30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیا اور ان دونوں خواتین کے جانوروں کو پانی پلا دیا ۔اس وقت دھوپ اور گرمی کی شدت تھی اور آپ علیہ السلام نے کئی روز سے کھانا نہیں کھایا تھا جس کی وجہ سے بھوک کا غلبہ تھا، اس لئے جانوروں کو پانی پلانے کے بعد آرام حاصل کرنے کی غرض سے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! عزّوجلّ میں اس کھانے کی طرف محتاج ہوں جو تو میرے لیے اتارے۔(1)
جب وہ دونوں صاحب زادیاں اس دن بہت جلد اپنے مکان پر واپس تشریف لے آئیں تو ان کے والد ماجد نے فرمایا: آج اس قدر جلد واپس آ جانے کا کیا سبب ہوا ؟انہوں نے عرض کی: ہم نے کنویں کے پاس ایک نیک مرد پایا، اس نے ہم پر رحم کیا اور ہمارے جانوروں کو سیراب کر دیا اس پر ان کے والد صاحب نے ایک صاحبزادی سے فرمایا کہ جاؤ اور اس نیک مرد کو میرے پاس بلا لاؤ ۔ چنانچہ ان دونوں میں سے ایک صاحب زادی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چہرہ آستین سے ڈھکے، جسم چھپائے، شرم سے چلتی ہوئی آئی۔ یہ بڑی صاحبزادی تھیں ، ان کا نام صفوراء ہے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھوٹی صاحبزادی تھیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچ کر انہوں نے کہا:میرے والد آپ کو بلارہے ہیں تاکہ آپ کو اس کام کی مزدوری دیں جوآپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اجرت لینے پر تو راضی نہ ہوئے لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی زیارت اور ان سے ملاقات کرنے کے ارادے سے چلے اور ان صاحبزادی صاحبہ سے فرمایا کہ آپ میرے پیچھے رہ کر رستہ بتاتی جائیے۔ یہ آپ علیہ السلام نے پردہ کے اہتمام کے لئے فرمایا اور اس طرح تشریف لائے ۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس پہنچے تو کھانا حاضر تھا، حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھئے کھانا کھائیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی یہ بات منظور نہ کی اور فرمایا:میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا: کھانا نہ کھانے کی کیا وجہ ہے، کیا آپ کو بھوک نہیں ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ کھانا میرے اُس عمل کا عِوَض نہ ہو جائے جو میں نے آپ کے جانوروں کو پانی پلا کر انجام دیا ہے، کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں کہ نیک عمل پر عوض لینا قبول نہیں کرتے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا: اے جوان! ایسا نہیں ہے، یہ کھانا آپ کے عمل کے عوض میں نہیں بلکہ میری اور میرے آباؤ اَجداد کی عادت ہے کہ ہم مہمان نوازی کیا کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں ۔یہ سن کر حضرت موسیٰ
[1] … خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴، ۳ / ۴۲۹، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۲۳-۲۴، ص۸۶۵-۸۶۶، ملتقطاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع