30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے،فیکٹری بنانی ہے،یہ نہیں سوچتے کہ بچوں کے لیے حلال کما رہے ہیں یا حرام؟ بچوں کی تَربیت کیا کر رہے ہیں؟ یاد رَکھیے! جو شخص بچوں کے لیے مال چھوڑ کر جائے اور بچوں کی تَربیت نہ کرے تو وہ اس مال سے حرام کام کریں گے تو عذاب اُسے ملے گا۔ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدُالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے بارے میں آتا ہے جب آپ دُنیا سے جانے لگے تو آپ کے پاس بہت تھوڑا سا مال تھا ۔ کسی نے کہا: آپ نے اپنے بچوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے کیا شاندار جواب دیا کہ اگر میرے بچے اللہ پاک کے نافرمان ہیں توان کے لیے کچھ چھوڑ کر جانا دُرُست ہی نہیں کہ وہ اُسے غلط کاموں میں خرچ کریں گے اور اگر اللہ پاک کے فرمانبردار ہیں تو اللہ پاک اپنے غیب کے خزانوں سے انہیں عطا فرما دے گا،انہیں خود ہی غنی کر دے گا اور ان کی روزی میں بَرکت ڈال دے گا۔ (1)
حلال تھوڑا بھی ہو اُس میں بَرکت بہت ہوتی ہے
یہاں دو باتیں قابلِ ذِکر ہیں:پہلی بات نیک اَولاد جو والدین کے چھوڑے ہوئے مال کو صحیح طریقے سے اِستعمال کرے اور دوسری بات مالِ حلال۔ اگرحلال مال تھوڑا بھی ہو تو اللہ پاک اُس تھوڑے مال میں بھی اَولاد کے لیے بَرکت ڈال دیتا ہے۔دُنیا میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اَربوں پتی لوگ اپنے بچوں کے لیے بہت بڑا Business (کاروبار) چھوڑ کر دُنیا سے جاتے ہیں،اُن کے بچے غَلَط کاموں میں لگے ہوتے ہیں،
1…… احیاء العلوم،کتاب ذم البخل و ذم حب المال،بیان ذم المال وکراھة حبه، ۳/۲۸۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع