30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پردگیوں اور بد نگاہیوں سے باز آ جائیں ، سُوئمنگ پُول، ساحلِ سَمُندر اور نَہَر پر نہانے میں پاجامے پر موٹے کپڑے کا تہبند یا کوئی سا رنگین موٹا کپڑا ناف سے لیکر گھٹنوں سمیت بدن پر لپٹا ہوا ہو تو بے سِتری سے بچت ہوسکتی ہے ۔
حضرتِ سیِّدُنا یعلیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ اللہ کے حبیب عَزَّوجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص کومیدان میں بے پردہ نہاتے دیکھا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ َّکی حمد و ثناء کے بعد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تَعَالٰی حیاء اور پردے کو پسند فرماتا ہے تو جب تم میں سے کوئی غسل کرے تو اسے پردہ لازم ہے ۔ ‘‘ (سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج۴ ص۵۶ حدیث ۴۰۱۲ )
حَمّامِ عام : حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا : ’’ حمّام میں داخِل ہونا دُرُست نہیں مگر دو چادروں کے ساتھ ایک چادر سِتْر چُھپانے کے لئے اور ایک چادر آنکھوں کیلئے یعنی اپنی آنکھ کو لوگوں کے سِتْروں سے بچائے ۔ ‘‘ (تَنْبِیْہُ الغافِلِین ص۲۵۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اُس دور میں بڑے بڑے حَمَّام ہُوا کرتے تھے جن میں اُجرت دیکر ایک ہی وقت میں بلا امتیازِ مذہب کئی لوگ اکٹھے نہایا کرتے تھے ، اِسی وجہ سے غالباً یہ کہاوَت مشہور ہوئی، ’’ ایک حَمّام میں سب ننگے ‘‘ اسی لئے حضرت سیِّدُنا حسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسلمانوں کو تاکید فرمائی کہ جب حَمّام میں جائیں تو نہ کسی کا سِتْر دیکھیں نہ اپنا سِتْر (پردے کی جگہ) دکھائیں ۔
بد نگاہی سے حافِظہ کمزور ہوتا ہے
حضرتِ علّامہ عبد الغنی نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ’’ اَلْکَشْفُ وَ الْبَیَانُ فِیْمَا یَتَعَلَّقُ بِالنِّسْیَانِ ‘‘ کے صَفْحَہ 27 تا 32پر حافِظہ کمزور کرنے والے جو اسباب تحریر فرمائے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ اپنا اور غَیر کا سِتْر دیکھنے سے تنگدستی آتی اور حافِظہ کمزور ہوتا ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب اپنی شرم گاہ کو دیکھنے سے بھی حافظہ کی کمزوری اور تنگدستی کا وبال آتا ہے تو پھر بدنگاہی کرنے اور فلمیں دیکھنے کے دنیوی و اُخروی نقصانات کا تو پوچھنا ہی کیا !
قَضائے حاجت کے وَقت کی ایک سنّت
حضرتِ سیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے : ’’ نبیِّ اکرم، نورِ مُجسّم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب قَضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو اُس وقت تک مُبارک کپڑا اوپر نہ اٹھاتے جب تک کہ زَمین سے قریب نہ ہو جاتے ۔ ‘‘ (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۱ ص۹۲ حدیث ۱۴) الغَرَض ہر کام میں حَیاء کا اہتمام کرنا ہے ۔
زانی آنکھ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ کے نبی مکّی مَدَنی عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ : ’’ آنکھوں کا زنا بدنگاہی ہے ۔ ‘‘ (صحیحُ البُخارِی ج۴ ص۱۶۹حدیث ۶۲۴۳ )
آنکھوں میں آگ بھر دی جائے گی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خدا کی قسم ! بد نگاہی کا عذاب برداشت نہیں ہو سکے گا، منقول ہے : ’’ جو شخص اپنی آنکھ کو حرام سے پُر کرتا ہے اللہ تَعَالٰی بروز ِقِیامت اسکی آنکھ میں جہَنَّم کی آگ بھر دے گا ۔ ‘‘ (مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص۱۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
عورت کے مَحاسن (یعنی خوبیاں مَثَلاً اُبھار وغیرہ) کو دیکھنا ابلیس کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے ۔ جس نے نامحرم سے آنکھ کی حِفاظت نہ کی بروزِ قیامت اُس کی آنکھ میں جہنَّم کی سَلائی پھیری جائے گی ۔ (بَحرُ الدُّمُوع ص۱۷۱ دارالفجر دمشق)
افسوس ! صد کروڑ افسوس ! ایک طرف گلیوں ، بازاروں اور تَقریبوں میں مردوں اور عورتوں کا اِختِلاط، بد نِگاہیاں اور بے تکلُّفیاں ہیں تو دوسری طرف گھر گھر میں ایک طرح سے سینما گھر کُھل گیا ہے مسلمانوں کی اکثریت ٹی وی وغیرہ کے ذَرِیْعے بدنگاہی میں مُبتَلاء ہے ۔ یاد رکھئے ! ٹی وی پرصرف خبریں دیکھنے والے کا بھی بدنِگاہی سے بچنا سخت دشوارہے کیونکہ اکثر عورت ہی خبریں سنا تی ہے ! پھر طرح طرح کی عورتوں کی تصاویر بھی دکھائی جا تی ہوں گی ۔ اے کاش ! ہم سب کو آنکھوں کا قفلِ مدینہ نصیب ہو جاتا ! کاش ! کاش ! کاش ! ہم سب حیا سے نگاہیں جُھکانے والے بن جاتے !
پارہ اٹھارہ سورۂ نو ر آیت نمبر30اور 31 میں ارشادِ الٰہی ہے :
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ(۳۰)وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع