30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میرے آقائے نِعمت، اعلٰیحضرت، امامِ اہلسنّت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ الْمَرتَبت، پروانۂ شَمْعِ رسالت، مُجَدِّدِ دین و ملّت، پیرِ طریقت، عالِمِ شَرِیْعَت، حامِیِٔ سُنّت، ماحِیِٔ بدعت، باعِثِ خیر و بَرَکت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رَحْمۃُ الرحْمٰن اپنے شُہرۂ آفاق تَرجَمَۂ قرآن کنزُالایمان میں اِس کا ترجَمہ یوں فرماتے ہیں :
مسلمان مردوں کو حُکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کیلئے بَہُت سُتھرا ہے ، بے شک اللہ (عَزَّوجَلَّ) کو اُن کے کاموں کی خبر ہے ۔ اور مسلمان عورتوں کو حُکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگرجتنا خود ہی ظاہِر ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! میرے مَدَنی آقا، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم شرْم وحیا کے باعث اکثر نیچی نگاہیں رکھا کرتے تھے ۔ اور آہ ! ہم میں سے تقریباً ہر کوئی بے دھڑک نگاہیں اٹھائے چاروں طرف دیکھتا ہے اور اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کرتا کہ نگاہ نامَحرَم عورت پر پڑ رہی ہے یا اَمرْد پر ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہمارے مُعاشَرے کا اکثر حصّہ حیاء سے محروم ہے ! تقریباً ہر گھر میں ٹی ۔ وی پر فلموں ڈراموں کے باعث بے پردَگی اور بے حیائی کا ماحول ہے ۔ دُنیوی رسائل، ڈائجسٹ اور ناولیں پڑھ پڑھ کر، اخبارات میں دنیا بھر کی گندی گندی خبریں اورمُخَرِّبِاخلاق مضامین کا مطالعہ کر کر کے اور سڑکوں پر جابجا لگے ہوئے سائن بورڈز اور اخبارات کی بے حیائی سے بھر پور تصاویر دیکھ دیکھ کر ذہنیت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے شاید انہیں وُجوہات کی بناء پراب ماموں زاد، خالہ زاد، چچا زاد، پھوپھی زاد، چچی، تائی مُمانی نیز پڑوسنوں سے پردے کا ذہن نہیں رہا ۔ گھروں میں دیور بھابھی کامعاملہ بھی با لکل بے تکلّفانہ ہے ، دیور بھابھی کے پردہ کا اب تصوُّر ہی کہاں ہے ؟ حالانکہ حدیث شریف میں اس کے بارے میں بہُت سخت حُکم ہے ۔ چُنانچِہ
دیور موت ہے : حضرت سیِّدُناعُقبہ بن عامِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ عورَتوں کے پاس آنے سے بچو ۔ ‘‘ تو ایک انصار ی نے عرض کیا ’’ دیور کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ دَیور موت ہے ۔ ‘‘ (سُنَنُ التِرمِذی ج۲ ص۳۹۱حدیث ۱۱۷۴)
معلوم ہوا دیور و جیٹھ اور بھابھی میں پردے کا عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ سخت حکم ہے ، اگر آپس میں ہنسنے بولنے اور بے پردَگی کا سلسلہ رکھنے سے جہاں بد نگاہی وغیرہ کا گناہ ہوتا رہے گا وہاں ’’ بڑے گناہ ‘‘ کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جائیگا ۔ بلکہ کبھی کبھی ہو بھی جاتا ہے ! آہ ! اگر دیور بے چارہ مدنی ماحول والا ہو اور بھابھی سے کترائے ، شرمائے تو اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، دیور کو چاہئے کہ لاکھ مذاق اُڑے مگر پرواہ نہ کرے ، پردہ کی ترکیب جاری رکھے ورنہ آخِرت کی ندامت بَہُت بھاری پڑ جائے گی ۔ خود کو اس طرح ڈرائے کہ اگر میں نے بھابھی کے ساتھ بدنگاہی کی اورمَعاذَ اللّٰہبروزِ قِیامت آنکھ میں آگ بھر دی گئی تو میرا کیا بنے گا ! البتّہ آپ کی گھر میں سُنی نہیں جاتی تو گھر چھوڑ کر بھاگنے کی بھی ضَرورت نہیں ، لڑ جھگڑ کر گھر میں ٹَینشن بھی مت کھڑا کیجئے ، آپ خود آنکھوں پرقُفلِ مدینہ لگالیجئے ، اپنی نگاہوں کی حِفاظت کیجئے ۔ گھر میں بھابھی ہے یا چچازاد بہنیں وغیرہ یا چچی، تائی یا مُمانی اور جن جن سے شَرِیْعت نے پردے کا حکم دیا ہے ایسی نامحرم عورتیں آتی ہیں تو آپ ان کے سامنے مت جایئے ، کبھی آمنا سامنا ہو جائے تو نِگاہیں نہ اُٹھایئے ، ان کے جسم کو تو کیا ان کے کپڑوں کو بھی نہ دیکھئے ، اگر کبھی بات کرنے کی نوبت آجائے تواِس طرح آنکھیں نیچی رکھئے کہ ان کے وُجود پر نظر ہی نہ پڑے ۔ بے شک آپ کا مذاق اُڑتا رہے ، دنیا میں اگر آپ اس طرح مظلومیّت کی زندگی گزار یں گے تو آخِرت میں اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ سُرخروئی پائیں گے ۔ جب اس طرح کی رشتہ دار عورَتوں کی طرف دیکھنے کو جی چاہے تو اپنے آپ کو اُس عذاب سے ڈرائیں جیسا کہ صاحِبِ ہِدایہ شریف نے نقل کیا ہے : ’’ جو شخص کسی اَجنَبِیّہ کے مَحاسِن (یعنی نامَحرم عورت کی خوبیاں مَثَلاً حُسن و جمال، اُبھار وغیرہ) کو شَہوت سے دیکھے گا اُس کی آنکھوں میں سِیسہ پگھلا کر ڈالا جائیگا ۔ ‘‘ (الھِدَایۃ، الجزء الرابع ص۳۶۸ دار احیاء التراث العربی بیروت)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کانوں کے مُعاملے میں بھی حَیاء اختیار فرمایئے ، مُوسیقی، گانے باجے ، غیبت، چُغلی، فُحش و بے ہودہ گفتگو اور کسی کے عیب ہرگز ہرگز نہ سنیے ۔
منقول ہے : ’’ ان آوازوں پر(جن کا سننا حرام ہے ) جو کان لگائے گا، قِیامت کے دن اسکے کانوں میں پِگھلا ہوا سیسہ بھرا جائے گا ۔ ‘‘ (مُقَّدمہ کَفُّ الرِّعاع) ایک حدیثِ پاک میں ہے : ’’ جو چوری چھپے لوگوں کی باتیں سنتا ہے حالانکہ وہ اسے (یعنی اُس کے سننے کو) نا پسند کرتے ہیں تو بروزِ قیامت اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ اُنڈیلا جائیگا ۔ ‘‘ (صحیحُ البُخارِی ج۴ ص۴۲۲ حدیث ۷۰۴۲ ) ’’ طَبَرانِی ‘‘ میں ایک طویل حدیث میں یہ بھی ہے : ’’ پھر میں نے کچھ ایسے لوگ دیکھے جن کی آنکھیں اور کان کیلوں سے ٹھکے ہوئے تھے دریافت کرنے پر بتایا گیا : یہ وہ لوگ ہیں جو وہ دیکھتے ہیں جوا نہیں نہیں دیکھنا چاہیے اور وہ سنتے ہیں جو انہیں نہیں سننا چاہیے ۔ (یعنی ناجائز دیکھتے اور سنتے ہیں ) (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْرلِلطَّبَرَانِی ج۸ ص۱۵۵ حدیث ۷۶۶۶داراحیاء التراث العربی بیروت)
لباسِ حیاء : میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں تقویٰ اختیار کرتے ہوئے باطِنی طور پر بھی خود کو پاک رکھنا ہے اور سِتر پوش لباس پہن کر ظاہری طور پر بھی بے حیائی سے باز رہنا ہے ۔ اللہ تَعَالٰی پارہ 8 سورۃُ الْاَعراف آیت 26 میں ارشاد فرماتا ہے :
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۲۶) (پ۸ الاعراف ۲۶)
میرے آقائے نِعمت، اعلٰیحضرت، امامِ اہلسنّت، عظیمُ البَرَکت عظیمُ الْمَرتَبت، پروانۂ شمعِ رسالت، مُجَدِّدِ دین و ملّت، پیرِ طریقت، عالِمِ شَرِیْعَت، حامِیٔ سُنّت، ماحِیِٔ بدعت، باعِثِ خیر و بَرَکت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اپنے شُہرئہ آفاق تَرجَمَۂ قرآن کنزُالایمان میں اِس کا ترجَمہ یوں فرماتے ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع