30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسلم کَلِمَۂ طَیِّبَہ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللہِ پڑھ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد وہ نو مسلم اسلامی بھائی شرکائے قافلہ کو اپنے ساتھ دیگر غیرمسلموں کے پاس لے گئے۔ مبلّغِ دعوتِ اسلامی نے ان پر بھی انفرادی کوشش کی، دینِ اسلام کیتعلیمات سے روشناس کرایا اور انہیں بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت پیش کی۔ تھوڑی دیر تک جاری رہنے والے سوالات و جوابات کے تبادلے کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ یوں اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مدنی قافلے کے عاشقانِ رسول کی مختصر سے وقت میں کی گئی انفرادی کوشش کی برکت سے25 غیر مسلموں کودولتِ ایمان نصیب ہوگئی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مدنی قافلوں میں سفر کرنا کیسا عظیم کام ہے ، اس کی بدولت نہ صرف گناہ گار تائب ہوتے بلکہ کتنے ہی غیرمسلموں کو ایمان کی دولت نصیب ہو جاتی ہے۔لہٰذا نیّت فرما لیں کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر تیس دن میں کم از کم تین دن کے مدنی قافلے میں ضرور سفر کروں گا۔
{4} نومسلم، عالم کیسے بنا؟
سکھر (باب الاسلام، سندھ) کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ اسلام کے دامن میں آنے سے پہلے میں کفر و شرک کے ظلمت کدوں میں بھٹک رہا تھا۔ میرے رب عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر کرم ہوا اور مجھے راہِ ہدایت نصیب ہوگئی، ہوا کچھ اس طرح کہ رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۱۸ھ بمطابق دسمبر 1997ء میں دینِ اسلام کی تعلیمات سے متأثر ہو کر اپنے علاقے کے ایک جیّدعالمِ دین کی خدمت میں حاضر ہوا اور کفر و شرک سے توبہ کرکے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ایمان کی عظیم دولت ملنے پر میں شاداں و فرحاں تھا لیکن فرائض و واجبات اور دیگر احکام سیکھنے کی فکر بھی لاحق ہو چکی تھی۔ نیز اسلام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتا تھامگر کچھ مسائل کی وجہ سے شَش و پنج کا شکار ہو گیا۔ ایسے میں مجھے ایک اچھے ماحول کی تلاش تھی جو اس معاملے میں میری رہنمائی اور مُعاوَنَت کرے۔ اسی دوران خوش قسمتی سے مجھے دعوتِ اسلامی کا مہکا مہکا مدنی ماحول میسر آگیا، جس کی بدولت میری زندگی میں مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ پھر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی تالیف ’’ فیضانِ سنّت ‘‘ کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا جس کے ذریعے مجھے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ اور دعوتِ اسلامی کا تعارف ہوا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ العَالِیہ کی خوفِ خدا اور عشقِ مصطفی سے لبریز تحریر پڑھ کر مجھ پر یہ بات آشکار ہو گئی کہ عالمِ اسلام میں اہلسنّت و جماعت ہی اسلام کی تعلیمات پر صحیح طورپر عمل پیرا ہے۔ جوں جوں میں فیضانِ سنّت کا مطالعہ کرتا گیا اس کی برکت سے نہ صرف میرے اَخلاق و کردار میں نکھار آتا گیا بلکہ رفتہ رفتہ میں فرائض و واجبات، سُنَن و نوافل کا پابند بھی بنتا چلا گیا۔ ابتداً داڑھی شریف رکھنے میں کافی دشواری ہوئی مگر شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی تحریر کی چاشنی نے میرے دل میں سنّت کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کر دیا کہ میں نے نہ صرف اپنے چہرے کو میٹھے مَدَنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنّت داڑھی شریف کے نور سے پُرنور کرلیا بلکہ سر پر عمامہ شریف کا تاج بھی سجا لیا۔ فیضانِ سنّت کے مطالعہ سے جہاں اور بے شمار برکتیں حاصل ہوئیں وہیں درست مخارج سے قراٰنِ مجید پڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔ جس کے لیے میں نے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا۔ مدرسۃ المدینہ میں جہاں میں قراٰنِ مجید پڑھنے کی سعادت پانے لگا وہیں گاہے گاہے سنّتوں کے عامل شفیق اساتذہ سے علمِ دین کے فضائل بھی سُنتا، جن کی بدولت میرے اندر عالمِ دین بننے کا شوق بھی پروان چڑھنے لگا۔ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے میں نے دعوتِ اسلامی کے علمی شعبے جامعۃ المدینہ میں عالم کورس کے لیے داخلہ لے لیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل و کرم اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم کی نظرِعنایت سے میں نے درسِ نظامی (عالم کورس) مکمل کر لیا اور پھر جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ (سکھر) میں ناظمِ جدول کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔ تا دمِ تحریر اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ بابُ المدینہ (کراچی) کی ایک نو مسلم آبادی میں دینِ اسلام کی تعلیمات عام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
اللہعَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالٰی عَلٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع