دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ba haya Naujawan | باحیا نوجوان

book_icon
باحیا نوجوان

اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مضبوطی کا باعِث اور اسکی عَلامات میں سے ہے ۔  چُنانچِہ

ایمان کی عَلامت

            حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ رسولُ اﷲ عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا :   ’’ ایمان کے ستّرسے زائد شُعْبے (عَلامات) ہیں اور حیاء ایمان کا ایک شُعبہ ہے ۔  ‘‘  (صحِیح مُسلِم ص۳۹ حدیث ۳۵  دار ابن حزم بیروت)

حیاء ایمان سے ہے

            ایک اور حدیث شریف میں ہے :   ’’ حیاء ایمان سے ہے ۔  ‘‘  (مُسْنَدُ ابی یعلیٰ ج۶ ص۲۹۱حدیث ۷۴۶۳  دار الکتب العلمیۃ بیروت) یعنی جس طرح ایمان، مومِن کو کُفر کے اِرتکِاب سے روکتا ہے اِسی طرح حیاء باحیا کو نافرمانیوں سے بچاتی ہے ۔  یوں مَجازاً اسے  ’’ ایمان سے  ‘‘  فرمایا گیا ۔  جس کی مزید وضَاحت و تائید حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی اِس روایت سے ہوتی ہے :   ’’ بے شک حیاء اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے ۔  ‘‘ (اَلْمُسْتَدْرَک لِلْحاکِم  ج۱ ص۱۷۶حدیث ۶۶ دار المعرفۃ بیروت)

کثرتِ حیاء سے مَنع مت کرو

            حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ایک انصار ی کو ملاحَظہ فرمایا :  جو اپنے بھائی کوشَرم وحیاء کیمُتَعَلِّق نصیحت کر رہے تھے ( یعنی کثرتِ حَیاء سے مَنْع کر رہے تھے ) تو فرمایا :   ’’ اسے چھوڑ دو، بے شک حَیاء ایمان سے ہے ۔  ‘‘  (سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد  ج۴ ص۳۳۱ حدیث ۴۷۹۵ دار احیاء التراث العربی بیروت)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  معلوم ہوا حیاء جتنی زیادہ ہو اُتنی ہی چّھی ہے  ۔  جو حیا کمزوری اور احساسِ کمتری کی وجہ سے نہ ہو بلکہ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب ہو اس میں یقینا بھلائی ہی بھلائی ہے چُنانچِہ

 حیاء خیر ہی خیر ہے

            حضرت ِسیِّدُنا عمران بن حُصَیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہاللہ کے  مَحبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم   نے فرمایا :   ’’ حیاء صرف خیر (یعنی بھلائی) ہی لاتی ہے ۔  ‘‘      (صحِیح مُسلِم  ص۴۰حدیث ۳۷)

وَسوَسہ :  یہاں یہ وَسوَسہ آسکتا ہے کہ بعض اوقات حیاء انسان کو حق بات کہنے ، شرعی حُکْم در یافت کرنے ، نیکی کی دعوت دینے ، اور انفِرادی کوشِش کرنے ، وغیرہ مَدَنی کاموں سے روک کر اُسے بھلائی سے محروم کردیتی ہے تو پھر یہ صرف بھلائی تو نہ لائی !  

علاجِ وَسَوسہ ۔  جواب یہ ہے کہ حدیثِ پاک میں حیاء کے شرعی معنٰی (جو اِسی رسالے کے  صَفْحَہ7 پر گزرے ) مراد ہیں اور حیائِ شَرعی کبھی بھی نیکیوں سے نہ روکے گی بلکہ ان پرمزید اُبھارے گی ۔  ابو داوٗد  شریف میں ہے :   ’’ حیاء سب کی سب خیر (یعنی بھلائی) ہے ۔  ‘‘ (سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد   ج۴ ص۳۳۱حدیث  ۴۷۹۶ )

دُولھا لڑکیوں کے جُھرمٹ میں

            افسوس !  صدکروڑ افسوس !  جوان لڑکی اب چادر اور چار دیواری سے  نکل کر مخلوط تعلیم کی نُحُوست میں گرفتار،  ’’ بوائے فرینڈ ‘‘  کے چکّر میں پھنس گئی، اسے جب تک چادر اور چار دیواری میں رہنے کی سعادت حاصل تھی وہ شرمیلی تھی اور اب بھی جو چادر و چار دیواری میں ہوگی وہ اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ باحیا ہی ہوگی ۔  افسوس !  حالات بِالکل بدل چکے ہیں ، اب تواکثر کَنواری لڑکیاں شادیوں میں خوب ناچتیں اور مہندی و مائیوں کی رَسموں وغیرہ میں بے باکانہ بے حیائی کے مظاہَرے کرتی ہیں ، بعض قوموں میں یہ بھی رَواج ہے کہ دولہا نکاح کے بعد رُخصتی سے قبل نامَحرمات کہ جن سے پردہ ضروری ہے اُن جوان لڑکیوں کے جُھرمَٹ میں جاتا ہے اور وہ دولھا کے ساتھ کھینچا تانی و ہنسی مذاق کرتی ہیں یہ سرا سر ناجائز و حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔  الغرض آج کی فیشن ایبل وبے پردہ لڑکیا ں اَفعال و اَقوال ہر لحاظ سے چادرِ حیاء کو تار تار کر رہی ہیں ۔  

غیرت رُخصت ہو گئی

            شرعی مسئَلہ (مَسْ ۔  ئَ ۔  لَہ) ہے کہ  ’’ اگر نِکاح کا وکیل کَنواری لڑکی سے بوقتِ نِکاح اِجازت لے اور وہ (شرما کر) خامو ش رہے تو یہ اِذن مانا جائے گا ۔  ( دُرِّمُختار ج۴ ص۱۵۵، ۱۵۶ دارالمعرفۃ بیروت) معلوم ہوا کہ پہلے دور کی لڑکیاں ایسا کرتی ہوں گی جبھی تو ہمارے فُقَہائے کِرام رَحِمَھُمُ اللّٰہُ السّلام نے یہ مسئلہ تحریر فرمایا ۔ مگر اب تو لڑکیاں اپنے مُنہ سے  ’’ شادی شادی ‘‘  کہتیں بلکہ نامَحرموں کے سامنے بھی شادی کے تذکِرے کرتے ہوئے نہیں شرماتیں ۔  آپ خود ہی بتائیے کہ وہ مُنّا یا مُنّی جو ماں باپ کے پہلو میں بیٹھ کر ٹی ۔  وی اور وی ۔  سی ۔  آر وغیرہ پر فلمیں ڈِرامے ، رقص و سَرود (سَ ۔ رَو ۔ د) کے حیاء سوز مناظِر اورمَردوں اور عورَتوں کے گندے گندے نخرے دیکھیں گے کیا ان میں شرم و حیاء پیدا ہوگی؟ کیا انکے بارے میں یہ اُمّید کی جاسکتی ہے کہ وہ بڑے ہو کر مُعاشَرے کے باحیاء و باکردارا فراد بنیں گے !  

نازُک شیشیاں

            میرے آقا اعلیٰحضرت، ولیِٔ نِعمت، اِمامِ اَہلسُنّت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبَت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، حامیِٔ سنّت، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت،  باعِثِ خَیْر و بَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :   ’’ لڑکیوں کو سورۂ یوسُفکی تفسیر مت پڑھاؤ بلکہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن