30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَى النَّارِ هُدًى(۱۰)(1)
چنگاری لے آؤں یا آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پاؤں ۔
دورانِ سفر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شام کے بادشاہوں (کی طرف سے نقصان پہنچنے)کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں مسافت طے کرنا اختیار فرمایا، چلتے چلتے طور پہاڑکے مغربی جانب پہنچے تویہاں رات کے وقت زوجۂ محترمہ کو دردِ زہ شروع ہوا ، یہ رات اندھیری تھی، برف پڑ رہی تھا اور سردی شدت کی تھی ،اتنے میں آپ علیہ السلام کو دور سے آگ معلوم ہوئی۔(2)
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ دیکھی تواپنی زوجۂ محترمہ سے فرمایا: آپ یہیں ٹھہرو، میں نے ایک جگہ آگ دیکھی ہے، اس لئے میں جا تا ہوں ، شاید میں تمہارے پاس اس آگ میں سے کوئی چنگاری لے آؤں یا مجھے آگ کے پاس کو ئی ایسا شخص مل جائے جس سے درست راستہ پوچھ کر ہم مصرکی طرف روانہ ہو سکیں ۔
زوجہ اہلِ بیت میں داخل ہے:
اس آیت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زوجہ کو’’ اھل ‘‘فرمایا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ بیوی اہلِ بیت میں سے ہوتی ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اَزواجِ مُطَہّرات رضی اللہ عنہنَّ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا عظمت و شان والی خاتون ہیں، قرآن مجید میں ان کا تذکرہ بہت عظمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ آپ فرعون کی بیوی تھیں لیکن اس کے باوجود حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائیں ۔آپ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ قرآن مجید میں پہلے تو اس ضمن میں ہے کہ جب فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو ان کی والدہ چند روز دودھ پلاتی رہیں لیکن جب کچھ دنوں بعد والدہ رضی اللہ عنہا کو فرعون کی طرف سے اندیشہ ہوا توانہوں نے ایک صندوق بنایا ، اس میں روئی بچھائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس میں رکھ کر صندوق بند کیا اوراس کی درزیں روغنِ قیر سے بند کر دیں، پھر اسے دریائے نیل میں بہا دیا۔ (3)
[1] … پ16،طہ:9-10
[2] … تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ : ۹ ، ۸ / ۱۵ ، خازن، طہ، تحت الآیۃ : ۹ ، ۳ / ۲۴۹-۲۵۰ ، ملتقطًا
[3] … خازن،القصص،تحت الآية:۷، ۳/۴۲۳، مدارک،القصص،تحت الآية:۷، ص۸۶۱، جلالین،القصص،تحت الآية:۷، ص۳۲۶، ملتقطاً.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع