30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ولادتِ مریم اور والدہ کی بارگاہِ الٰہی میں عرض:
حضرت حنَّہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ولادت ہونے سے پہلے ہی حضرت عمران رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ جب ان کے ہاں ولادت ہوئی تو بیٹے کی بجائے بیٹی پیدا ہوئی یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:
رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ- (1)
ترجمہ :اے میرے رب !میں نے تو لڑکی کو جنم دیا ہے۔
یہاں ایک بات قابل توجہ ہے کہ بیٹی کی ولادت ہونےپر حضرت حَنَّہ رضی اللہ عنہا نے اظہارِ افسوس کے طور پر یہ کلمہ کہا۔ان کا یہ افسوس اور حسرت و غم بیٹی پیدا ہونے پر ہر گز نہیں تھا کیونکہ یہ تو کفار کا طریقہ ہے بلکہ اس وجہ سے تھا کہ لڑکی پیدا ہونے کی بنا پر ان کی نذر پوری نہ ہو سکے گی۔
آپ رضی اللہ عنہا نے مزید عرض کی :
وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶) (2)
ترجمہ :اورمیں نے اس بچی کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
حضرت حنَّہ رضی اللہ عنہا نے اپنی دختر حضرت مریم رضی اللہ عنہا اور ان کی اولادکے لیے شیطان کے شر سے پناہ مانگی اور اللہ تعالیٰ نےیہ دعا قبول فرمائی۔ لہٰذا یہ مقبول الفاظ ہیں، اپنی اولادکے لیے ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے رہنا چاہیے، ان شاء اللہ عزّوجلّ کرم ہوگا۔
نذر میں حضرت مریم رضی اللہ عنہا کی قبولیت اور انعامات ِالٰہی:
اللہ تعالیٰ نے نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم رضی اللہ عنہا کو قبول فرما لیااور انہیں احسن انداز میں پروان چڑھایا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے آپ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہا کو بے موسمی پھلوں کا رزق عطا فرمایا ۔ قرآنِ پاک میں ہے:
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًاۙ-وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ-كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ
ترجمہ :تو اس کے رب نے اسے اچھی طرح قبول کیا اور اسے خوب پروان چڑھایا اور زکریا کواس کا نگہبان بنا دیا، جب کبھی زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے تواس کے
[1] …پ۳،اٰل عمران:۳۶.
[2] …پ۳،اٰل عمران:۳۶.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع