دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ba haya Naujawan | باحیا نوجوان

book_icon
باحیا نوجوان

مدنی اُصُولوں سے نابلد، اَخلاق و آداب سے نا آشنا، قوانینِ شَرِیْعَت سے ناواقِف، بے زِمام و لگام، خانگی اور مُعاشَرَتی نِظام کی تباہی و بربادی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بے حیائی اور بد اَخلاقی کا مظاہَرہ کر رہا ہے ۔  

            بیٹا باپ سے آنکھوں میں آنکھیں نہیں گریبان میں ہاتھ ڈال کر بات کر رہا ہے ۔  بیٹی ماں کا ہاتھ اگر چِہ نہیں بٹاتی مگر ماں پر ہاتھ ضَرور اٹھاتی ہے ۔  چھوٹے  ہیں کہ خَلیق نہیں ، بڑے ہیں کہ شفیق نہیں اور دوست ہیں کہ واقِعتاً رفیق نہیں ، بیٹا رحیم نہیں تو باپ حلیم نہیں ، بیٹی تُرش رُو توماں تَلْخ گو ہے ۔  شاگرد حیا دار نہیں تو استاد نیک کردار نہیں ۔  علمِ دین سے محرومی اور مَدَنی ماحول سے دوری کی بِنا پر والِدَین اولاد کی اسلامی تربیّت کررہے ہیں نہ بچّے ماں باپ کی خدمت کر رہے ہیں ۔  اَلْغَرَض ہماری بے ادَبیاں اوربَد لحاظِیاں ہیں کہ جنہوں نے ہماری گھریلو اور معاشَرَتی زندگی کو تَہ و بالا کر کے تَلْخ و تُرش کر کے رکھ دیا ہے ۔  جبکہ ہمارے اَسلاف سنّتوں بھری زندگی گزارنے کے باعث خوش خیال و خوش حال تھے ۔  آئیے مُلاحَظہ فرمائیے کہ ہمارے اسلاف کے حیاء و ادب کا کیا عالَم ہوا کرتا تھا ۔  

حیاء سے سر اُٹھانے کی ہمّت نہ ہوئی

            ایک بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامیسے فرمایا :  بایزید !  طاق سے فُلاں کتاب لے آیئے ۔  عرض کی :  حُضُور ! وہ طاق کہاں ہے ؟ بُزُر گ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے  مُتَعَجِّب ہو کر فرمایا :  ایک عرصہ سے یہاں آ جارہے ہیں مگرآپ نے طاق نہیں دیکھا !  حضرتِ سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی نے بڑے ادب سے عرض کی :  عالی جاہ !  مجھے آپ  کے حُضُور کبھی سر اٹھانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی لہٰذا میں نے وہ طاق نہیں دیکھا ۔  (تذکِرۃُ الاولیاء ج۱ ص۱۳۰ تہران) اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بُزُرگوں کی بارگاہ میں حاضِری کا انداز

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  جس میں جتنی زِیاد ہ حیا ہوتی ہے اُس میں ادب بھی اُتنا ہی زیادہ ہوتا ہے ۔  حضرتِ سیِّدُنا بایزید بسطامی قُدِّسَ سرُّہُ السّامی جو کہ اپنے وَقت کے بَہُت بڑے ولیُّ اللّٰہ تھے ۔  اِکتِسابِ (اِکْ ۔  تِ ۔  ساب) فیض کے لئے ایک بُزُر گ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ایک عرصے تک حاضِری دیتے رہے مگر جب بھی حاضر ہوئے نگاہیں نیچی کئے سر جُھکائے بیٹھے رہتے تھے ، اِسی وجہ سے انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کمرے میں طاق کہاں ہے !  اور ہم لوگ اگر کسی بُزُرگ کے آستانے پر جائیں تو چاروں طرف نظریں گُھما کر وہاں کے ایک ایک کونے کا جب تک مُعایَنہ نہ کر لیں چین نہ پائیں ۔  اِس حِکایت سے ہمیں بھی بزرگوں کی خدمت میں باادب حاضِری کا انداز معلوم ہوگیا ۔  

ع                با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب

آنکھیں پھوٹی ہوئی ہوتیں تو بہتر تھا

            ہمارے اسلاف کسی کے گھر میں اِدھر اُدھر دیکھنے کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔  چُنانچِہ ابنِ اَبی ہُذَیل کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ ابنِ عُمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے ایک مُصاحِب کے ساتھ کسی شخص کے گھر تشریف لے گئے ۔  جب اس کے گھر میں داخِل ہوئے تو ان کا مُصاحِب (یعنی رفیق) اِدھر اُدھر دیکھنے لگا توحضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا :   ’’ اگر تیری دونوں آنکھیں پھوٹی ہوئی ہوتیں تو تیرے لئے بہتر تھا ۔  ‘‘ (اَلْاَدَبُ الْمُفْرَد  ص۳۷۸حدیث ۱۳۰۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

وہ کونسا دَرَخْت ہے ؟ :  ایک موقع پر اللہ  کے رسول، رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے مہکتے پھول عَزَّوجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ارشاد فرمایا :   ’’ مومِن کی مِثال اس دَرْخت کی سی ہے جس کے پتیّ نہیں گِرتے ، بتاؤ وہ کونسا دَرَخت ہے ؟ حاضِرین مُختلف درختو ں کے نام عرض کرنے لگے ۔  حضرتِ سیِّدُنا عبد اﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابہت ذِہین تھے ، فرماتے ہیں کہ میرے ذِہن میں آگیا کہ کَھجور کا درخت ہے لیکن (ادَباً) میں نے بتانے سے حَیاء محسوس کی ۔  پھر حاضِرین نے عرض کی :  یا رسولَ اﷲ !  عَزَّوجَلَّ وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو حضور پُر نور، شاہِ غیورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے فرمایاکہ وہ کَھجور کا دَرَختْ ہے ۔ ( صحِیح مُسلِم ص۱۵۱۰حدیث ۲۸۱۱ ) یہ ہے حیا و ادب کی اعلیٰ ترین مثال !  جب بھی کسی بُزُرگ کی خدمت میں حاضِری ہو تو ذِہن یہی ہونا چاہئے کہ اپنی سنائے چلے جانے کے بجائے ان کے ارشادات سنیں گے ۔  

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! باحیاء، مسلمان بننے کیلئے ہر ماہ کم از کم تین دن کیلئے مَدَنی قافِلوں میں سفر کو اپنا معمول بنا لیجئے اور اِس پر استِقامت پانے کیلئے فکرِ مدینہ کرتے ہوئے روزانہ مَدَنی انعامات کا رِسالہ پُر کر کے ہر مدنی ماہ کی10تاریخ تک اپنے ذمّہ دارکو جمع کروا دیجئے ۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                         صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 یہ رسالہ پڑھ کر دوسرے کو دے دیجئے

                شادی غمی کی تقریبات، اجتماعات، اعراس اور جلوسِ میلاد و غیرہ میں مکتبۃ المدینہ کے شائع کردہ رسائل اور مدنی پھولوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرکے ثواب کمائیے ، گاہکوں کو بہ نیتِ ثواب تحفے میں دینے کیلئے اپنی دکانوں پر بھی رسائل رکھنے کا معمول بنائیے ، اخبار فروشوں یا بچوں کے ذریعے اپنے محلے کے گھر گھر میں ماہانہ کم از کم ایک عدد سنتوں بھرا رسالہ یا مدنی پھولوں کا پمفلٹ پہنچاکر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیے اور خوب ثواب کمائیے ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن