30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانا ان کی انتہائی عظمت اور مقام و مرتبہ کی بنا پر تھا،یہ کلام نہ تو بطور وحی تھا اور نہ ہی یہ آپ رضی اللہ عنہا کے نبیہ ہونے کی دلیل ہےکیونکہ نبوت کا منصب اللہ تعالیٰ نے صرف مردوں ہی کو عطا فرمایا، کوئی عورت اس منصب پر فائز نہ ہوئی،ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ (1)
ترجمہ :اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے جن کی طرف ہم وحی کرتےتھے۔
عظیم المرتبہ فرزند کی بشارت:
آپ رضی اللہ عنہا کو ایک عظیم المرتبہ فرزند کی بھی بشارت دی گئی ، چنانچہ ایک موقع پر حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ سے فرمایا:
یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵) وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۴۶)(2)
ترجمہ :اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک خاص کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ،عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں بڑی عزت والا ہوگااور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔اور وہ لوگوں سے جھولے میں اور بڑی عمر میں بات کرے گا اور خاص بندوں میں سے ہوگا۔
بیٹے کی بشارت سن کر حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے حیرت سے عرض کی:
قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌؕ- (3)
ترجمہ :اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟حالانکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
یعنی:اے اللہ ! عزّوجلّ میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے ملاپ سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا ، نکاح سے یا یوں ہی بغیر مرد کے؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا:
كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۴۷)(4)
ترجمہ : یوں ہی، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے صرف اتنا فرماتا ہے ، ’’ہوجا‘‘تو وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔
[1] …پ۱۴،النحل:۴۳.
[2] …پ۳،اٰل عمران:۴۶،۴۵.
[3] …پ۳،اٰل عمران:۴۷.
[4] …پ۳،اٰل عمران:۴۷.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع