30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
:کھانے میں برکت
**
ایک بار رسولِ انور، مکے مدینے کے تاجور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دولت خانہ میں کئی دن کھانا نہ پکا، جب بھوک کا غلبہ ہوا تو آپ اپنی ازواج کے گھروں میں تشریف لے گئے مگر کسی کے پاس کچھ نہ پایا۔ پھر خاتونِ جنت کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے تو انہوں نے بھی عرض کی: نہیں، یَا رَسُولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! کچھ بھی نہیں ہے۔ وہاں سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم واپس ہوئے ہی تھے کہ کسی ہمسایہ نے سیِّدہ خاتون ِجنّترضی اللہُ عنہا کی خدمت میں دو ۲روٹیاں اور کچھ گوشت بھیجا۔ سیِّدہ خاتونِ جنّت رضی اللہُ عنہا نے سوچا کہ اگرچہ ہم سب حاجت مند ہیں، مگر میں یہ کھانا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گی۔ اس خیال سے وہ کھانا ایک برتن میں رکھ دیا اور حضرات حسنین کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں بلانے کیلئے بھیجا۔ حضور تشریف لائے تو وہ کھانا پیش کرنے کے لئے جونہی آپ رضی اللہُ عنہا نے اس طشتری (یعنی روٹی اور سالَن کے لئے دھات سے بنا ہوئے خوان)کو کھولا تو آپ رضی اللہُ عنہا یہ دیکھ کر حیران ہو گئیں کہ وہ طشتری کھانے سے بھری ہوئی تھی۔پھر جب حُضُورِ اَکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دریافت فرمایا:فاطمہ! اَنّٰی لَكِ هٰذَا؟یعنی یہ تیرے پاس کہاں سے آیا؟تو آپ نے عرض کی:هُوَ مِنْ عِنۡدِ اللهِ اِنَّ اللهَ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَاب۔ وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ پاک جسے چاہے بے حساب دے۔تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مسکرائے اور ارشاد فرمایا:تمام تعریفیں اللہ پاک کی ہیں جس نے تم کو بنی اسرائیل کی سردار (بی بی مریم)کی مِثْل بنایا۔وہ بھی غیبی کھانا پا کر یہی کہا کرتی تھیں۔ پھر حُضُورِ اَقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمنے حضرت علی، حضراتِ حسنین کریمین اور دوسرے اَہْلِ بیت رِضْوَانُ اﷲِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو جمع فرما کر سب کے ساتھ کھانا تَناوُل فرمایا، مگر وہ اسی طرح رہا جس طرح پہلے تھا۔پھر یہ کھانا حضرت فاطمہ رضی اللہُ عنہا نے اپنے پڑوسیوں میں تقسیم کر دیا۔1
#**:کم کا زیادہ ہو جانا
**#
معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تواضُع کے لئے حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہُ عنہا کے پیش کردہ کم کھانے میں اتنی بَرَکَت ڈالی جو کثیر لوگوں نے کھایا، یہ بھی کرامت ہی کی ایک صُورَت ہے، مگر کرامت کی ایک صُورَت یہ بھی ہے کہ جو تھوڑا بہت پاس ہو وہ بھی راہِ خُدا میں دیدیا جائے یعنی وہ خَتْم ہو جائے اور پھر ہاتھوں ہاتھ زیادہ کی واپسی کا یقین ہو۔ جیسا کہ ایک بار حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہِ علیہا کے ہاں دو۲ مہمان حاضِر ہوئے،جو شدید بھوکے تھے، لِہٰذا وہ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ اگر حضرت رابعہ اس وقت انہیں کھانا عطا کردیں تو بَہُت اَچھّا ہو،بلاشبہ ان کے یہاں رِزْقِ حَلال ہی ملے گا۔اس وقت آپ کے گھر میں صِرف دو۲ ہی روٹیاں تھیں جو (ان کی بھوک کے سامنے کچھ بھی نہ تھیں، بہرحال وہ روٹیاں) آپ نے مہمانوں کو پیش کر دیں، ابھی انہوں نے کھانا شروع نہ کیا تھا کہ کسی سائل نے دروازے پر صَدا بُلَند کی تو آپ نے وہ دونوں روٹیاں اٹھا کر اسے دیدیں۔
یہ دیکھ کر وہ دونوں مہمان حیرت زدہ رہ گئے، مگر بولے کچھ نہیں۔کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ ایک کنیز بَہُت سی گرما گرم روٹیاں لئے حاضِرِ خدمت ہوئی اور عرض کی کہ یہ میری مالکہ نے بھجوائی ہیں۔ حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہِ علیہا نے وہ روٹیاں شُمار کیں تو وہ 18 تھیں، یہ دیکھ کر آپ نے کنیز سے فرمایا: شاید تمہیں غَلَط فہمی ہوگئی ہے، یہ روٹیاں میرے یہاں نہیں بلکہ کسی اور کے ہاں بھیجی گئی ہیں۔کنیز نے یقین کے ساتھ عرض کی کہ یہ آپ ہی کیلئے بھجوائی گئی ہیں مگر آپ نے کنیز کے مسلسل اِصْرَار کے باوُجُود روٹیاں واپس لوٹا دیں۔ کنیز نے جب واپس جا کر اپنی مالکہ سے یہ ماجِرا بیان کیا تو اس نے حکْم دیا کہ اس میں مزید دو۲ روٹیوں کا اِضافہ کر کے لے جاؤ، کنیز جب 20 روٹیاں لے کر حاضِر ہوئی تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہا نے قبول فرما لیں اور مہمانوں کی خوب خاطِر تواضُع فرمائی۔کھانے سے فَراغَت کے بعد انہوں نے ماجرا دریافت کیا تو آپ رحمۃُ اللہِ علیہا نے اِرشَاد فرمایا:جب آپ حضرات تشریف لائے تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ آپ بھوکے ہیں۔ جو کچھ گھر میں تھا وہ میں نے پیش کردیا،اتنے میں سائل نے صَدا لگائی تو میں نے وہ دونوں روٹیاں اسے دے کر بارگاہِ خُداوندی میں عرض کی:یااللہ!تیرا وعدہ ایک کے بدلے 10 دینے کا ہے اور مجھے تیرے وعدے پر مُکَمَّل یقین ہے۔جب وہ کنیز 18 روٹیاں لائی تو میں نے سمجھ لیاکہ اس مُعَامَلے میں ضَرور کوئی غَلَطی ہوئی ہے، اس لئے میں نے واپس کر دیں،پھر جب وہ 20 روٹیاں لے کر آئی تو میں نے وعدے کی تکمیل سمجھ کر انہیں قبول کر لیا۔2
#**:کم تر کا برتر ہو جانا
**#
سبحانَ اللہ ! حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہِ علیہا کے یقین کی بَرَکَت سے کم کھانا کثیر کھانے میں تبدیل ہو گیا، حالانکہ عام طور پر ایسا ہوتا نہیں کہ کوئی مہمان کے سامنے سے کھانا اٹھا کر راہِ خُدا میں دیدے اور مہمان بھی وہ جو اس کھانے کے حقیقی حق دار ہوں، چونکہ آپ رحمۃُ اللہِ علیہا بخوبی جان چکی تھیں کہ یہ کھانا مہمانوں کی بھوک کے سامنے کچھ بھی نہیں، لِہٰذا انہوں نے اللہ پاک کے بھروسے پر وہ کھانا صَدَقَہ کر دیا تا کہ وہ رحیم و کریم اللہ انہیں اس تھوڑے سے کھانے کے بدلے میں اتنی مقدار عطا فرمائے جو ان کے مہمانوں کو خوب كِفَایَت کرے۔ چنانچہ اللہ پاک نے بھی حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہِ علیہا کے یقین کی لاج رکھی اور ان کے مہمانوں کے لئے وافِر کھانے کا انتظام فرما دیا۔
جس طرح کرامت کا ظُہُور اللہ پاک کے ولی اور ولیہ کے تَصَرُّف فرمانے سے ہوتا ہے اسی طرح بسا اَوقات اس کے ظہور کے لئے وہ کوئی تَصَرُّف فرماتے ہیں نہ کوئی خواہش رکھتے ہیں، اس وقت ان کرامات کا ظہور اللہ والوں اور والیوں کی شان و عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ ایک مرتبہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت عائشہ صِدِّیقہرضی اللہُ عنہا سے کسی مسکین نے سوال کیا، اس وقت آپ روزے سے تھیں اور گھر میں سوائے ایک روٹی کے کچھ نہ تھا۔آپ نے خادِمہ سے وہ روٹی اس مسکین کو دینے کا حکْم اِرشَاد فرمایا۔ تو اس نے عرض کی:آپ کی اِفطاری کے لئے اس کے سِوا کچھ نہیں ہے۔اِرشَاد فرمایا: (کوئی بات نہیں، بہرحال)اسے وہ روٹی دے دو۔ خادِمہ نے حَسْبِ حکْم وہ روٹی سائل کو دیدی۔ جب شام ہوئی تو کسی نے آپ رضی اللہُ عنہا کی خدمت میں ایک بکری بطورِ ہدیہ بھیج دی۔ لانے والا اس گوشت کو کپڑے میں ڈھانپے ہوئے لے کر آیا۔ تو آپ نے خادِمہ کو بلا کر کہا: لو اس میں سے کھاؤ!یہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے۔3اللہ پاک کی اُن پر رَحْمَت ہو اور ان کے صَدْقے ہماری بے حِساب مغفرت ہو۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
تِرے غلُاموں کا نَقشِ قَدَم ہے راہِ خُدا وہ کیا بہک سکے جو یہ سُراغ لے کے چلے4
#**:اللہ کی نشانی
**#
حضرت اُمِّ شریک دَوسِیَّہ رضی اللہُ عنہا کے پاس چمڑے کا ایک کُپَّہ تھا جسے اکثر لوگوں کو عاریۃً دے دیا کرتی تھیں۔ایک دن انہوں نے اس میں پھونک مار کر اسے دھوپ میں رکھا تو وہ گھی سے بھر گیا۔پھر ہمیشہ اس میں سے گھی نکلتا رہا۔اس بات کا ہر طرف اس قدر چرچا ہوا کہ لوگ عام طور پر یہ کہا کرتے تھے:حضرت اُمِّ شریک رضی اللہُ عنہا کا کُپَّہ اللہ پاک کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔5
1…خصائص کبریٰ، 2/ 82
2 …تذکرۃ الاولیا، ص69
3 … موطا امام مالک، ص524، حدیث:1929
4 …حدائِقِ بخشش، ص369
5…حجۃاللہ علی العالمین، ص623
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع