30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)بیٹی کو بیٹوں کی طرح رکھا جائے اور رزق کے معاملے حقیقی رازق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا جائے ۔
(3)بیٹی کی تعلیم و تربیت اور دیگر امور میں اس کا ویسے ہی خیال رکھا جائے جیسے بیٹوں کا رکھا جاتا ہے ، ان معاملات میں بیٹوں کو بیٹیوں پر کسی صورت ترجیح نہ دی جائے ۔
(4) یتیم بچیوں کے مال پر قبضہ نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کا مال اپنے مال میں ملا کر ختم کر دیا جائے بلکہ ان کے مال کی حفاظت کی جائے اور بالغ و سمجھدار ہونے پر ان کا مال ان کے سپرد کر دیا جائے ۔
(5) یتیم بچیوں پر کسی بھی طرح کا ظلم و ستم نہ کیا جائے، ان کی اچھے طریقے سے پرورش کی جائے اور ان کے ساتھ ایسے اچھا سلوک کیا جائے جیسے وہ اپنی بچیوں کے ساتھ چاہتے اور کرتے ہیں ۔
(6) وراثت میں عورتوں کا جو حصہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے وہ انہیں بہر صورت دیا جائے اور جذباتی و نفسیاتی کسی بھی طریقے سے دباؤ ڈال کر انہیں اپنا حصہ چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
(7) بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کا کسی نیک سیرت مرد سے نکاح کر دیا جائے۔
(8) نکاح کے معاملے میں عورت پر کسی طرح کی زبردستی اور جبر نہ کیا جائے بلکہ ان کی رضامندی سے نکاح کیا جائے ۔
(9) اسلام کے مقرر کردہ دائرہ کار میں رہتے ہوئے عورت کو بذات خود اپنے شوہر کے انتخاب کا حق بھی حاصل ہے۔
(10)عورت ایک وقت میں ایک ہی مرد کے نکاح میں رہے تاکہ اس سے پیدا ہونے والی اولاد کا نسب محفوظ رہے اور وہ خود بھی زندگی کی آزمائشوں سے بچی رہے۔
(11)مرد اگر عدل و انصاف کر سکتا ہے تو اسے ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے بصورت دیگر وہ ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ ہر گز نکاح نہیں کر سکتا۔
(12)ازدواجی زندگی میں شوہر کو بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اورخوشی کے ساتھ اس کا حق مہر دینا ہو گا اوراپنی طاقت کے مطابق اس کے اخراجات اٹھانے ہوں گے ۔
(13)عورت کے کھانے پینے،لباس، رہائش اور علاج وغیرہ کی تمام تر ذمہ داری مرد پر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع