30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)(1)
پاس پھل پاتے۔ (زکریا نے) سوال کیا، اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ اللہ کی طرف سے ہے، بیشک اللہ جسے چاہتا ہے بے شمار رزق عطا فرماتا ہے۔
یاد رہے کہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے یہ کلام اس وقت کیاتھا جب ان کی عمر بہت چھوٹی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا جُھولے میں پرورش پارہی تھیں۔
فضائل کی بشارت اور عبادت کی تاکید:
ایک بارچند فرشتوں کے ساتھ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور فرمایا:
یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲) یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳) (2)
ترجمہ : اے مریم ، بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔ اے مریم! اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدہ کر واور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
خوب پاکیزہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کو مردوں کے چھونے اور حیض و نفاس وغیرہ سے پاک فرمایا۔ سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کو آپ کے زمانے کی تمام عورتوں سے افضل بنایا یہ مراد نہیں ہے کہ آپ قیامت تک آنے والی تمام خواتین سے افضل ہیں۔ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا جو حکم دیا اس کی تعمیل کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا باپردہ اورمردوں کی صف سے جدا کھڑے ہو کر نماز ادا کرتی ہوں ،یہ بھی ممکن ہے کہ نماز کے وقت مزید عورتیں بھی حاضر ہوتی ہوں اور آپ رضی اللہ عنہا ان کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھتی ہوں۔
منقول ہے کہ عبادت سے متعلق حکم سن کرحضرت مریم رضی اللہ عنہا نے اتنا طویل قیام کیا کہ آپ رضی اللہ عنہا کے قدم مبارک پر ورم آ گیا اور پاؤں پھٹ کر خون جاری ہوگیا ۔(3)
نیزیہاں مزیدایک بات قابل توجہ ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام کا حضرت مریم رضی اللہ عنہا سے کلام
[1] …پ۳،اٰل عمران:۳۷.
[2] …پ۳،اٰل عمران:۴۳،۴۲.
[3] …خازن، ال عمران، تحت الآیہ:43، 1/244
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع