30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صوفیاءِ کرام فرماتے ہیں کہ بظاہر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بکریاں چروانا تھا ، مگر درحقیقت ان کو اپنی صحبت ِپاک میں رکھ کر کَلِیْمُ اللہ بننے کی صلاحیت پیدا کرنا تھا،لہٰذا یہ آیت صوفیاءِ کرام کے چِلّوں اور مرشد کے گھر رہ کر ان کی خدمت کرنے کی بڑی دلیل ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا معاہدہ:
قرآنِ مجید میں ہے:
قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍۚ-فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَۚ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَؕ-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۲۷)قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَؕ-اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠(۲۸)(1)
ترجمہ : (انہوں نے) فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ اس مہر پر تمہارا نکاح کردوں کہ تم آٹھ سال تک میری ملازمت کرو پھر اگر تم دس سال پورے کردو تووہ (اضافہ) تمہاری طرف سے ہوگا اور میں تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ ان شآء اللہ عنقریب تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے۔موسیٰ نے جواب دیا: یہ میرے اور آپ کے درمیان (معاہدہ طے) ہے۔ میں ان دونوں میں سے جو بھی مدت پوری کردوں تو مجھ پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی اور ہماری اس گفتگو پر الله نگہبان ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی بات سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا:میرے اور آپ کے درمیان یہ معاہدہ طے ہے اور ہم دونوں ا س معاہدے کی پوری طرح پاسداری کریں گے البتہ جب میں 8 یا 10 سال دونوں میں سے ملازمت کی جو مدت پوری کر دوں تو اس سے زیادہ مدت تک ملازمت کرنے کا مجھ سے کوئی مطالبہ نہ ہو گا، اور ہمارے اس معاہدے پر اللہ تعالیٰ نگہبان ہے لہٰذا ہم میں سے کسی ایک کے لئے بھی اس معاہدے سے پھرنے کی کوئی راہ نہیں ۔(2)
[1] … پ20، القصص:27-28
[2] … خازن ، القصص ، تحت الآیۃ : ۲۸ ، ۳ / ۴۳۱ ، مدارک ، القصص ، تحت الآیۃ : ۲۸، ص۸۶۸، روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۲۸، ۶ / ۳۹۹، جلالین، القصص، تحت الآیۃ: ۲۸، ص۳۲۹، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع