30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور ساتھ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ کی بہن مریم سے کہا: تم صورت ِحال معلوم کرنے کے لئے اس کے پیچھے چلتی رہو ،چنانچہ آپ علیہ السلام کی بہن آپ کے پیچھے چلتی رہی اور آپ کو دور سے دیکھتی رہی ۔دریائے نیل سے ایک بڑی نہر نکل کر فرعون کے محل میں سے گزرتی تھی ۔ فرعون اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ نہر کے کنارے بیٹھا تھا ، اس نے نہر میں صندوق آتا دیکھ کر غلاموں اور کنیزوں کو اسے نکالنے کا حکم دیا ۔ وہ صندوق نکال کر سامنے لایا گیا اور جب اسے کھولا تو اس میں ایک نورانی شکل کا فرزند جس کی پیشانی سے وجاہت و اِقبال کے آثار نمودار تھے نظر آیا،اسے دیکھتے ہی فرعون کے دل میں اس بچے کی محبت پیدا ہوئی۔(1)
قرآنِ پاک میں ہے:
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًاؕ-اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـٕیْنَ(۸)(2)
ترجمہ :تو اسے فرعون کے گھر والوں نے اٹھالیا تاکہ وہ ان کےلئے دشمن اور غم بنے، بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر خطا کار تھے۔
فرعون کی قوم کے لوگوں نے اسے ورغلایا کہ کہیں یہ وہی بچہ نہ ہو جس کے متعلق خواب دیکھا تھا۔ ان باتوں میں آکر فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیالیکن فرعون کی بیوی حضرت آسیہ نے کہا: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا،تم اسے قتل نہ کرو، ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ فرعون کی بیوی آسیہ بہت نیک خاتون تھیں، انبیاء کرام علیہِم السَّلام کی نسل سے تھیں، غریبوں اور مسکینوں پر رحم و کرم کرتی تھیں، انہوں نے فرعون سے یہ بھی کہا کہ یہ بچہ سال بھر سے زیادہ عمر کا معلوم ہوتا ہے اور تو نے اس سال کے اندر پیدا ہونے والے بچوں کے قتل کا حکم دیا ہے ،اس کے علاوہ معلوم نہیں یہ بچہ دریا میں کس سرزمین سے یہاں آیا ہے اور تجھے جس بچے سے اندیشہ ہے وہ اسی ملک کے بنی اسرائیل سے بتایا گیا ہے، لہذا تم اسے قتل نہ کرو۔ آسیہ کی یہ بات ان لوگوں نے مان لی اور قتل سے باز آگئے۔(3)
قرآنِ کریم میں ہے:
وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ-
ترجمہ :اور فرعون کی بیوی نے فرمایا: یہ بچہ میری اور تیری
[1] … خازن،طہ،تحت الآية:۳۸-۳۹، ۳/۲۵۳.
[2] …پ۲۰،القصص:۸.
[3] … جلالین،القصص،تحت الآية:۹، ص۳۲۶، خازن،القصص،تحت الآية:۹، ۳/۴۲۵، ملتقطاً.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع