30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی نافرمانے سے بہت بچنے والے تھے ان کے اسی وصف کو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ
وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ (1)
ترجمہ : اور وہ اپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا ۔
ماں باپ کی خدمت کی فضیلت:
اس آیت کے تحت علامہ علی بن محمد خازن رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد والدین کی خدمت سے بڑھ کرکوئی طاعت نہیں اور اس پر اللہ تعالیٰ کایہ قول دلالت کرتاہے:
وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ- (2)
ترجمہ : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔(3)
حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی شان اور دلچسپ واقعہ
حضرت خَولہ بنتِ ثَعلبہ رضی اللہ عنہا کا نام تصغیر کے ساتھ خُوَیلہ بھی ذکر کیا گیا ہے ، آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے مشہور قبیلہ ’’خَزْرج ‘‘سے تھا۔ آپ کا نسب اگرچہ بنتِ مالک بن ثعلبہ بن اَصرَم بیان کیا گیا ہے مگر دادا کی طرف نسبت کی وجہ سے آپ کو بنتِ ثعلبہ کہا جاتا ہے۔آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ اوس کے سردار اور مشہور صحابی حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ کے بھائی اَوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں۔ آپ کی امتیازی شان یہ ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی میں پیش آنے والی ایک مشکل کا حل اللہ پاک نے قراٰن ِ پاک میں بیان فرمایا جس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے کسی بات پر اپنی زوجہ حضرت خولہ بنت ِثعلبہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مثل ہے۔ یہ کہنے کے بعد حضرت اَوس رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی ،یہ کلمہ زمانۂ جاہلیّت میں طلاق شمار کیا جاتا تھا ا س لئے حضرت اَوس رضی اللہ عنہ نے اپنی زوجہ سے کہا: میرے خیال میں تو مجھ پر حرام ہوگئی ہے۔حضرت خولہ رضی اللہ عنہا نے سر کارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام واقعات ذکر کئے اور عرض کیا: میرا مال ختم ہوچکا ،ماں باپ وفات پاگئے، عمر زیادہ ہوگئی اوربچے چھوٹے چھوٹے ہیں ،اگر انہیں ان کے باپ کے پاس چھوڑ وں تو ہلاک ہوجائیں گے اور اپنے ساتھ رکھوں تو بھوکے مرجائیں گے،اب ایسی کیا صورت ہے کہ میرے اور میرے شوہر کے درمیان جدائی نہ ہو۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے
[1] … پ16 ،مریم:14
[2] … پ۱۵،بنی اسرائیل:۲۳
[3] … خازن، مریم، تحت الآیہ:14، 3/230
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع