30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت مریم رضی اللہ عنہا کاخوفزدہ ہونا:
جب حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے تنہائی میں اپنے پاس ایک نوجوان دیکھا تو خوفزدہ ہو کر فرمایا:
اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا(۱۸) (1)
ترجمہ : میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔
حضرت جبریل علیہ السلام کی طرف سے تسلی:
آپ رضی اللہ عنہا کو خوفزدہ دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے ان سےفرمایا:
قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ ﳓ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا(۱۹)(2)
ترجمہ : میں توتیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں تا کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی کو بیٹا دینا در حقیقت اللہ تعالیٰ کا کام ہے ليكن اس آیت میں صراحت سے مذکور ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے بیٹا دینے کی نسبت اپنی طرف فرمائی۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ فرشتے اورمقبول بندے اللہ تعالیٰ کے بعض کاموں کو اپنی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔ قرآن پاک میں دیگر مقامات پر بھی بہت سے وہ کام جو خدا وند ِ قدوس کے ہیں انہیں فرشتوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ ان آیات کی روشنی میں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مسلمان اگر کسی ایسے کام مثلا ًاولاد دینے، مدد کرنے وغیرہا کو کسی مقبولِ بارگاہ یا فرشتے کی طرف منسوب کرے تو اس کے مومن و موحد ہونے کی وجہ سے اس کے متعلق اچھا گمان رکھنا چاہے کہ مومن ایسی جگہوں پر اصل قادر خدا تعالیٰ ہی کو سمجھتا ہے لیکن مقبولانِ بارگاہ کو وسیلہ سمجھتے ہوئے ان کی طرف مدد و نصرت کو منسوب کرتا ہے جیسے اوپر آیت میں جبریل علیہ السلام نے اپنی طرف اولاد دینا منسوب کیا۔
بیٹے کی خبرپر حضرت مریم کی حیرت اور جبریل علیہ السلام کا جواب :
بے ریش نوجوان کی حقیقت معلوم ہونے پر حضرت مریم رضی اللہ عنہا کا خوف تو دور ہو گیا لیکن بیٹے کی خبرسن کرحیرت سےکہنے لگیں:
اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا(۲۰) (3)
ترجمہ : میرے لڑکا کہاں سے ہوگا؟ حالانکہ مجھے تو کسی آدمی نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔
یا درہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی حیرت اس بنا پر ہر گز نہ تھی کہ آپ کو قدرتِ الٰہی سے یہ کام بہت
[1] …پ۱۶،مریم:۱۸
[2] …پ۱۶،مریم: ۱۹
[3] …پ۱۶،مریم:۲۰.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع