘ پڑھ سکتے ہیں؟(SMS کے ذریعے سُوال)
جواب: ’’اَللّٰہُمَّ اَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ‘‘ یعنی ىا اللہ! ہمىں جہنّم کے عذاب سے بچا۔ یہ دُعا کسی کے فوت ہوجانے پر پَڑھنے میں حَرَج نہىں ہے۔ البتہ یہ کہیں نہیں پڑھا کہ انتقال کے وقت ىہى دعا پڑھنی چاہىے۔
کیا تین اَفراد کی تعریف سے میّت کی مغفرت ہوجاتی ہے؟
سُوال: کىا ىہ بات دُرُست ہے کہ ’’کسى کے انتقال کے بعد اگر تىن اَفراد نے بھى مرحوم کى تعرىف کردى تو اللہ پاک اس کى مغفرت فرمادے گا؟‘‘
جواب: تین کا تو یاد نہیں۔ البتہ اس بارے میں ایک حدیثِ مُبارکہ ہے، وہ عرض کرتا ہوں۔ چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فرماتے ہىں کہ ’’کچھ لوگ ایک جنازہ لے کر چلے جس کى لوگوں نے تعرىف کی، نبى کرىم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے فرماىا: واجب ہوگئى۔ پھر دوسرا جنازہ لے کر گزرے جس کی لوگوں نے بُرائی بیان کی تونبی پاک صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے
[1] بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب هجرة النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم واصحابه الی المدینة،۲/۵۹۰، حدیث:۳۹۰۲۔ مسلم، كتاب الفضائل، باب كم سنّ النبى صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم یوم قبض، ص۹۸۳، حدیث:۶۰۹۱۔
[2] مراٰۃ المناجیح، ۸/۹۳۔
[3] پ۳۰، الزلزال: ۷۔
[4] قوت القلوب، الفصل الثامن والعشرون، ذکر المقام الرابع من مراقبة الموقنین، ۱/۲۱۹۔ قوت القلوب(مترجم)، ۱/۵۰۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع