30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
:مجنونہ یا عارفہ
حضرت سَری سقطی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک رات نیند نہ آ ئی تو میں نے سوچا کیوں نہ قبرستان جاؤں،ممکن ہے زیارتِ قبور،یومِ آخِرَت اور دوبارہ زندہ اُٹھائے جانے کے متعلّق غوروفکر سے میراغم زائل ہوجائے۔ میں قبرستان چلاگیا،لیکن وہاں بھی میں نے اپنے دل کو کشادہ نہ پایا۔ تو پھر سوچا کہ بازار چلتا ہوں،ہوسکتا ہے لوگوں سے مل جل کر میں اپنی بے قراری دورکر سکوں۔ میں نے ایسا ہی کیا،پھر بھی میرے دل کی تنگی دور نہ ہوئی۔ پھر مجھے پاگل خانے کا خَیال آیا کہ مجنون اور پاگل لوگوں اور ان کے اَفْعَال کو دیکھ کرشاید میرے دل کی گھٹن ختْم ہو جائے۔ وہا ں داخِل ہوتے ہی میں نے اپنے دل سے غم کو دورہوتا ہوا محسوس کیا۔ میں بارگاہِ الٰہی میں عرض گزار ہوا: یا اللہ!یہاں آنے کے لئے تونے مجھے چلایااور بیدار کیا؟تو مجھے ایک آواز آئی: یہاں ہم تمہیں اپنی حِکْمَت کے تحت لائے ہیں۔ فرماتے ہیں:میں پاگلوں کی طرف بڑھا تو میں نے ایک زرد رُو باندی کو دیکھا، جس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اورو ہ اللہ کے ذکْر میں مشغول تھی۔ میں نے سنا کہ وہ اس مَفْہُوم کے چند اشعار پڑھ رہی تھی:میں اللہ کی پناہ طلب کرتی ہوں کہ بغیر کسی جُرم کے میرے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ دیئے گئے ہیں حالانکہ میں نے خیانت کی ہے نہ چوری،میرے سینے میں بھی ایک دل ہے جسے میں جلتا ہوا محسوس کرتی ہوں،اے میرے دل کی آرزو!تو یقیناً حق پرہے،اگرمیں نے تجھے پورا نہ کیاتو گویا محض اپنی باتوں سے تجھے دھوکے میں مبتلا رکھوں گی۔آپ رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:میں نے قریب کھڑے ہوئے نگہبانوں سے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟انہوں نے جواب دیا: اس کی عقل زائل ہوچکی ہے،اس لئے اس کے آقا نے اسے قید کر دیا ہے۔جب باندی نے ان کی یہ بات سنی تو گہری سانس لیتے ہوئے مزید کچھ اشعار پڑھنے لگی، جن کا مفہوم یہ ہے:اے لوگو!میں نے کوئی جرم نہیں کیا،بلکہ میں تو دیوانی ہوں اور میرا دل ہی میرا محبوب دوست ہے اور تم نے میرے ہاتھ باندھ رکھے ہیں، حالانکہ میں نے سوائے محبّت کےکوئی جُرم نہیں کیا،میں تو اپنے محبوب کی محبَّت میں فنا ہوں اوراس کے درسے ہٹنے والی نہیں، تم جو کچھ میرے لئے بہتر سمجھتے ہو وہ میرے لئے بُرا ہے اور جو میرے لئے بُرا سمجھتے ہووہ میرے لئے بہتر ہے۔
حضرت سَری سقطی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اس کا یہ کلام سن کر میں رونے لگا،میرادل بے قرار ہوگیا،جب اس نے میرے چہرے پر آنسو بہتے ہوئے دیکھے تو کہنے لگی:اے سَری! اوصافِ الہٰیہ سن کر آپ کا یہ حال ہوگیا تو اگر آپ کو اس کا کماحقُّہ عرفان حاصِل ہو جائے تو پھر آپ کا حال کیا ہوگا؟میں نے کہا:تعجب ہے، مجھے یہ باندی کیسے پہچانتی ہے؟ جبکہ میری اس سے پہلے کبھی ملاقات ہوئی تھی نہ کوئی جان پہچان تھی۔تو اُس نے کہا:اے سَری! جب سے مجھے معرِفَت حاصِل ہوئی ہے، میں جاہل نہیں رہی۔جب سے عِبَادَت میں مشغول ہوئی ہوں کبھی غافل نہیں ہوئی،جب سے وِصَال ہوا کبھی جُدائی نہیں ہوئی،جب سے اس کا دیدار کیا تب سے حجاب حائل نہ ہوا اور اہلِ درجات تو ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔1
:مخفی اسرار کی عارفہ
حضرت یزید بن حباب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بار میرا گزر حضرت حمدونہ مجنونہ رحمۃُ اللہِ علیہا کے قریب سے ہواجو ایک چوراہے پر اُون کا جبہ پہنے بیٹھی تھیں، جس کی آستینوں پر سیاہی سے یہ شعر لکھا ہواتھا:
سَلَبَ الرُّقَادَ عَنِ الْجُفُونِ تَشَوُّقِیْ
فَمَتٰی اللِّقَاءُ یَاوَارِثَ الْاَ مْوَاتِ
یعنی میرے شدتِ شو ق نے آنکھوں سے نیندکودورکردیا،اے موت عطافرمانے والے! تجھ سے ملاقات کب نصیب ہوگی۔
میں نے سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا پھر فرمایا: کیا تم یزید بن حباب نہیں ہو؟ میں نے عرض کی:جی ہاں! مگر آپ نے کیسے پہچانا؟ فرمانے لگیں:میں نے مخفی اسرار کی معرفت سے تَعَلّق رکھا تو ملکِ جبّار کے بتانے سے تمہیں پہچان لیا۔2
:میدانِ اسرار کی عارفہ
حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں ایک بار طواف کر رہا تھا، اچانک ایک نور چمکا اور آسمان تک جا پہنچا، مجھے تعجب ہوا، بہرحال میں طواف سے فارِغ ہو کر کعبہ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور اس نور کے بارے میں غور و فکر کر ہی رہاتھا کہ میں نے درد میں ڈوبی ہوئی ایک آواز سنی۔ جب آواز کا پیچھا کیا تو ایک لڑکی کو دیکھا جو کعبہ کے غلاف کو پکڑ کر اس مفہوم کے اشعار پڑھ رہی تھی:اے میرے حبیب! تو خوب جانتا ہے کہ کون میرا حبیب ہے؟ جسم کی لاغری اور آنسو دونوں میرا راز ظاہِر کر رہے ہیں۔ بے شک میں نے مَحبَّت کو چھپایا یہاں تک کہ پوشیدگی کے سَبَب میرا سینہ تنگ ہو گیا۔اس کی باتیں سن کر میں رونے لگا۔پھر اس نے کہا: میرے حبیب تیری اس مَحبَّت کے صَدْقے جو تجھے مجھ سے ہے مجھے بخش دے۔میں نے کہا:اے لڑکی!کیا تجھے یہ کافی نہ تھا کہ یہ کہتیں:میری اس مَحبَّت کے صَدْقے جو مجھے تجھ سے ہے۔اس نے کہا:اے ذُوالنُّون!مجھ سے دور ہو جائیے!کیا آپ کو معلوم نہیں اللہ پاک کے کچھ بندے ایسے ہیں جو اللہ پاک سے مَحبَّت کرتے ہیں اور اللہ ان سے مَحبَّت فرماتا ہے؟بلکہ اللہ کی مَحبَّت ان کے ساتھ ان کی مَحبَّت سے پہلے ہوتی ہے۔کیا آپ کو یہ فرمان باری تعالیٰ یاد نہیں:
فَسَوْفَ یَاۡتِی اللہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ
(پ6،المائدة:54) ترجمۂ کنز الایمان:تو عنقریب اللہ ایسے لوگ لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔
لِہٰذا یہاں اللہ پاک کی مَحبَّت ان کی مَحبَّت سے پہلے ہوئی۔میں نے پوچھا:آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ میں ذُوالنُّون ہوں؟لڑکی نے جواب دیا: جب دلوں نے میدانِ اَسرار میں چکر لگایاتو میں نے آپ کو اللہ کی معرفت سے پہچان لیا۔3
:عشقِ الٰہی میں سرشار ولیہ
حضرت زَہْرَاء والہہ رحمۃُ اللہِ علیہا کا شمار اللہ پاک سے مَحبَّت کرنے والیوں میں سے بے خود لیکن عقلمند اور معرفتِ الہٰیہ سے سرشار عظیم خواتین میں ہوتا ہے، بلاشبہ ان کی ایک بیٹی بھی انہی کی طرح عشقِ الٰہی کے سمندر میں غوطہ زن تھیں، حضرت ذُوالنُّون مصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بَیْتُ الْمُقَدَّس کے پہاڑوں میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک میں نے ایک آواز سنی، کوئی کہہ رہا تھا:اے بے حد اور بے انتہا نعمتوں والے!اور اے جود و کرم اور حقیقی بقا والے!اپنی قدرت کی سیر کرانے میں میرے دل کی بَصَارَت کو دراز فرما اور اے لُطْف و کرم فرمانے والے! میری ہِمَّت کو اپنے لُطْف و کرم کے ساتھ متصل فرما اور اے رءوف و رحیم!مجھے اپنے جَلَال کے صَدْقے متکبر اور سرکشوں کے راستے سے پناہ عطا فرما،تنگی اور فراخی دونوں حالتوں میں مجھے اپنا خادم اور طالب بنا،اے میرے دل کو روشن کرنے والےاور اے مَطْلُوبِ حقیقی تو میرا ساتھ دے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اس آواز کو تلاش کرتے ہوئے ایک نیک خاتون کے پاس جا پہنچا جو عِبَادَت و ریاضت کی وجہ سے جلی ہوئی لکڑی کی طرح ہو چکی تھیں، ان کے جسم پر اُون کا لِباس اور بالوں سے بنا ہوا دوپٹّا تھا،انہیں عِبَادَت و ریاضت نے کمزور،غموں نے فنا اور عِشقِ الٰہی نے قتل کر ڈالا تھا،میں نے سلام کیا تو انہوں نے مجھے میرے نام سے مخاطب کرتے ہوئے سلام کا جواب دیا، جس پر میں نے تعجب سے کہا:لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ!آپ نے میرا نام کیسے جان لیا حالانکہ آپ نے مجھے کبھی نہیں دیکھا؟بولیں:مجھ سے میرے محبوبِ حقیقی نے اسرار کے پردے ہٹا دیئے، میرے دل کے اندھے پن کو دور کر دیا اس لیے میں نے آپ کا نام جان لیا۔4
1 …الروض الفائق، ص290 مختصراً
2…آنسوؤں کا دریا، ص 195
3 …روض الریاحین، ص375
4 …روض الریا حین، ص 66مختصراً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع