30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتے ہوئے فرمایا:
وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ(۸۰) فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا(۸۱)(1)
ترجمہ : اور وہ جو لڑکا تھا تواس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ لڑکاانہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا۔تو ہم نے چاہا کہ اُن کا رب اُنہیں پاکیزگی میں پہلے سے بہتر اور حسنِ سلوک اوررحمت و شفقت میں زیادہ مہربان عطا کردے۔
ان دونوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے دوسرے فعل کی حکمت بیان کرتے ہوئے حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا تھا، اس کے ماں باپ مسلمان تھے تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ بڑا ہوکر انہیں بھی سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا اور وہ اس لڑکے کی محبت میں دین سے پھر جائیں اور گمراہ ہوجائیں گے، اس لئے ہم نے چاہا کہ ان کا رب عزّوجلّ اس لڑکے سے بہتر ،گناہوں اور نجاستوں سے پاک اور ستھرا اور پہلے سے زیادہ اچھا لڑکا عطا فرمائے جو والدین کے ساتھ ادب سے پیش آئے، ان سے حسنِ سلوک کرے اور ان سے دلی محبت رکھتا ہو۔(2)
’’پاکیزگی میں پہلے سے بہتر‘‘ کی تفسیر میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس کے بدلے ایک مسلمان لڑکا عطا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی عطا کی جو ایک نبی علیہ السلام کے نکاح میں آئی اور اس سے نبی علیہ السلام پیدا ہوئے جن کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے ایک اُمت کو ہدایت دی۔(3)
حضرت سلیمان علیہ السلام کی والدہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کی والدہ ”مومنہ عابدہ صالحہ“ تھیں۔تفسیر روح البیان میں ان کا نام ”بنشاوع“ یا ”بنشاویع بنت شایع“ مذکور ہے۔(4)
بائبل کے مطابق یہ الیعام اور عمی ایل کی بیٹی تھی، دونوں ناموں کا مطلب عبرانی میں یکساں ہے۔
ایک حدیث میں ان کی حضرت سلیمان علیہ السلام کو کی گئی بہت خوبصورت نصیحت کا ذکر ہے چنانچہ ابنِ ماجہ
[1] … پ16 ،الکہف:80-81
[2] … روح البیان، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱، ۵ / ۲۸۵، خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۰-۸۱، ۳ / ۲۲۱، ملتقطاً
[3] … خازن، الکہف، تحت الآیۃ: ۸۱، ۳ / ۲۲۱
[4] … روح البیان، ص، تحت الآیہ:25، 8/22
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع