30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۹)(1)
ترجمہ : اور عرض کی: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر اداکروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور (مجھے توفیق دے) کہ میں وہ نیک کام کروں جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ملنے پر ا س کی حمد کرتے ہوئے عرض کی : اے میرے رب! عزّوجلّ ، مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر اداکروں جو تو نے نبوت، ملک اور علم عطا فرما کر مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اورمجھے توفیق دے کہ میں بقیہ زندگی میں بھی وہ نیک کام کرو ں جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں کے زمرے میں شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں ۔ خاص قرب کے لائق بندوں سے مراد اَنبیاء ومُرسَلین علیہمُ السّلام اور اولیاء ِکرام رحمۃ اللہ علیہ م ہیں ۔(2)
ملکہ بلقیس کا تذکرہ
”بلقیس“ نام کیسے رکھا گیا؟
بلقیس کا اصل نام ”بلقمۃ“ تھا، مگر مَلِکَہ بننے کے بعد بلقیس رکھ دیا گیا، چنانچہ نشوان بن سعيد حميرى يمني (سالِ وفات:573ھ) نے اپنی کتاب” شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم “ میں ” بلقیس “ نام کے متعلق لکھا: ” بلقیس “ بنیادی طور پر دو اسم ہیں، جنہیں ایک اسم بنایا گیا ہے، جیسا کہ ” حضر موت “ اور ” بعل بک “ ہیں۔ اِس کی حقیقت یہ ہے کہ جب بلقیس اپنے والد ”ہَدہَاد“ کے بعد مَلِکَہ ِ سلطنت بنی تو ”حمیر“ کے بعض لوگوں نے دوسروں سے کہا:باپ کی سیرت اور اندازِ زندگی کے لحاظ سے اِس مَلِکَہ کی سیرت اور زندگی کیسی ہے؟ لوگوں نےجوا ب دیا: بالقيس أي بالقياس ، یعنی سمجھداری کے ساتھ اور باپ کے طریقے کے مطابق ۔ لہٰذا لوگوں کے اِس جواب کی وجہ سے اُس مَلِکَہ کا نام ہی ”بلقیس“ رکھ دیا گیا۔(3)
[1] … پ 19، النمل:19
[2] … خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۴۰۵، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۸۴۲، ملتقطاً
[3] … شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم،1/622
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع