30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں سورۂ نورکی تفسیر پڑھاؤ کہ سورۂ یوسف میں ایک نِسوانی (یعنی عورت کے ) مَکْر کا ذِکر ہے کہ نازُک شیشیاں ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جائیں گی ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ج۲۴، ص۴۵۵مُلَخَّصاً )
لڑکی کو پہلے ہی سے سنبھالئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سورۂ یوسُف کی تفسیر تک پڑھنے کی جن کو مُمانَعت ہے صد کروڑ افسوس آج کل وہی لڑکیاں رومانی ناول، غیر اخلاقی افسانے اور عِشقیہ و فِسقیہ مضامین خوب پڑھتی ہیں اور بعض تو لکھتی بھی ہونگی، بیہودہ غزلیں اور گانے سنتی اور گاتی ہیں ۔ ٹی ۔ وی، وی ۔ سی ۔ آر وغیرہ پر فلمیں ڈِرامے اور نہ جانے کیا کیا دیکھتی ہیں (اور جن کی حیاء بالکل رخصت ہو وہ) ان میں کام بھی کرتی ہیں ۔ فلمیں ڈِرامے عِشقیہ مناظِر سے پُر ہوتے ہیں ۔ ماں باپ اپنی اولاد کو پہلے سے نہیں سنبھالتے اور پھر جب کوئی لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ ’’ منسوب ‘‘ ہو جاتی ہے تو اب ماں باپ سر پکڑ کر روتے ہیں ۔ جو باپ لڑکی کو کا لج بھیجتے ہیں ، فلمیں ڈرامے دیکھنے سے نہیں روکتے غالِباً ان کی یہ دُنیوی سزا ہو تی ہے ، شاید بازی ہاتھ سے نکل چکی اب اُس کی خواہِش میں آپ کا رُکاوٹ ڈالنا خود کُشی یا قتل و غارتگَری کی نوبت بھی لاسکتا ہے !
مجھے مکَّۂ مکرَّمہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں کسی نے ایک خانماں برباد لڑکی کا خط پڑھنے کو دیا جس میں مضمون کچھ اِس طرح تھا : ہمارے گھر میں . T.V پہلے ہی سے موجود تھا ۔ ہمارے ابُّو کے ہاتھ میں کچھ پیسے آگئے تو ڈِش انٹینا بھی اُٹھا لائے ۔ اب ہم ملکی فلموں کے علاوہ غیر ملکی فلمیں بھی دیکھنے لگے ۔ میری اسکول کی سَہیلی نے مجھے ایک دن کہا : فُلاں ’’ چینل ‘‘ لگاؤگی تو سیکس اپیل (SEX APPEAL) مناظِر کے مزے لوٹنے کو ملیں گے ۔ ایک بار جب میں گھر میں اکیلی تھی تو وہ چینل آن کردیا ’’ جِنْسِیّات ‘‘ کے مختلف مناظِر دیکھ کر میں جِنْسی خواہِش کے سبب آپے سے باہَر ہوگئی، بے تاب ہو کر فوراً گھر سے باہَر نکلی، اِتِّفاق سے ایک کار قریب سے گزررہی تھی جسے ایک نوجوان چلا رہا تھا، کار میں کوئی اور نہ تھا، میں نے اُس سے لِفٹ مانگی، اُس نے مجھے بٹھالیا ..... یہاں تک کہ میں نے اُس کے ساتھ ’’ کالا منہ ‘‘ کرلیا ۔ میری بَکارت ( یعنی کنوار پن ) زائل ہوگئی، میرے ماتھے پر کَلَنک کا ٹیکہ لگ گیا، میں برباد ہوگئی ! مولیٰنا صاحِب ! بتائیے مجرِم کون؟ ‘‘ میں خود یا میرے ابُّو کہ جنہو ں نے گھر میں پہلے . T.V لاکر بسایا اور پھر ڈِش انٹینا بھی لگایا ۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اِس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چَراغ سے
جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کریں وہ دَیُّوث ہیں ، رَحمتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ثَلَاثَۃٌ قَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمُ الْجَنَّۃَ مُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْعَاقُّ وَالدَّیُّوْثُ الَّذِیْ یُقِرُّ فِیْ اَہْلِہِ الْخَبَثَ ۔ (مُسنَد اِمام اَحمد بن حَنبل ج ۲ ص ۳۵۱ حدیث ۵۳۷۲ دارالفکربیروت ) یعنی تین شخص ہیں جن پراللہ عَزَّوَجَلَّ نے جنّت حرام فرما دی ہے ایک تو وہ شخص جو ہمیشہ شراب پئے ، دوسرا وہ شخص جو اپنے ماں باپ کی نافرمانی کرے ، اور تیسرا وہ دیُّوث( یعنی بے حیا) کہ جو اپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ۔
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان اس حدیثِ پاک کے الفاظ ’’ وہ دَیُّوث(یعنی بے حیا) کہ جواپنے گھر والوں میں بے غیرتی کے کاموں کو برقرار رکھے ‘‘ کہ تحت فرماتے ہیں : بعض شارِحین نے فرمایا کہ یہاں خَبَثسے مُراد زِنا ا ور اسبابِ زنا ہیں یعنی جو اپنی بیوی بچّوں کے زِنا یا بے حیائی، بے پردگی، اجنبی مردوں سے اِختلاط، بازاروں میں زینت سے پھرنا، بے حیائی کے گانے ناچ وغیرہ دیکھ کر باوُجود قدرت کے نہ روکے وہ بے حیاء دیّوث ہے ۔ (مراٰۃ ج ۵ ص۳۳۷ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور)معلوم ہوا کہ باوُجُودقدرت اپنی زوجہ، ماں ، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں ، بازاروں ، شاپنگ سینٹروں ، مخلوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے ، اجنبی پڑوسیوں ، نامحرم رشتے داروں ، غیرمَحرم ملازِموں ، چوکیداروں ، ڈرائیوروں سے بے تَکلُّفی اور بے پردَگی سے منع (مَنْ ۔ عْ) نہ کرنے والے سخت اَحْمق، بے حیا، دَیُّوث، جنّت سے محروم اور جہنَّم کے حقدار ہیں ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت، مُجَدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں : ’’ دَیُّوث سخت اَخْبَث فاسِق (ہے ) اور فاسقِ مُعْلِن کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی، اسے امام بنانا حلال نہیں اور اسکے پیچھے نَماز پڑھنی گناہ اور پڑھی تو پَھیرنا واجِب ۔ ‘‘ (فتاوٰی رضویہ ج۶ ص۵۸۳) اگر مرد اپنی حیثیت کے مطابِق مَنْع کرتا ہے اور وہ نہیں مانتیں تو اِس صورت میں اس پر نہ کوئی الزام اور نہ وہ دَیُّوث ۔
حتَّی الْاِمکان بے پردَگی وغیرہ کے مُعَاملہ میں عورَتوں کو روکا جائے ، مگر حکمتِ عملی کے ساتھ، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اپنی زوجہ یا ماں ، بہنوں پر اس طرح کی سختی کر بیٹھیں جس سے گھر کا اَمْن ہی تہ و بالا ہو کر رَہ جائے ۔ ضَرورتاً میرے بیان کی کیسٹیں سنائیے جن میں پردہ کا ذِکْر ہے ۔ مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہبہارِ شریعت حصّہ 16 صَفْحَہ80تا92 سے ’’ دیکھنے اور چُھونے کا بیان ‘‘ پڑھنا پڑھانا یا پڑھ کر سنانا بھی انتہائی مفید ہے ۔ ان کیلئے دلسوزی کے ساتھ دعاء بھی فرماتے رہئے ۔ خود کو اور اہلِ خانہ کو ہر گناہ سے بچانے کی کُڑھن پیدا کیجئے اور کوشِش بھی جاری رکھیں ۔ پارہ 28سورۃُ الـتَّـحرِیْم کی چھٹی آیت کریمہ میں ارشاد خداوندی ہے : (پ۲۸ سورۃُ التَّحرِیْم ۶)
تَرجَمۂ کنزالایمان : ’’ اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اُس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتَّھر ہیں ۔ ‘‘ رَحمتِ عالَم، نورِ مُجسَّم شاہِ بَنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعظّم ہے : ’’ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیّتِہٖ ‘‘ (صحیحُ البُخارِی ج۱ ص۳۰۹ حدیث ۸۹۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت) یعنی ’’ تم سب اپنے مُتَعَلِّقین کے سردار و حاکِم ہو اور حاکِم سے روز قِیامت اسکی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع