30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے آدم (عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام ) کی اولاد ! بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تماری شَرْم کی چیزیں چھُپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو، اور پرہیز گاری کا لباس وہ سب سے بھَلا، یہ اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں ۔ (لباس تقویٰ سے مراد ایمان، حیاء، نیک عادتیں اور نیک اعمال ہیں )
افسوس کہ اب لباسِ تقویٰ کا باطنی لباس بھی پارہ پارہ ہوا اور ظاہری لباس بھی سنّت کے مطابِق نہ رہا ۔ دل و نگاہ کی قَبائے شرم و حیاء بھی تار تار ہوئی تو لباسِ ستر بھی بے حیائی کے رَخنوں سے محفوظ نہ رَہ سکا ۔ سِتْر پوش، مہذَّب اور خوش وَضْعْ لباس کی جگہ اُلٹی سیدھی تراش خراش کے بے ڈھنگے (کارٹونک) ملبوسات نے لے لی ۔ پہننے میں سردی گرمی کی کوئی خاص مناسبت، نہ سنَّت و حیا داری کا لحاظ ۔ بس لباسِ تنگ میں بمشکِل بند ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں چاہیئے کہ مُہَذَّب انداز پر بیٹھیں ۔ بعض لوگ اوّل تو کپڑے چُست پہنتے ہیں پھر دونوں گُھٹنے کھڑے کرکے انہیں دائیں بائیں پھیلا دیتے ہیں اس طرح مَعاذَ اللّٰہ بَہُت گندا منظر ہوتا ہے ، ایسے حیا سوز موقع پر موجود بَاحَیا لوگ آزمائش میں پڑ جاتے ہیں ۔ مدنی مشورہ ہے اور یہ مَدَنی انعامات میں سے ایک مَدَنی انعام بھی کہ جب بھی سوئیں یا بیٹھیں تو ’’ پردے میں پردہ ‘‘ کر لیا کریں ۔ چُنانچِہ جو سنتوں بھرا لباس پہنتے ہیں ان کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ بیٹھنے سے قبل کھڑے کھڑے چادر کے دونوں سِرے پکڑ کر ناف سے لیکر قدموں تک پھیلا دیں اب بیٹھ جائیں اور چادر کا کچھ حصّہ قدموں تلے دبالیں ۔ جب اُٹھنا چاہیں تو اِسی طرح دونوں ہاتھوں سے چادر تھامے ہوئے کھڑے ہوں ۔ اگر چادر نہ ہو تو اُٹھتے بیٹھتے وقت کُرتے کا دامن اچھی طرح پھیلا لیا کریں ۔ ورنہ اُٹھنے بیٹھنے کے دَوران اکثر سخْت گندا منظر ہوتا ہے ۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کھڑے کھڑے کرتے کا دامن دُرُست کر کے دونوں ہاتھ گُھٹنوں پر رکھ کر ابتِدائً دو زانو بیٹھئے اور اٹھتے وقت بھی دو زانو ہو کر نَماز کے انداز پر اٹھئے ، اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ اُٹھتے بیٹھتے وقت بے پردَگی نہیں ہوگی ۔ اوپر اَوڑھی ہوئی چادر اگر سوتے میں اتر جاتی ہو یا جو الَٹ پَلَٹ ہوتے رہتے ہوں ان کی خدمت میں مَدَنی مشورہ ہے کہ پاجامہ کے اوپر تہبند پہن لیں یا کوئی چادر لپیٹ لیں اور اُوپر سے بھی ایک چادر اَوڑھ لیا کریں ۔ بہتر یہ ہے کہ تہبند کی ایک طرف بیچ میں اس طرح سلائی کر لیں کہ دونوں کونوں میں صرف پاؤں داخِل کرنے کے شگاف باقی رہ جائیں ۔ سوتے وقت اس تہبند کو پہن لیجئے اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلّ اطمینان بخش ’’ پردے میں پردہ ‘‘ ہو جائیگا ۔
تنہائی میں حیاء : سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت سراپا عظمت میں عرض کیا گیا کہ ہم اپنی شرم گاہوں کی کہاں تک حفاظت کریں ؟ ارشاد فرمایا : ’’ زوجہ اور کنیز کے سوا کسی پر ظاہِر نہ ہونے دو ۔ ‘‘ عرض کیا گیا، ’’ اگر تنہائی میں ہوں تو؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا زیادہ حق ہے کہ اُس سے حیا کی جائے ۔ ‘‘ ( سُنَنُ اَ بِی دَاوٗد ج۴ ص۵۷ حدیث ۴۰۱۷)
حدیثِ پاک میں کنیز کا بھی تذکرہ ہے یہ اُس دَور کے اعتبار سے ہے ، اس دور میں غلام و کنیز نایاب ہیں ۔
کلمۂ کُفْر : فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السّلامفرماتے ہیں : ’’ کسی سے کہا گیا ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے حیا کر ‘‘ اُس نے کہا : ’’ میں نہیں کرتا ۔ ‘‘ ایسا کہنا کُفر ہے ۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ ج۵ ص۴۷۰ باب المدینہ کراچی)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اکیلے میں بھی بِلا ضَرورت ننگے ہونے یا سِتْر کُھلا رکھنے وغیرہ سے بچیں ۔ جو لوگ گھر میں ایسے پاجامے پرجس سے پردے کے اَعضاء کا اُبھار نہیں چھپتا صِرف بنیان پہنتے ہیں ان کو شرم آنی چاہئے کہ چلتے پھرتے وقت اکثر گندا منظر ہوتا ہے ، ان کو چاہئے کہ بنیان پر کُرتا بھی پہنے رہیں یا بنیان کے دونوں پہلوؤ ں میں حسب ِضرورت قمیص کی طرح چاک بنا کر آگے اور پیچھے مُناسِب مقدار میں کپڑے کا ایک ایک ٹکڑاسِلائی کروالیں اس طرح بنیان میں قمیص کا انداز آ جائے گا اور اب بنیان پہن کر چلنے پھرنے میں بھی اِن شائَ اللّٰہ ’’ پردے میں پردہ ‘‘ ہو جائیگا ۔ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ دیکھ رہا ہے ۔ اس سچّے عقیدے کے باوُجُود بے حیائی کی حَرَکت پر حیرت بالائے حیرت ہے ۔
مکّی مَدَنی مصطَفٰے ، پیکر شرم وحیاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باصفا ہے : ’’ جب تجھے حیاء نہیں تو تُو جو چاہے کر ۔ ‘‘ ( الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبَّان ج۲ ص ۳ حدیث ۶۰۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت) یہ فرمان تَہدید و تَخویف کے طور پر (یعنی ڈراتے ہوئے اور خوف دلاتے ہوئے ) ہے کہ جو چاہے کرو جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ بُرا (بے حیائی والا کام) کرو گے تو اس کی سزا پاؤ گے ۔
کسی بُزُرگ (بُ ۔ زُرْ ۔ گْ) نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی (جس کا خُلاصہ یہ ہے کہ) ’’ جب گناہ کرتے ہوئے تجھے آسمان و زمین میں سے کسی سے (شرم و حیاء) نہ آئے تو اپنے آپ کو چَوپایوں میں شمار کر ۔ ‘‘
حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا فرمان ہے : ’’ حیاء کی غایت (یعنی انتہا) یہ ہے کہ اپنے آپ سے بھی حیاء کرے ۔ ‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! حیاء اور ادب کا آپس میں گہر ا تعلُّق ہے ، باحیا ہمیشہ باادب بھی ہوتا ہے ، ایک زمانہ تھاکہ ہر مسلمان ایک دوسرے کی عزّت و حُرمت کا پاسدار، حسنِ اَخلاق کا آئینہ دار، باادب و حیاء دار اور سنّتِ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی چلتی پھرتی یاد گار ہوا کرتا ۔ فرزند و دُختر اپنے مادَر و پدر سے اور شاگرد و مرید اپنے استاد و پیر سے آنکھ ملانا تو کُجا، پَیش رُو ہونے سے لَجاتے ، دمِ گفتگو آنکھیں جُھکاتے ، آواز دباتے اور جو حکم ہوتا بجا لاتے ۔ عدمِ موجودگی میں بھی ادب ملحوظ خاطر رہتا اور بڑوں کو نام سے نہیں القاب سے یاد کرتے ۔ الغرض (اَلْ ۔ غَ ۔ رَضْ) ہر آن و ہر گام مرتبہ و مقام کا لحاظ و پاس اور بڑے چھوٹے کی تمیز برقرار رکھتے ۔ مگر افسوس کہ اب ہم میں سے تقریباً ہر مَرد و زَن، دختر و فرزند ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع