30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(11) آپ کے سواکسی عورت کانام قرآنِ مجید میں نہیں آیا۔
(12)آپ رضی اللہ عنہا جنت میں افضل ترین خواتین میں سے ایک ہیں ۔
(13)آپ رضی اللہ عنہا جنت میں سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اَزواج میں سے ہوں گی ۔
(14)حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ کو کامل خواتین میں شمار فرمایا ۔(1)
حضرت اِیشاع رضی اللہ عنہا
محراب مریم میں بے موسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں فرزند کے لیے دعا کی جو قبول ہوئی اور آپ علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت دی گئی ، اس وقت آپ علیہ السلام نے بطور تعجب بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : اے میرے رب! عزّوجلّ ، میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہوگا حالانکہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ؟ اللہ عزّوجلّ نے فرمایا: اللہ عزّوجلّ یوں ہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ایک قول کے مطابق اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام کی زوجہ کی عمر اٹھانوے سال تھی اور سوال سے مقصود یہ تھا کہ بیٹا کس طرح عطا ہوگا ؟آیا میری جوانی واپس لوٹائی جائے گی اور زوجہ کا بانجھ ہونا دور کیا جائے گا یا ہم دونوں اپنے حال پر رہیں گے؟فرمایا گیا کہ بڑھاپے میں فرزند عطا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں لہٰذا اس بڑھاپے کی حالت میں فرزند ملے گا۔قرآنِ مجید میں ہے :
قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ(۴۰)(2)
ترجمہ :عرض کی :اے میرے رب میرے ہاں لڑکا کیسے پیدا ہوگا حالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی بھی بانجھ ہے؟ اللہ نے فرمایا: اللہ یوں ہی جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
دوسرے مقام پر اس کا ذکر ان لفاظ کے ساتھ ہے :
قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا(۸) قَالَ كَذٰلِكَۚ-قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ
ترجمہ : عرض کی: اے میرے رب! میرے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔ فرمایا: ایسا ہی ہے۔ تیرے
[1] …صحیح بخاری، کتاب الانبیاءباب قولہ تعالیٰ وضرب اللہ مثلاً…الخ،4/158، حدیث:3411
[2] … پ3،آل عمران:40
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع