30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ(۳۷)(1)
لائیں گے جن کے مقابلے کی انہیں طاقت نہ ہوگی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کرکے نکال دیں گے اور وہ رسوا ہوں گے۔
چنانچہ جب قاصد ہدیئے لے کر بلقیس کے پاس واپس گئے اور تمام واقعات سنائے تو اس نے کہا :بے شک وہ نبی ہیں اور ہمیں اُن سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔پھر بلقیس ایک بہت بڑالشکر لے کرمقابلے کےلئے نہیں بلکہ ملاقات کےلئے آپ علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئی۔(2)
تختِ بلقیس کی بارگاہِ سلیمان میں آمد:
جب بلقیس راستے میں تھی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ(۳۸)(3)
ترجمہ :اے درباریو! تم میں کون ہے جو ان کے میرے پاس فرمانبردار ہوکر آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔
تحت منگوانے سے آپ علیہ السلام کا مقصود یہ تھا کہ اس کا تخت حاضر کرکےاسے معجزہ دکھادیں تاکہ اس پر آپ علیہ السلام کی نبوت کی حقانیت ظاہر ہوجائے کہ معجزہ نبی کی صداقت پر دلیل ہوتا ہے۔بعض مفسرین نے فرمایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چاہا کہ بلقیس کے آنے سے پہلے اس تخت کی ہیئت و صورت بدل دیں اور اس سے اس کی عقل کا امتحان فرمائیں کہ وہ اپنا تخت پہچان سکتی ہے یا نہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی بات سن کرایک بڑے طاقتور خبیث جن نے عرض کی:
اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَۚ-وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ(۳۹)(4)
ترجمہ : میں وہ تخت آپ کی خدمت میں آپ کے اس مقام سے کھڑے ہونے سے پہلے حاضر کردوں گا اور میں بیشک اس پر قوت رکھنے والا، امانتدار ہوں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا میں اس سے جلدی چاہتا ہوں۔یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رضی اللہ عنہ نے عرض کی:
اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ- (5)
ترجمہ : میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔
[1] …پ۱۹،النمل:۳۷.
[2] … خازن،النمل،تحت الآية:۳۷، ۳/۴۱۱-۴۱۲، مدارک، النمل،تحت الآية:۳۷، ص۸۴۷، ملتقطاً.
[3] …پ۱۹،النمل:۳۸.
[4] …پ۱۹،النمل:۳۹.
[5] …پ۱۹،النمل:۴۰.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع