30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ(۳۵)(1)
دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کوذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصدکیا جواب لے کر لوٹتے ہیں ؟
مکتوب کا مضمون سنا کر بلقیس اپنی مملکت کے وزرا ء کی طرف متوجہ ہوئی اور کہا:اے سردارو!میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو، میں کسی معاملے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس حاضر نہ ہو۔سرداروں نے کہا: ہم قوت والے ہیں اور بڑی سخت جنگ لڑ سکتے ہیں ۔ اس سے اُن کی مراد یہ تھی کہ اگر تیری رائے جنگ کی ہو تو ہم لوگ اس کے لئے تیار ہیں کیونکہ ہم بہادر اور شُجاع ہیں ، قوت وتوانائی والے ہیں ، کثیر فوجیں رکھتے ہیں اورجنگ آزما ہیں۔ سرداروں نے مزید کہا کہ صلح یا لڑائی کااختیار توتمہارے ہی پاس ہے،اے ملکہ! تو تم غور کرلو کہ تم کیا حکم دیتی ہو؟ ہم تیری اطاعت کریں گے اور تیرے حکم کے منتظرہیں ۔ اس جواب میں انہوں نے یہ اشارہ کیا کہ اُن کی رائے جنگ کی ہے یا اس جواب سے ان کا مقصدیہ تھا کہ ہم جنگی لوگ ہیں ، رائے اور مشورہ دینا ہمارا کام نہیں ، تم خود صاحب ِعقل اور صاحب ِتدبیر ہو، ہم بہرحال تیری اطاعت کریں گے۔(2)
جب بلقیس نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کی طرف مائل ہیں تو اُس نے انہیں اُن کی رائے کی خطا پر آگاہ کیا اور جنگ کے نتائج سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ جب بادشاہ کسی بستی میں اپنی قوت اور طاقت سے داخل ہوتے ہیں تواسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو قتل کر کے، قیدی بنا کراور ان کی توہین کر کے انہیں ذلیل کردیتے ہیں یہی بادشاہوں کا طریقہ ہے۔ ملکہ بلقیس چونکہ بادشاہوں کی عادت جانتی تھی اِس لئے اُس نے یہ کہا اور اُس کی مراد یہ تھی کہ جنگ مناسب نہیں ہے، اس میں ملک اور اہلِ ملک کی تباہی و بربادی کا خطرہ ہے۔(3)
سرداروں کے سامنے جنگ کے نتائج رکھنے کے بعد ملکہ بلقیس نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا : وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ : اور میں ان کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں ۔ یعنی میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کی قوم کی طرف ایک تحفہ بھیجنے والی ہوں ، پھر دیکھتی ہوں کہ ہمارے قاصدکیا جواب لے کر لوٹتے ہیں ؟جواب سے معلوم ہوجائے گا کہ وہ بادشاہ ہیں یا نبی، کیونکہ بادشاہ عزت و احترام کے ساتھ ہدیہ قبول کرتے ہیں ، ا س
[1] … پ 19، النمل:29-35
[2] … مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ص۸۴۵، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ۳ / ۴۰۹-۴۱۰، ملتقطاً
[3] … مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۳۴، ص۸۴۵، ملخصاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع