دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Baba Jee Aur Ghar Kay Jhagray | باباجی اور گھر کے جھگڑے

Azab e Qabar Ke Teen Hisse

book_icon
باباجی اور گھر کے جھگڑے

عذابِ قبر کے تین حصّے

حضرتِ قَتادہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں:ہمیں بتایا گیا ہے کہ عذابِ قبر کو تین حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے:ایک تِہائی عذاب غیبت سے، ایک تہائی چُغلی سے، اور ایک تہائی پیشاب (کے چھینٹوں سے خود کو نہ بچانے)سے ہوتاہے۔ (ذم الغیبۃلابن ابی الدنیا، ص92، رقم:52)

کتّوں کی شَکل میں اُٹھیں گے

ہمارے پیارے پیارےآقا،مدینےوالے مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: غیبت کرنے والوں ، چُغل خور وں اورپاکباز لوگوں کے عیب تلاش کرنے والوں کواللہ پاک(قیامت کے دن )کتّوں کی شکل میں اٹھائے گا۔
(التوبیخ والتنبیہ لابی الشیخ الاصبہانی، ص97، رقم:220،الترغیب والترہیب ،3/325، حدیث:10)
حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:خیال رہے کہ تمام انسان قبروں سے بَشکلِ انسانی اٹھیں گے پھر محشر میں پہنچ کر بعض کی صورتیں مسخ ہو جائیں گی ۔ (یعنی بگڑ جائیں گی مَثَلاً مختلف جانوروں جیسی ہو جائیں گی) (مراٰۃ  المناجیح،6/660)

گو شت کی چھوٹی سی بوٹی

اے عاشِقانِ رسول!زَبان اگرچِہ بظاہر گو شت کی ایک چھوٹی سی بوٹی ہے مگر یہ خدائے پاک کی عظیمُ الشان نعمت ہے۔اِس نعمت کی قد ر تو شاید گونگا ہی جان سکتا ہے۔ زَبان کا دُرُست استِعمال جنَّت میں داخِل اور غَلَط استِعمال جہنّم سے واصِل کر سکتاہے۔ اس زَبان سے تِلاوتِ قراٰن کرنے والا اور دُرُود و سلام پڑھنے والا ربُّ العِزّت کی عنایت سے جنّت میں جاتا ہے۔اِس زَبان سے کسی مسلمان کو گالی نکالنے والا نیز غیبت ، چُغلی وتُہمت کا مرتکِب عذابِ نار کا حَقدار قرار پاتا ہے۔ اگر کوئی بدتر ین کا فربھی دل کی تصدیق کے ساتھ زَبان سے لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  پڑھ لے تو کُفر و شِرک کی ساری گندَگی سے پاک ہوجاتا ہے اس کی زَبان سے نکلا ہوا یہ کلمہ طیِّبہ اس کے گزَشتہ تمام گناہوں کے مَیل کُچیل کو دھوڈالتا ہے۔زَبان سے اداکئے ہوئے اس کلمہ ٔپاک کے با عِث وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوجاتا ہے جیسا کہ اُس روز تھا جس رو ز اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ یہ عظیم مَدَنی اِنقِلاب دل کی تائید کے ساتھ زَبان سے ادا کئے ہوئے کلمے شریف کی بدولت آیا ۔

ہر بات پر سال بھر کی عبادت کاثواب

اے کاش !ہم بھی اپنی زَبان کا صحیح استِعمال کر نا سیکھ لیں۔ غیبتوں،چُغلیوں اور تہمتوں بھری باتوں سے پیچھا چھڑا لیں،بے شک اللہ و رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی مرضی کے مطابق اگر زَبان کو چلایا جائے تو جنَّت میں گھر تیّار ہوجائیگا۔ اس زَبان سے ہم تلاوتِ قرآن پاک کریں ، ذِکرُ اللہ کریں، دُرُود وسلام کا وِرد کریں، خوب خوب نیکی کی دعوت دیں تو اِن شاءَ اللہ ہمارے وارے ہی نیارے ہوجائیں گے۔ مُکا شَفَۃُ القُلُوب میں ہے :حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام نے بار گاہِ خداوندی میں عرض کی:اے ربِّ کریم! جواپنے بھائی کو بلائے اور اسے نیکی کا حکم کرے اور بُرائی سے روکے اُس شخص کا بدلہ کیا ہوگا؟فرمایا:”میں اس کے ہر کلمے کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اوراسے جہنّم کی سزادینے میں مجھے حیا آتی ہے۔“(مکاشفۃالقلوب، ص:48)

عاشقانِ رسول کے میٹھے بول کی برکات

پیارے پیارے اسلامی بھائیو!نیکی کی بات بتانے ،گُناہ سے نفرت دلانے اور ان کاموں کیلئے کسی پر انفِرادی کوشِش کا ثواب کمانے کیلئے یہ ضَروری نہیں کہ جس کو سمجھا یا وہ مان جائے تو ہی ثواب ملےگا بلکہ اگر وہ نہ مانے تب بھی اِن شاءَ اللہُ الکریم ثواب ہی ثواب ہے اور اگر آپ کی انفِرادی کوشش سے کسی نے گناہوں سے توبہ کر کے سنّتوں بھری زندگی گزار نی شروع کر دی پھرتو اِن شاءَ اللہ الکریم آپ کا بھی بیڑا پار ہو جائیگا۔
 آیئے اِس ضمن میں اِنفِرادی کوشِش کی ایک مَدَنی بہار سنتے چلیں چُنانچِہ شہر قُصُور (پنجاب ،پاکستان)کے ایک اسلامی بھائی میٹرک کے طالبِ عِلْم تھے، بُری صُحبت کے باعِث زندگی گناہوں میں بسر ہو رہی تھی، مِزاج بے حد غُصیلا تھا ، بد تمیزی کی عادتِ بد اِس حَد تک پَہنچ چکی تھی کہ والِدصاحِب کُجا داداجان اور دادی جان کے سامنے بھی قینچی کی طرح زَبان چلاتے ۔ ایک روزعاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک، دعوتِ اسلامی کا ایک”مَدَنی قافلہ “ان کے مَحَلّے کی مسجِد میں آ پہنچا ، خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ عاشِقانِ رسول سے ملاقات کیلئے پَہنچ گئے۔ ایک اسلامی بھائی نے انفرادی کوشِش کرتے ہوئےانہیں دَرْس میں شرکت کی دعوت پیش کی، ان کے میٹھے بول نےان پر ایسا اثر کیا کہ وہ ان کے ساتھ درس میں بیٹھ گئے ۔ انہوں نے دَرْس کے بعد انتِہائی میٹھے انداز میں انہیں بتایا کہ چند ہی روز بعدصحرائے مدینہ ملتان شریف میں دعوتِ اسلامی کا تین روزہ بینَ الاقوامی سنّتوں بھرا اجتِماع ہو رہا ہے آپ بھی شرکت کر لیجئے۔ ان کے درس نے ان پر بَہُت اچّھا اثر کیا تھا لہٰذا وہ انکارنہ کر سکے۔ یہاں تک کہ وہ سنّتوں بھرے اجتِماع (صحرائے مدینہ،ملتان)میں حاضِر ہو گئے۔ وہاں کی رونَقَیں اور بَرَکتیں دیکھ کر وہ  حیران رَہ گئے،اجتِماع میں ہونے والے آخِری بیان”گانے باجے کی ہَو لناکیاں “سُن کر وہ  تھرّا اُٹھے  اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔اَلحمدُ لِلّٰہ وہ گناہوں سے توبہ کر کے اُٹھےاور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوگے۔ان کی مَدَنی ماحول سے وابستگی سے ان کے گھر والوں نے اطمینان کا سانس لیا،دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت سے ان جیسے نوجوان کی اصلاح سے متأَثِّر ہو کر ان کے بڑے بھائی نے بھی داڑھی مبارک رکھنے کے ساتھ ساتھ عِمامہ شریف کا تاج بھی سجا لیا۔ ان کی ایک ہی بہن ہے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ اس نے بھی مَدَنی بُرقع پہن لیا ، اَلحمدُ لِلّٰہ گھر کا ہر فرد سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں داخِل ہو کر سرکارِ غوثِ اعظم رحمۃُ اللہِ علیہ  کا مُرید ہو گیا۔اس اِنفِرادی کوشش کرنے والے اسلامی بھائی کے میٹھے بول کی برکت سے مجھ پر اللہ کریم نے ایسا کرم فرمایا کہ میں نے قراٰنِ کریم حِفظ کرنے کی سعادت حاصِل کرلی اور درسِ نِظامی (عالِم کورس)میں داخِلہ لے لیا۔اَلحمدُ لِلّٰہ  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے تعلُّق سے عَلاقائی قافلہ ذِمّہ داربھی بنے ۔
دل پہ گر زنگ ہو،سارا گھر تنگ ہو                            داغ سارے دُھلیں قافِلے میں چلو
ایسا فیضان ہو، حِفظ قراٰن ہو                                                          خوب خوشیاں میں قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

قبر کا بھیانک تصوُّر

اے عاشِقانِ رسول!غور کیجئے!سوچئے!!ہو سکتا ہے آج ہی موت آ جائے ، دنیا کی ساری نعمتیں چھوٹ جائیں، سب ارمان خاک میں مل جائیں اور دیکھتے ہی دیکھتے جنازہ قبرِستان میں داخِل ہو جائے، آہ!آہ!آہ!تصوُّر کیجئے اُس وقت کیا گُزررہی ہو گی جب قَبْر میں تنہا رکھ کر ، اوپرسے منوں مٹّی ڈال کر ناز اٹھانے والے رخصت ہو رہے ہوں گے، ہائے !گُھپ اندھیرا ، آہ!وحشت کا بسیرا ،ایسے میں اگر غیبتوں ، چُغلیوں،عیب دریوں،تہمتوں اور بدگمانیوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کے سبب اندھیری قبر میں خوفناک مارپیٹ شروع ہو گئی ، بھیانک آگ سلگا دی گئی، طرح طرح کے زہریلے سانپ بچّھوکفَن پھاڑ کر نازک بدن سے لِپٹ گئے تو کیا بنے گا !عقل بھی سلامت ہو گی، بے ہوشی بھی طاری نہ ہوگی ، چیخ و پکار بھی بے کار ثابت ہوگی، نہ کسی کو پاس بلا سکیں گے، نہ خود کسی کے پاس جا سکیں گے! ہائے میرے اللہ
گھُپ اندھیر ا ہی کیا وحشت کا بسیر ا ہو گا                             قبر میں کیسے اکیلا میں رہوں گا یا رب !
گر کفن پھا ڑ کے سانپوں نے جمایا قبضہ                         ہائے بربادی! کہاں جا کے چُھپوں گا یا رب!
ڈنک مچھر کا سَہا جاتا نہیں ،کیسے میں پھر                                        قبر میں بچھّو کے ڈنک آ ہ سہوں گا یا رب!
گر تُو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی                                            ہائے ! میں نا رِ جہنّم میں جلوں گا یا رب!
عَفو کر اور سد ا کے لئے راضی ہو جا                          گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یا رب!

بھابھی نے جادو کروا دیا ہے

اے عاشِقانِ رسول!گھر میں بیماری ، پریشانی یا بے رُوزگاری ہو تو آج کل اکثر وَسوسہ آتا ہے کہ شاید کسی نے جادو کر وادیا ہے، لہٰذا”بابا جی“(تعویذ دھاگہ دینے والے)سے رابِطہ کیا جاتاہے ، بِالفرض”باباجی“بتادیں کہ تمہارے قریبی رشتے دار نے جادو کروایا ہے تو عُمُوماً بہو یابھابھی کی شامت آجاتی ہے ۔ بعض اوقات ”بابا جی“جادو کرنے والے یا والی کے نام کا پہلاحَرف بلکہ نام ہی بتادیتے ہیں!کبھی کبھی تو سوئیوں والا ماش کے آٹے کا پُتلااورتعویذ وغیرہ بھی گھر سے برآمد ہو جاتا ہے ۔ اورپھرلوگ ایسے ”بابا جی“پر اندھا بھروسہ کر لیتے ہیں اور خاندان بھر میں غیبت وبُہتان تراشی کا بد ترین سلسلہ چل نکلتا نتیجتاً ہرا بھر ا لہلہاتا خاندان تاخت وتاراج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ یاد رکھئے !بِلاثُبُوتِ شَرعی صرف عامِلوں اور باباؤں کے کہنے پر اگر آپ نے کسی سے کہا:مَثَلاً ”ہماری بھابھی جادو کرواتی ہے “تو یہ بُہتان ، گناہِ کبیرہ ، حرام اور جہنّم میں لیجانے والا کام ہوا اور اگر کسی نے چھپ کر واقِعی جادو کروا بھی دیا ہواور آپ کو یقینی طور پر پتا چل گیاہو تب بھی اُس مخصوص فرد کا جادو کے حوالے سے بِلامَصلَحتِ شَرْعی کسی سے تذکِرہ کرنا غیبت ہے۔خیال رہے!عاملوں یا باباؤں کابتانا شرْعی ثُبُوت نہیں کہلاتا۔

اگر گھر سے سوئیوں والا پُتلا برآمد ہوجائے تو!

وسوسہ: ”بابا جی“نے نام اور سُوئیوں والے  پتلے کی نشاندہی کر دی پھر بھی یہ شَرْعی ثُبُوت کیوں نہیں ؟ کیا”بابا جی“جھوٹے ہیں؟
وسوسے کاعلاج: دیکھئے !کسی بات کو دلیلِ شرْعی نہ ماننا اور ہے اور جس کی دلیل نہ مانی گئی اسے جھوٹا سمجھنا اور ہے۔ مَثَلًا کسی بات میں دو گواہوں کی حاجت ہو اور گواہ صِرْف ایک ہووہ اگرچِہ کوئی صالِح، نیک بلکہ ولی ہی ہو، قاضی اُس کی گواہی رد کردیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ قاضی اُس کو جھوٹا سمجھ رہا ہے بلکہ شریعت نے گواہی کا جونصاب مقرر کیا ہے قاضی اُس نصاب کے حکم پر عمل کررہا ہے۔یونہی ہم باباجی کو جھوٹا نہیں کہہ رہے بلکہ حکمِ شرعی پر عمل کرتے ہوئے بابا جی کے بتا دینے کو دلیل بنا کر کسی شخص پر جادو کا الزام نہیں ثابت کررہے بَہَرحال حکمِ شریعت یہی ہے کہ کسی بابا جی کاپُتلے وغیرہ کے بارے میں بتادینا اور اُس پتلے کا برآمد ہوجانا اِس بات کی دلیلِ شرعی نہیں ہے کہ واقِعی فُلاں رشتے دارہی نے یہ جادو کروایا ہے۔

جو بابا پیسے نہ مانگتے ہوں وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں؟

وَسوَسہ: جو بابا جی تعویذات وغیرہ کے پیسے نہیں مانگتے وہ کس طرح غَلَط ہو سکتے ہیں؟
وَسوَسے کا علاج: عملیات کی لائن ایسی ہے کہ جو پیسے نہیں مانگتا بعض اوقات اس کی آمدنی مانگنے والوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ بار بار پیسے مانگنے والوں سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔حضرتِ مولائے کائنات، مولیٰ علی شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ  فرماتے ہیں:بچھڑا جب تھنوں کو بَہُت زیادہ چوسنے لگتا ہے تو اس کی ماں اُس کو سینگ مارتی ہے۔(مکاشفۃالقلوب ،ص220) بَہَرحال ”بابا“اگر چِہ پیسے نہ مانگتا ہو تب بھی لوگ چُونکہ حقیقت سے ناواقِف ہوتے ہیں اِ س لئے عُمُوماً اَیسوں کے زیادہ عقیدت مند ہو جاتے ہیں اور پھر دعوتوں اور نذرانوں کی ترکیب کے ساتھ ساتھ شُہرت وعزَّت بھی حاصل ہوتی ہے ۔حُبِّ جاہ یعنی عزَّت وشہرت کی مَحَبَّت کا مَرَض جن کو لگ جاتا ہے وہ لوگ مشہوری کیلئے کروڑوں روپے اپنے پلّے سے خرچ کرنے سے بھی نہیں چُوکتے!عام انتخابات(Election) کے مَواقِع پر جَمہوری ممالِک میں اس کے نظّارے عام ہوتے ہیں ۔ یقینا شریعت کے کسی بھی مُعامَلے میں قَطْعاًجَھول نہیں ۔یاد رکھئے! اِستخارات ، مُوَکَّلات اور جِنّات کے ذَرِیعے نہیں بلکہ قراٰن وسنّت کے اَحکامات کے تَوَسُّط سے اسلامی عدالتوں کے مُعامَلات طے کئے جاتے ہیں۔

اگر تکیے کے نیچے سے تعویذ نکل آئے تو؟

وسوسہ: اگر بھابھی یا بہو کی جیب یا اُس کے تکیے کے نیچے سے تعویذ برآمد ہوا ہو تو کیا یہ بھی شَرعی ثبوت نہیں؟
وسوسے کا علاج: یہ بھی شرعی دلیل نہیں۔ جو تعویذ برآمد ہوا اُسے ”جادو“قرار دینے کیلئے بھی تو کوئی معقول دلیل ہونی چاہے !اپنے علاج یا کسی نِجی مقصد کیلئے بھی تو وہ تعویذ استعمال کر سکتی ہیں ۔ باِلفرض وہ جادو ہی کا تعویذ ثابت ہو جائے تب بھی اس کا کیا ثُبُوت ہے کہ آپ کو نقصان پہنچانے ہی کیلئے وہ لائی تھیں۔ یہ شیطانی حرکت بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی شریر جِنّ گھر میں فَساد کروانے کیلئے تکیے کے نیچے یا جیب میں تعویذ ڈالدے !

مُنہ کی بدبو کے باوُجُود شرابی نہ کہا جائے

امام محمدبن محمد بن محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ کے فرمان کا خُلاصہ ہے:کسی شخص کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہو اِس بِنا پر اس پر حَد لگانی جائز نہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے اِس نے شراب سے کُلّی کی ہو،خودنہ پی ہو کسی نے زبردستی پینے پر مجبور کردیا ہو ۔ لہٰذا اِس مسلمان پر (صِرْف مُنہ کی بدبُو کے سبب)بد گُمانی نہ کی جائے (یعنی اِس کو شرابی قرار نہ دیا جائے) (احیاءالعلوم ،3/186)

شَرعی ثُبُوت کسے کہتے ہیں

شرْعی ثُبُوت کی یہاں صورت یہ ہے کہ یا تو جِس پر الزام ہے وہ خود بہ ہوش و حواس اقرار کرے کہ میں نے جادو کروایا ہے، اگر وہ انکار کرے تو دو مر د مسلمان یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورَتیں گواہی دیں کہ ہم نے اس کو جادو کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔اگر مذکورہ شَرْعی گواہ نہیں لاسکتے تو جس پر الزام ہے اگر وہ قسم کھالے کہ میں نے جادو نہیں کروایا تو اُ س کو سچّا ماننا ضَروری ہے ۔

تُو نے چوری کی

دیکھئے!شیطان کے اُکسانے پر بہو وغیرہ پر جادو کا الزام لگانے اورپوچھ گچھ کے دوران اس کے انکار پر ہر گز یہ بات زَبان پر نہ لایئے کہ یہ پھنس گئی تو اب اِس نے انکار کرنا ہی ہے اور آدمی عزّت بچانے کیلئے تو جھوٹی قسم بھی کھا لیتا ہے اِس لئے یہ بھی جھوٹی قسم کھا رہی ہے ۔  خدارا ایک مسلمان کی عزّت کی اَہَمِّیَّت کو سمجھنے کی کوشِش کیجئے ۔ آپ کی عبرت کیلئے ایک ایمان افروز حدیث شریف عرض کرتا ہوں: چُنانچِہ حضرتِ ابو ہُریرہ رضی اللہُ عنہ  فرماتے ہیں:اللہ پاک کی عطا سے غیب کی خبریں دینے والے پیارے پیارے مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کافرمانِ عالی شان ہے:حضرتِ عیسیٰ ابنِ مریم نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اُس سے فرمایا:”تو نے چوری کی،“وہ بولا:”ہرگز نہیں اُس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں “ تو حضرتِ عیسیٰ نے فرمایا:میں اللہ پر ایمان لایا اور میں نے اپنے آپ کو جھٹلایا ۔  (مسلم، ص1288 ،حدیث:2368)

…کہ میری آنکھوں نے دیکھنے میں غلطی کی

اللہُ اکبر !دیکھا آپ نے! حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ  اللہ علیہ السّلام نے قسم کھا لینے والے کے ساتھ کتنا عظیم برتاؤ کیا ۔ حضر تِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اُس قسم کھانے والے کو چھوڑ دینے کے متَعَلِّق حضر تِ عیسیٰ روحُ اللہ علیہ السّلام کے جذبات کی عکّاسی کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:یعنی اِس قسم کی وجہ سے تجھے سچّا سمجھتا ہوں کہ مومن بندہ اللہ(پاک)کی جھوٹی قسم نہیں کھاسکتا ،(کیونکہ)اس کے دل میں اللہ کے نام کی تعظیم ہوتی ہے، اپنےمتَعَلِّق غَلَط فہمی کا خیال کر لیتا ہوں کہ میری آنکھوں نے دیکھنے میں غلطی کی ۔ (مراٰۃ  المناجیح،6/233) اللہ ربّ العزَّت کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

توبہ اور مُعافی کا طریقہ

اُمّید ہے مسئلہ سمجھ میں آ گیا ہو گا ،ایسے مواقِع پر صَبْر کرنا چاہے ورنہ بدگمانیوں ، غیبتوں اور تہمتوں وغیرہ گناہوں سے بچنا دشوار ہو جاتا ہے ۔ اب اگر کسی نے اِس طرح کی خطا کی ہے کہ بِغیرثُبوتِ شرعی جادو کا الزام لگا بیٹھا ہے تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ ِ بیکس پناہ میں گڑ گڑا کر توبہ کرے اور توبہ کے تقاضے بھی پورے کرے نیز جس پر الزام لگایا مَثَلاً بھابھی یا بَہو وغیرہ تواُن سے مُعاف بھی کروائے ۔رسمی طور پر صرف SORRYکہہ دینا کافی نہیں بلکہ جس دَھڑَلّے (یعنی بے باکی اور دھوم دھڑکّے )سے اُس کی بدنامی اور دل آزاری کی ہے اُسی کی مُناسَبَت سے خوب عاجِزی کر کے ،گڑ گڑا کر اور ہاتھ جوڑ کر اُس سے اِس قَدَر مُعافی مانگے کہ اُس کا دل مطمئن ہو جائے اور وہ مُعاف کر دے نیز جن جن کو یہ بات بتائی ہو اُن کے سامنے بھی کہنا پڑے گا کہ میں نے جُھوٹا الزام لگایا تھا ۔ واقِعی یہاں نَفس مُعافی مانگنے سے انکار ہی کریگا۔ اب بندے پر ہے کہ مُعافی مانگ کر دُنیوی طور پر اپنے نفس کی معمولی سی ذلّت اختیار کرے یاآخِرت کی درد ناک رُسوائی اور ہولناک سزا۔ دیکھئے ! شیطان طرح طرح کے حیلے بہانے سُجھائے گا، وَسوَسے دلائے گا کہ مَثَلاً یوں تو یہ سر چڑھ جائے گی، اِس کا دل کُھل جائے گا، ہم پر قبضہ جما لے گی ، ہماری بدنامی ہو جائیگی وغیرہ۔ آپ ان شیطانی خیالوں کی طرف نہ جایئے ، اللہ پاک کی رِضا کیلئے حکمِ شریعت پر عمل کیجئے اِن شاءَ اللہ الکریم اِس کی بَرَکت خود ہی دیکھ لیں گے۔ یہاں تک کہ خدانخواستہ وہ واقعی مُجرِمہ ہوئی تب بھی آپ کی خوش اَخلاقی اور عاجِزی کی بَرَکت سے اِن شاءَ اللہ  الکریم آپ کی خیر خواہ بن جائیگی۔

ڈرائیور کی جان بچ گئی

کراچی کے عَلاقہ نیاآبادکی ایک اسلامی بہن کے حلفیہ بیان کا خلاصہ ہے کہ میرے ایک بھائی جو کہ عَرَب شریف کے شہر”ریاض “میں بحیثیت ڈرا ئیور ملازَمت کر رہے ہیں ۔ ایک دن ڈرائیونگ کے دَوران خطرناک حادِثہ ہوا اوروہ بے ہوش ہو گئے ۔ دِماغی چوٹیں اتنی زیادہ تھیں کہ بچنے کی اُمّید نہ رہی ۔ ہم لوگ مجبور تھے اُن کو دیکھنے بھی نہ جاسکتے تھے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ میں عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیا کرتی تھی۔ میں نے بھائی جان والی پریشانی اپنے عَلاقے کی ایک اسلامی بہن کو بتائی۔ انہوں نے مجھے دلاسہ دیاا ور مشورہ دیا کہ اِسی طرح پابندی سے اجتِماع میں شرکت کر کے خوب دُعا کیاکرو۔چُنانچِہ میں نے ایسا ہی کیا اَلحمدُ لِلّٰہ  اجتماع میں کی جانے والی دعاؤں کی بَرَکت سے تین ماہ کے اندر اندر بھائی جان نے بات چیت شروع کردی ۔ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے کیوں کہ دِماغی چوٹیں بہُت زیادہ تھیں اور بظاہر بچنے کی اُمّید بَہُت کم تھی ۔ اَلحمدُ لِلّٰہ اجتماعات کی برکات پر میری عقیدت اور زیادہ مضبوط ہوئی۔
اے  اسلامی بہنو کبھی چھوڑنا  مت                             مصائب کو دےگا بھگا مَدَنی ماحول
تُو پردے کے ساتھ  اجتماعات میں آ                                       تری دےگا بگڑی بنا  مَدَنی ماحول
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن